افغانستان میں پاکستان کے حالیہ فوجی حملوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا رہائشی علاقوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا واقعی اس حکومت کے داخلی، سکیورٹی اور سیاسی مسائل حل کر سکتا ہے؟ اگر ان حملوں کے دوران بے گناہ شہری متاثر ہوتے ہیں، تو معاملہ صرف ایک فوجی اقدام تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسے حساس اور اہم مسئلے میں تبدیل ہو جائے گا جس کے اثرات اور نتائج دونوں ممالک کی سرحدوں سے باہر تک پھیل جائیں گے۔
پاکستان گزشتہ برسوں میں اپنی ناکام پالیسیوں کے باعث متعدد داخلی مسائل سے دوچار ہوا ہے، بدامنی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے لے کر معاشی مشکلات اور معاشرتی دباؤ تک۔ اب مذکورہ رجیم مختلف طریقوں سے اپنی ان ناکامیوں اور رسوائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ درحقیقت، وہ افغانستان کے خلاف ان حملوں کے ذریعے کچھ عرصے کے لیے لوگوں کی توجہ اپنی داخلی مشکلات سے ہٹانا چاہتی ہے، لیکن اس طرح کی ناکام حکمتِ عملی نہ تو اس بدامنی کو ختم کر سکتی ہے جس کے پیدا ہونے کی راہ خود اسی نے ہموار کی ہے، اور نہ ہی اس ملک کے معاشی، معاشرتی اور دیگر مسائل حل کر سکتی ہے۔
پاکستان کے عوام کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ خطے میں مسلسل فوجی تنازعات کی قیمت کون ادا کرے گا؟ وہ معیشت جو پہلے ہی متعدد مشکلات اور دباؤ سے دوچار ہے، استحکام اور ترقی کے بجائے کب تک ایک ناکام اور بحران زدہ سکیورٹی پالیسی کے اخراجات اپنے کندھوں پر اٹھاتی رہے گی؟
دوسری جانب، ان گروہوں کا مسئلہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے ہتھیار اٹھائے ہیں اور ماضی میں ان کے خلاف پاکستان کی حکومتوں کی پالیسیوں نے بھی موجودہ صورتِ حال پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
مذکورہ رجیم گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل یہ کوشش کرتی آئی ہے کہ اپنی داخلی مشکلات اور اپنی بدانتظامی کا بوجھ دوسروں کے سر ڈالے اور اسی سلسلے میں دوسرے ممالک کی سکیورٹی کو بھی خطرے سے دوچار کرے۔ سب کے لیے واضح ہے کہ افغانستان میں یہ حملے، جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، بالآخر قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور اسی معاشرے کو اپنے برے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جسے ان مقاصد کے لیے ابتدا میں استعمال کیا گیا ہے۔
اگر آج افغانستان کو مختلف بہانوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ان دعووں اور بہانوں کے مقابلے میں مؤثر راستہ یہی ہے کہ مذکورہ رجیم اپنی ماضی کی ناکام تجربات سے عبرت حاصل کرے۔ اگر وہ سمجھتی ہے کہ افغان عوام طاقت کے ذریعے اس کی خواہش کے سامنے سر جھکا دیں گے، تو یہ امید اپنے ساتھ قبر میں لے جائے، کیونکہ اس آزاد قوم نے اب تک بارہا اپنی صلاحیت اور عزم ثابت کیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو حملہ آوروں کو نکال باہر کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی اور جان نثاری سے دریغ نہیں کرے گی اور ان کی ناکیں خاک و خون میں رگڑ دے گی۔
افغانستان اور پاکستان کے عوام بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہ کٹھ پتلی حکومت کبھی بھی اپنے وعدوں اور معاہدوں کی وفادار نہیں رہی اور ہمیشہ فریب اور غدر کی راہ اختیار کرتی رہی ہے۔ ایسی مزدور، غدار اور عیاش حکومت کبھی بھی اپنے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان کے مطالبات کا جواب دے سکتی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے عوام کو سب سے بڑھ کر یہ حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ بدامنی اب بھی کیوں جاری ہے؟ معیشت دباؤ میں کیوں ہے؟ اور گزشتہ کئی دہائیوں کی پالیسیاں اب بھی اس ملک پر اپنے بھاری نتائج کیوں مسلط کر رہی ہیں؟ کیا ان سوالات اور پاکستان کی داخلی مشکلات کا جواب اس ملک کی سرحدوں سے باہر، شہریوں کو نشانہ بنانے میں تلاش کیا جانا چاہیے؟
افغانستان اور پاکستان دو ہمسایہ ممالک ہیں۔ اگر مذکورہ رجیم اپنی داخلی مشکلات کے حل کا واحد راستہ اپنی سرحدوں سے باہر تلاش کرتی ہے اور افغانستان کے خلاف جارحیت کو اپنی داخلی بے چینی کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرتی ہے، تو اسے اپنے ان مظالم اور برے اقدامات کے نتائج و عواقب سے آگاہ ہونا چاہیے۔



















































