سیکیورٹی ذرائع نے ’’المرصاد‘‘ کو بتایا ہے کہ بلوچستان میں خوارج کا ایک اہم پاکستانی کمانڈر اپنے تاجک ساتھی سمیت ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، عاصم بلوچ کے نام سے مشہور یہ کمانڈر بنیادی طور پر بلوچستان کے علاقے مستونگ کا رہائشی تھا، تاہم مستونگ میں خوارج کے ٹھکانوں پر کارروائیوں کے بعد وہ بے گھر ہوگیا تھا۔ کچھ دیر قبل خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے اُسے اپنے ایک غیر ملکی ساتھی کے ہمراہ قتل کردیا۔
مزید کہا گیا کہ عاصم کے ساتھ مارا جانے والا تاجک شہری حال ہی میں خوارج کی صفوں میں شامل ہوا تھا اور عاصم کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
داعش خراسان ماضی میں افغانستان کے اندر مختلف حملوں کے لیے تاجکستانی شہریوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔
عاصم بلوچ اور اس کے تاجک ساتھی کی ہلاکت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز پاکستان کے شہر کراچی میں حسن نامی ایک اور داعشی ذمہ دار کے قتل کی اطلاع ملی تھی۔ حسن کا تعلق پشاور سے تھا، وہ خراسانی خوارج کے جنگجوؤں کا ٹرینر اور افغانستان کے اندر ہونے والے حملوں کا سہولت کار رہ چکا تھا۔




















































