یہودیوں کی مذموم صفات کے سلسلے میں اس حصے میں ہم ان کی ایک اور شریر صفت کا جائزہ لیں گے۔
۱۲ ـ اللہ تعالیٰ پر بہتان اور افترا باندھنا
یہودیوں نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک مختلف قسم کے برے اعمال انجام دیے ہیں جنہیں دیکھ کر ہر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ انہی اعمال میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افترا، جھوٹ اور بہتان باندھتے ہیں۔ یہ اخلاقی گراوٹ کی سب سے نچلی سطح اور گمراہی و سرکشی کی آخری حد ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور پروردگار کے بارے میں جھوٹی باتیں گھڑے اور اس کی پاک ذات کی طرف غلط نسبتیں کرے۔
یہودیوں نے مختلف زمانوں میں اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے جھوٹ باندھے۔ کبھی وہ اپنے آپ کو اللہ کے محبوب اور خاص بندے قرار دیتے، کبھی جنت کو صرف اپنے لیے مخصوص سمجھتے، کبھی کہتے کہ ہمیں جہنم کی آگ صرف چند دن ہی چھوئے گی، اور کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور شریعت میں تحریف و تبدیلی کرتے۔ قرآنِ عظیم الشان نے ان کی اس بری صفت کو متعدد آیات میں بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتے ہیں:
﴿انْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُبِينًا﴾
(النساء: ۵۰)
ترجمہ: “دیکھو! یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں، اور یہی ان کے لیے کھلا گناہ کافی ہے۔”
علامہ ابنِ کثیر الدمشقی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«وقوله: (انظر كيف يفترون على الله الكذب) أي: في تزكيتهم أنفسهم ودعواهم أنهم أبناء الله وأحباؤه، وقولهم: (لن يدخل الجنة إلا من كان هودا أو نصارى) وقولهم: (لن تمسنا النار إلا أياما معدودة)، ثم قال: (وكفى به إثما مبينا) أي: وكفى بصنعهم هذا كذبا وافتراء ظاهرا.»
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿انْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو! یہ لوگ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ یہ جھوٹ ان کی خود ستائی اور اپنے آپ کو پاک قرار دینے کی صورت میں تھا، کیونکہ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ “ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔” اسی طرح وہ کہتے تھے: “جنت میں صرف یہودی اور عیسائی داخل ہوں گے”، اور یہ بھی کہتے تھے کہ “جہنم کی آگ ہمیں صرف چند گنے ہوئے دنوں تک پہنچے گی۔”
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُبِينًا﴾ یعنی ان کا یہی عمل کھلے جھوٹ اور واضح بہتان کے لیے کافی ہے۔
علامہ عبد الرحمن السعدی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
«انْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ، أي: بتزكيتهم أنفسهم، لأن هذا من أعظم الافتراء على الله، لأن مضمون تزكيتهم لأنفسهم الإخبار بأن الله جعل ما هم عليه حقا وما عليه المؤمنون المسلمون باطلا، وهذا أعظم الكذب وقلب الحقائق بجعل الحق باطلا والباطل حقا، ولهذا قال: (وكفى به إثما مبينا) أي: ظاهرا بينا موجبا للعقوبة البليغة والعذاب الأليم.»
ترجمہ: یہودیوں کا اپنی تعریف کرنا اور اپنے آپ کو پاک سمجھنا اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑے جھوٹوں میں سے تھا، کیونکہ اس کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور مؤمن مسلمان باطل پر ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اس طرح وہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کرتے تھے، اور یہی سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی انہی جھوٹی باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ﴾
(البقرة: ۱۱۱)
ترجمہ: “اور انہوں نے کہا: جنت میں صرف یہودی یا عیسائی داخل ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں اور باطل دعوے ہیں۔”
اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کی ایک اور جھوٹی بات بیان کرتے ہیں:
﴿وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾
(البقرة: ۸۰)
ترجمہ: “اور انہوں نے کہا: ہمیں آگ صرف چند گنے ہوئے دن ہی چھوئے گی۔ کہہ دیجیے: کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لے رکھا ہے کہ اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا؟ یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں؟”
یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ پر افترا اور بے بنیاد دعوے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ایمان اور نیک اعمال کے بغیر نجات کا وعدہ نہیں دیا۔ اس صفت کی اصل وجہ ان کا غرور اور تکبر تھا، اسی لیے وہ اپنے آپ کو تمام مخلوقات سے افضل سمجھتے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے۔


















































