ایسے حالات میں جب جنگ اور تشدد کا ماحول غالب ہو، اکثر لوگ صرف واقعات کی ظاہری شکل میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے پسِ پردہ موجود بنیادی اسباب اور مقاصد پر کم توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ واقعات کے حقیقی عوامل کی پہچان، حوصلہ برقرار رکھنے اور منفی پروپیگنڈے کے اثرات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بہر حال، پاکستان نے جمہوریہ کے دور کے بعض حلقوں کی طرح یہ گمان کیا تھا کہ موجودہ نظام کے برسرِ اقتدار آنے کے ساتھ ہی افغانستان، تجربے کی کمی اور حکومتی مہارتوں کے فقدان کی وجہ سے مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ اسی طرح وہ یہ توقع بھی رکھتے تھے کہ جمہوریہ کی باقی ماندہ شخصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کے اور نئے نظام کے درمیان اختلافات پیدا کر کے عدم استحکام کی فضا قائم کریں گے اور اسی صورتِ حال سے ہر سال اربوں ڈالر کا فائدہ حاصل کریں گے۔
وہ یہ سمجھتے تھے کہ سابقہ ڈھانچے میں بدعنوانی اتنی گہری جڑیں پکڑ چکی ہے کہ اسے قابو کرنا نئے نظام کے بس سے باہر ہوگا۔ لیکن تبدیلیاں ان کے اندازوں کے برخلاف سامنے آئیں۔ انہیں یہ توقع نہ تھی کہ بدعنوانی اور مفسد چہروں کو تیزی سے منظر سے ہٹا دیا جائے گا، یا یہ کہ افغانستان خطے کے ممالک جیسے ایران، ازبکستان، روس اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی طرف بڑھے گا۔ اسی طرح یہ بھی اندازہ نہیں کیا گیا تھا کہ تجارتی اجارہ داری کم ہوگی، سرحدیں ضرورت کے وقت بند کی جائیں گی اور خارجہ پالیسی روس، چین اور حتیٰ کہ بھارت تک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی طرف مائل ہوگی۔
دوسری جانب، بعض ممالک میں سفارت خانوں کو فعال کرنا، بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کی کوششیں، داخلی طور پر فیکٹریوں کا قیام، مقامی پیداوار کو مضبوط بنانا اور اقتصادی خود کفالت کی طرف پیش رفت، یہ سب وہ تبدیلیاں تھیں جو ان کی توقعات سے باہر تھیں۔ اسی طرح بنیادی ڈھانچے پر توجہ، آبی وسائل کا انتظام، سڑکوں کی توسیع، عسکری صلاحیتوں کی تشکیل اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کی از سرِ نو تعمیر، یہ سب ایک ایسے راستے کی نشانیاں تھیں جو ابتدائی اندازوں سے مکمل طور پر مختلف تھا۔
ان تبدیلیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا، یہاں تک کہ اس ملک کی زیادہ تر کارروائیاں منظم منصوبہ بندی کے بجائے ردِعمل اور گھبراہٹ کا رنگ اختیار کر گئیں۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی مساوات بعض فریقوں کی توقعات کے برعکس تبدیل ہو رہی ہیں۔
ایسے حالات میں، وہ چیز جس کی بنیادی اہمیت ہے، لوگوں کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی، شعور اور استقامت کو برقرار رکھنا ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو اندر سے مضبوط ہو اور حالات کا درست ادراک رکھتا ہو، بیرونی خطرات کے مقابلے میں کم نقصان اٹھاتا ہے۔
آخر میں، تبدیلیوں کی حقیقی بنیاد کو پہچاننا، قومی اتحاد کو برقرار رکھنا اور مزاحمت کے جذبے کو مضبوط کرنا وہ اہم عوامل ہیں جو کسی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ثابت قدم رکھ سکتے ہیں۔
شعور اور باہمی ہمدردی کے بغیر، ہر معاشرہ پروپیگنڈے اور بحرانوں کے سامنے کمزور ہوتا ہے، لیکن بصیرت اور اتحاد کی موجودگی میں مستقبل کا راستہ زیادہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔




















































