موجودہ دور کے خوارج اور ان کی پرورش کی بنیادیں:
داعشی گروہ نئے دور کے خوارج کے طور پر سماجی، سیاسی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کے ملاپ کا نتیجہ تھا، جو ایک تباہ کن مشین کی طرح بے سمت نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتا رہا۔ یہ انتہا پسند گروہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بیانیہ نہیں تھا بلکہ بحران زدہ معاشروں میں برسوں سے ڈالی گئی بنیادوں کا حاصل تھا۔
سماجی پہلو میں، قبائلی اور روایتی معاشرے جو جدیدیت سے برسرِ پیکار تھے، ان انتہا پسند اور زہریلے نظریات کی افزائش کے لیے زرخیز زمین بن گئے۔ ان معاشروں کے وہ نوجوان جن کے پاس نہ روایتی شناخت تھی اور نہ ہی جدید دنیا میں کوئی مقام، آسانی سے انتہا پسند شکاریوں کے جال میں پھنس گئے۔ داعش نے اس نسل کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو ایک ایسا محفوظ مقام ظاہر کیا جہاں انہیں شناخت مل سکتی تھی۔
سیاسی میدان میں، آمر حکومتوں کی منظم ناانصافیاں اور جبر نے مشرقِ وسطیٰ کے لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں غصے کی آگ بھڑکادی۔ ان نئے اُبھرنے والے خوارج نے اس سیاسی غصے کو مذہبی کینے میں بدل کر نوجوانوں کی احتجاجی توانائی کو تباہ کن راستے پر لگا دیا۔ انہوں نے ’’جہاد‘‘ اور ’’ظلم کے خلاف جدوجہد‘‘ جیسے تصورات کو بگاڑ کر سیاسی تشدد کو مقدس بنا دیا۔
عراق پر امریکی قبضے اور شام کی جنگ جیسے بحرانوں نے داعش کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے آپ کو مظلوموں کا محافظ ظاہر کرے، حالانکہ حقیقت میں یہ گروہ خطے کے عوام پر سب سے بڑا ظلم ڈھانے والا تھا۔
معاشی لحاظ سے غربت اور طویل بے روزگاری اس انتہا پسند گروہ کی بھرتی کا سب سے مؤثر ہتھیار تھا۔ عراق اور شام کے پسماندہ علاقوں میں، جہاں نوجوان ایک معمولی نوکری کی امید بھی کھو چکے تھے، داعش نے مالی وعدوں اور فلاحی سہولیات کے لالچ دے کر انہیں اپنے جال میں پھنسایا۔ داعش کے کئی غیر ملکی جنگجو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ بھاری تنخواہوں کی وجہ سے اس گروہ میں شامل ہوئے تھے۔ ان نئے خوارج نے جنگ کو معیشت کا ذریعہ بنا دیا تھا؛ ایسی معیشت جس میں عوام کا مال لوٹنا آمدنی کا بنیادی وسیلہ سمجھا جاتا تھا، اور یہی غیر مستحکم معیشتی ذرائع بالآخر داعش کی شکست اور خاتمے کا باعث بنے۔
تاہم سب سے گہرا پہلو نفسیاتی عوامل تھے۔ داعش اچھی طرح جانتی تھی کہ نوجوانوں کی تنہائی، عدم شناخت اور بے معنویت کے احساسات سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے۔ یورپ میں وہ تارکینِ وطن نوجوان، جو نہ مکمل طور پر مغربی ہو سکے تھے اور نہ اپنے تہذیب و ثقافت کی طرف پلٹ سکتے تھے، انتہا پسند بھرتی کرنے والوں کے لیے آسان شکار بنے۔ اس گروہ نے ایک مصنوعی شناخت اور جھوٹے تعلق کا احساس پیدا کر کے ان کے جذباتی خلا کو پُر کیا۔
ان نوجوانوں کی اکثریت نظریاتی وابستگی کے بجائے اشتعال اور جذباتی ہیجان کی تلاش میں تھی۔ داعشی درندوں نے ’’خلافت‘‘ کے سائے میں زندگی کی پُرکشش ویڈیوز دکھا کر انہی نفسیاتی ضرورتوں کو نشانہ بنایا تھا۔
نتیجہ یہ کہ داعش کے تجربے سے تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد ہر ہر پہلو سے بنیادی علاج مانگتی ہے۔ صرف سماجی انصاف، سیاسی استحکام، معاشی خوشحالی اور نفسیاتی صحت کو یقینی بنا کر ہم اس طرح کے گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کو روک سکتے ہیں۔ ماضی اور حال کے خوارج ہمیشہ ناانصافی اور مایوسیوں سے خوراک لیتے آئے ہیں، اور ان کا مقابلہ محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ ایسی معاشرت کی تعمیر سے ممکن ہے، جہاں کوئی نوجوان یہ محسوس نہ کرے کہ شناخت اور معنویت کی تلاش میں اسے انتہا پسندی کا سہارا لینا پڑے۔




















































