حالیہ دنوں میں ترک ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ ترکی کے انٹیلی جنس ادارے (MIT) نے پاکستان کی سرزمین پر ایک کامیاب انٹیلی جنس کارروائی کے دوران داعش کے انتہائی مطلوب ترک کمانڈر اوغور بہادر کو گرفتار کرکے ترکی منتقل کر دیا ہے۔ یہ محض کسی عام شخص کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کا کوئی جواز باقی نہیں رہنا چاہیے کہ داعش کے محفوظ ٹھکانے، تربیتی مراکز اور معاونتی نیٹ ورک پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں۔
اوغور بہادر کا معاملہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ 2024ء میں ترکی سے براہِ راست اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچتا ہے، وہاں سے بلا کسی رکاوٹ کے بلوچستان کے ضلع مستونگ جاتا ہے، جہاں داعش کے ایک منظم تربیتی مرکز میں تربیت کے چھٹے سیشن میں شرکت کرتا ہے اور عبدالرحمن کے فرضی نام سے سرگرمیاں شروع کر دیتا ہے۔ بعد ازاں اسے خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی منتقل کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد کس طرح اتنی آسانی سے ایک ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آمدورفت کر سکتا ہے، فوجی تربیت حاصل کر سکتا ہے اور مسلح گروہوں میں شامل ہو سکتا ہے؟ ریاستی سرپرستی کے بغیر اس طرح کی سرگرمیوں کا انجام پانا ناممکن ہے۔
حیرت انگیز تضاد یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان ترکی کے ساتھ بڑے دفاعی معاہدوں پر دستخط کرتا ہے، 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اسی سال 21 اکتوبر کو دوحہ میں بدر معاہدہ، جن میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی بات کی گئی ہے، لیکن دوسری طرف اسی پاکستان کی سرزمین پر ایسے عناصر کو تربیت دی جا رہی ہے جو نہ صرف ترکی بلکہ پوری دنیا کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر یہ عناصر پاکستان میں موجود نہ ہوتے تو ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کو پاکستان کی سرزمین پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ دنیا کی تمام حکومتوں کو اس واقعے کی نہایت سنجیدگی سے تحقیقات کرنی چاہییں۔
امارت اسلامیہ افغانستان نے متعدد مرتبہ پاکستان کو خبردار کیا ہے اور شواہد پیش کرکے اسے بتایا ہے کہ داعش کے مراکز پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں اور انہیں ختم کیا جانا چاہیے، لیکن پاکستان نے نہ صرف ان مراکز کے خاتمے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ ان عناصر کو پاکستان کے متعلقہ تربیتی مراکز میں تربیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان کا مقصد سب پر واضح ہے، وہ داعشی عناصر کو منظم کرنا اور انہیں افغانستان کے خلاف پروکسی جنگ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، تاکہ افغانستان میں قائم واحد اسلامی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکے۔ لیکن پاکستان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آج جس سانپ کو وہ افغانستان کے لیے اپنی آستین میں پال رہا ہے، کل وہی سانپ اس کے لیے اور اس کے اتحادی ترکی کے لیے بھی ایک بہت بڑا دردِ سر بن جائے گا۔
یاد رکھیں! داعش کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس گروہ نے کبھی کسی کے ساتھ وفاداری نہیں کی، بلکہ ہمیشہ سب سے پہلے اپنے سرپرستوں اور تربیت دینے والوں کو ہی ڈسا ہے۔
جب داعش ابتدائی دور میں افغانستان آئی تو امارت اسلامیہ نے ایک حد تک اس کے ساتھ نرمی برتی، کیونکہ اس وقت امارت اسلامیہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھی اور اپنے دشمنوں کی تعداد کم کرنا چاہتی تھی۔ لیکن جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ لوگ مجاہدین کا روپ دھارے ہوئے اسلام کے دشمن بھی ہیں تو امارت اسلامیہ نے ان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔
اس کے بعد داعش نے سب سے زیادہ حملے عام افغان مسلمانوں پر کیے۔ مساجد، مدارس، ہسپتالوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر اس نے ثابت کر دیا کہ اس کا اصل مقصد اسلامی نظام کا استحکام نہیں، بلکہ مسلمانوں کا خون بہانا ہے۔
داعش اس سے پہلے ترکی کے ساتھ بھی خیانت کر چکی ہے۔ ترکی نے شام کی جنگ کے ابتدائی دور میں بعض جہادی گروہوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا تھا، تاکہ بشارالاسد کی حکومت کمزور ہو۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ داعش نے ترکی ہی کی سرزمین پر انقرہ، استنبول اور سوروچ میں خونریز حملے کیے، جن میں سینکڑوں ترک شہری مارے گئے۔ اس کے بعد ترکی مجبور ہوا کہ اپنے انٹیلی جنس ادارے (MIT) کے ذریعے داعش کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کرے۔
آج پاکستان سے اوغور بہادر جیسے ترک شہریوں کی گرفتاری اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ داعش کے عقیدے کے مطابق پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور افغانستان سمیت تمام موجودہ اسلامی ریاستیں طاغوتی ہیں اور ان کا خاتمہ واجب ہے۔ داعش نہ کسی دفاعی معاہدے کو تسلیم کرتی ہے، نہ سرحدوں کو اور نہ ہی آئین کو۔ اس گروہ کے نزدیک مکہ اور بدر، دونوں معاہدے باطل ہیں۔
اگر آج داعش کا کوئی رکن پاکستان کے کسی تربیتی مرکز میں اس مقصد کے تحت مقیم ہے کہ اسے افغانستان بھیجا جائے، تو کل وہ اسی مرکز سے نکل کر اسلام آباد، لاہور اور انقرہ میں بھی حملے کرے گا، کیونکہ داعش کے نزدیک یہ تمام ممالک یکساں طور پر دشمن ہیں۔ اسی لیے پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ داعش کے کرائے کے قاتلوں کو استعمال کرنے کی پالیسی سیاسی اور سکیورٹی کے اعتبار سے خودکشی کے مترادف ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو آج افغانستان کو جلانے کے لیے بھڑکائی جا رہی ہے، لیکن کل یہی آگ پاکستان اور اس کے نئے اتحادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔


















































