برصغیر میں اسلام کی آٹھ سو سالہ حکمرانی نے اپنی جڑیں لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں تک جما لی تھیں۔ برطانوی استعمار اور مسلمانوں کے زوال کے بعد بھی اس سرزمین میں بلند میناروں سے اذان کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ یہاں مسلمانوں کی نسلیں یکے بعد دیگرے آباد رہیں، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور آزادی کے حصول میں پیش پیش بھی یہی مومن قومیں تھیں۔
پاکستان کے قیام کی داستان محض ایک سیاسی واقعہ یا جغرافیائی تقسیم نہیں، بلکہ ایمان، فکر اور شناخت کی ایک گہری لہر تھی جو مسلمانوں کے دلوں میں اٹھی۔ اس مقدس تصور نے اسلامی اقدار، عقیدے کی وابستگی اور امت کے اتحاد کے خیال سے جنم لیا تھا۔ جب برصغیر کے مسلمان برطانوی ہند کی تقسیم کے دہانے پر کھڑے تھے، تو وہ صرف ایک محدود خطے کی علیحدگی نہیں چاہتے تھے، بلکہ ایک ایسے ملک کے خواہاں تھے جہاں اسلام کے پاکیزہ اصولوں کے مطابق زندگی بسر کی جائے، اسلام کو حاکمیت حاصل ہو اور “لا إله إلا الله” کے سائے تلے امن و سکون کی زندگی میسر ہو۔
اس تحریک کی اصل قوت ایک باہمت اور غیور مسلم عوام تھی۔ یہ وہ قوم تھی جو عقیدے کی روشنی میں بیدار ہو چکی تھی اور اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکی تھی۔ ان کا ایمان تھا کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سیاست، معیشت اور زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ برصغیر کی وہ سرزمین جو ابھی حال ہی میں برطانوی استعمار سے آزاد ہوئی تھی، مسلمانوں کا یہ مسلمہ حق تھا کہ وہ اپنے دین، ثقافت اور تاریخ کے مطابق وہاں ایک آزاد نظام قائم کریں جہاں اسلام حاکم ہو اور وہ ایک اسلامی سرزمین پر زندگی گزار سکیں۔
اسی مقصد کے حصول کے لیے علمائے دین، فکری رہنما اور عام عوام سب نے مل کر جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی رہنمائی سے روشنی حاصل کی اور عدل و اخوت کی بنیاد پر ایک اسلامی معاشرے کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد صرف سیاست نہیں تھی بلکہ اسلامی فکر، امت کے شعور اور ایک خودمختار اسلامی نظام کے خواب میں پیوست تھی۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جہاں ایمان نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور عوام نے اپنے دین کے تحفظ کے لیے ایک نئی مملکت کو جنم دیا۔
لیکن سب کچھ توقعات اور تصورات کے برعکس ہوا, اسلام اور شریعت کے نفاذ کے نعرے کے تحت قائم ہونے والا یہ ملک دوبارہ مغرب کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ اسلامی شریعت کے بجائے مغرب کے وضع کردہ قوانین اور جمہوریت نافذ کی گئی، جبکہ سیکولرزم اور جمہوریت عوام پر مسلط کر دی گئی۔
ایک ایسا طبقہ اقتدار میں آیا جو مغربی مفادات کے لیے خود مغربیوں سے بھی بڑھ کر وفادار ثابت ہوا۔ جس دن سے اس فوجی رجیم نے اقتدار سنبھالا، اس نے اسلام، امت اور اپنے ہی عوام کے ساتھ دشمنی کا رویہ اختیار کیا، مغرب اور امریکہ کے منصوبوں کو آگے بڑھایا اور معمولی مادی فائدوں کے بدلے اپنے عوام اور اقدار کو فروخت کیا۔
اس کے امتیازی رویے نے قوموں اور طبقات کے درمیان گہرے اختلافات کو جنم دیا، یہاں تک کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنا دشمن سمجھنے لگا۔ ایک قوم بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہے جبکہ دوسری آسودہ حال زندگی گزار رہی ہے۔ جب سے یہ طبقہ برسرِ اقتدار آیا ہے، بھاری ٹیکسوں اور قرضوں نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ یہی حکمران ذاتی طیاروں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
اے پاکستان کے غیور عوام!
یہ وہی فوج اور طاغوتی عناصر ہیں جنہوں نے آپ کے سینکڑوں عرب مجاہد بھائیوں کو, جو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آئے تھے اور جنہوں نے اللہ کی مدد سے سوویت یونین کی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا, دھوکے اور فریب سے امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔
اسی فوج نے افغانستان کی جنگ میں عالمی افواج کو اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، اور اسی سرزمین سے جنگیں لڑی گئیں۔ اسی طرح ایک مسلمان خاتون، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، کئی سالوں سے قید میں ہیں اور ان کا معاملہ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمیشہ موضوعِ بحث رہا ہے۔ اس رجیم نے ہزاروں نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر لاپتہ کیا، لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کیا، اور ماؤں اور بیویوں کو اپنے پیاروں کے انتظار میں چھوڑ دیا۔
اے مومن و غیور عوام!
اب وقت آ چکا ہے کہ اپنے حالات پر غور کیا جائے، عدل، اتحاد اور اصلاح کے لیے شعوری اقدامات کیے جائیں، اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جائز راستے اختیار کیے جائیں۔
اے مسلمان بھائیو! انسان کو عزت، وقار اور انصاف کے لیے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ ظلم کے سائے تلے زندگی گزارنے کے لیے۔ آپ کا ضمیر، ایمان اور فطرت آپ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ حق کو پہچانیں، انصاف کا مطالبہ کریں اور اپنے انسانی وقار کا تحفظ کریں۔ جو شخص حق کا راستہ اختیار کرتا ہے، اگرچہ وہ کٹھن ہو، مگر اس کا انجام فتح، عزت اور سربلندی ہی ہوتا ہے۔




















































