جب پختونخوا میں بدامنی کی بات ہوتی ہے تو لوگوں کی توجہ غیر شعوری طور پر تیراہ کے پہاڑوں اور دور دراز وادیوں کی طرف مبذول ہو جاتی ہے، ان علاقوں کی طرف جو برسوں سے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کی محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ لیکن اس دوران سب سے زیادہ تشویش ناک بات صرف ان علاقوں میں داعش کی موجودگی نہیں، بلکہ پاکستانی فوجی رجیم کی مہلک خاموشی اور خفیہ شراکت داری بھی ہے، جس نے نہ صرف اس گروہ کی موجودگی برداشت کی ہے بلکہ بہت سے مواقع پر اس کی سرگرمیوں کے لیے زمین بھی ہموار کی ہے۔ آج پختونخوا داعش خراسان کے لیے ایک خفیہ جنت بن چکی ہے، جو پاکستان کی نااہلی اور اس سے بھی بڑھ کر، اس ملک کی فوج کی اسٹریٹیجک خواہش کے سائے میں وجود میں آئی ہے۔
شواہد اور اعترافات نے اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر بعض حلقے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے داعش سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ داعش سانپ کی مانند ہے، جو بھی اس سانپ کو پالے گا، آخرکار اسی سانپ کے ڈسے جانے کا شکار ہوگا۔ یہ بیانات محض سیاسی الزامات نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں جو متعدد رپورٹوں میں بھی منعکس ہوئی ہے اور جس کا انکار ناممکن ہے۔
متعدد رپورٹوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ داعش خراسان پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ سے منظرِ عام پر آئی اور اس کی قیادت ایک پاکستانی شہری کے سپرد کی گئی۔ ان رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ داعش کے مالی، پروپیگنڈا اور آپریشنل مراکز پاکستانی فوج کی جانب سے منظم اور چلائے جاتے ہیں اور اس گروہ کی سرگرمیوں کا تسلسل پاکستانی رجیم کی انٹیلی جنس اور لاجسٹک معاونت کے بغیر ناممکن ہے۔
اس معاونت کے آثار روزمرہ کے واقعات اور خطے کی حقیقی صورتِ حال میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ داعش کے ایک گرفتار رکن نے اپنے اعترافات میں بتایا ہے کہ افغانستان بھیجے جانے سے پہلے اس نے پاکستان کے شہر کوئٹہ کے پہاڑوں میں عسکری اور فکری تربیت حاصل کی تھی۔ دوسری رپورٹوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ داعش میں نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کو کراچی اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں قائم تربیتی کیمپوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔ منتقلی اور تربیت کا یہ سلسلہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی ہم آہنگی کے بغیر عملی طور پر ناممکن ہے۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان ایسے گروہ کے لیے اس قسم کے مراکز اور سہولتیں کیوں فراہم کرتا ہے جس کے حملوں کا نشانہ وہ خود بھی بن چکا ہے؟
اس کا جواب ’’اسٹریٹیجک گہرائی‘‘ کے تصور میں پوشیدہ ہے، یہی وہ منطق ہے جس نے کئی دہائیوں سے پاکستانی فوج کو انتہا پسند گروہوں کی آگ سے کھیلنے پر آمادہ کر رکھا ہے۔ اس حساب سے داعش دشمن نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جسے ہمسایہ ممالک، بالخصوص افغانستان، پر دباؤ ڈالنے اور ان علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اسلام آباد کے مکمل کنٹرول میں نہیں ہیں۔
لیکن یہ آلہ ہمسایہ ممالک کے لیے جتنا خطرناک ہے، اتنا ہی پاکستان کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ فروری 2026ء میں اسلام آباد کی ایک شیعہ عبادت گاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں، جس میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، یہ حقیقت سامنے آئی کہ پالا ہوا ’’سانپ‘‘ آخرکار اپنے پالنے والے کو بھی ڈس لیتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی فوجی رجیم نے اپنی تباہ کن پالیسی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستانی حکام نے اپنے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر افغانستان پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ ’’دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے‘‘ اور سرحدوں کی نگرانی کے لیے ایک ’’قابلِ تصدیق نظام‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شائع شدہ مستند شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان میں داعش کے تربیتی مراکز پاکستان کے اپنے سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔ ذمہ داری سے فرار پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کی ایک مستقل روایت بن چکا ہے۔ جب بھی اس ملک کی سرزمین پر خونریز حملے ہوتے ہیں تو الزام کی انگلی کابل کی طرف اٹھا دی جاتی ہے، حالانکہ ان حملوں کی جڑیں خود پاکستان کی سرزمین اور اس ملک کی انٹیلی جنس پالیسیوں میں پیوست ہیں۔
اس صورتِ حال کا خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ پختونخوا میں موجود داعش افغانستان اور پورے خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کا سدباب نہ کیا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصانات سامنے آئیں گے۔ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد گروہ کسی خطے میں مضبوط ہو جاتے ہیں تو جلد یا بدیر سرحدیں عبور کر لیتے ہیں اور بدامنی کو ہمسایہ علاقوں تک بھی پھیلا دیتے ہیں۔ افغانستان، جو خود کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں اس خطرے سے زیادہ دوچار ہے۔
وسطی ایشیا بھی سرحدوں کے ساتھ داعش کی مختلف شاخوں کی موجودگی کے باعث بدامنی پھیلنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم نے اپنی دوغلی پالیسی جاری رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے قومی سکیورٹی مفادات کو قربان کیا ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کو بھی یرغمال بنا لیا ہے۔
آج پختونخوا پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کے اصل چہرے کا آئینہ ہے، جس میں نااہلی اور بدنیتی باہم گھل مل گئی ہیں۔ جب تک یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی اور پاکستان داعش کی تربیت میں اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا، نہ افغانستان پائیدار امن حاصل کر سکے گا اور نہ خطہ سکون کا سانس لے سکے گا۔ پختونخوا میں داعش ایک ایسے ٹائم بم کی مانند ہے جس کے پھٹنے کا وقت خود اسلام آباد نے مقرر کیا ہے، لیکن دھماکا ہونے تک کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔


















































