کہا جاتا ہے کہ جب کسی نظام کے سقوط کے دن قریب آ جائیں تو وہ نظام باؤلے کتے کی طرح ہو جاتا ہے۔ اسے یہ فکر نہیں ہوتی کہ اسے بچنا کیسے ہے، بلکہ صرف یہ جنون ہوتا ہے کہ گرتے گرتے وہ کتنوں کو کاٹ سکتا ہے۔ آج پاکستان کی حالت کو دیکھ کر یہ تشبیہ کسی فلسفے سے زیادہ ایک زندہ حقیقت لگتی ہے۔
ایک صحت مند نظام تنقید سنتا ہے، سوال کو برداشت کرتا ہے، اختلاف کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھتا ہے، لیکن جب نظام اپنی اخلاقی، معاشی اور سیاسی ساکھ کھو بیٹھے تو وہ دلیل سے نہیں، ڈنڈے سے بات کرتا ہے۔ اس کے سامنے پھر نصحیت اور تنقید برائے تنقید میں کوئی فرق نظر نہیں اتا۔ ہر کسی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو آج پاکستان میں ہو بہو یہی کچھ چل رہا ہے۔
معیشت میں دیکھیں تو غریب آدمی پس رہا ہے، تنخواہوں میں اضافے کے بجائے مزید کمی آ رہی ہے اور وہ بھی وقت پر نہیں مل رہی ۔دوسری طرف بجلی، گیس، آٹا، ہر چیز کی قیمت آسمان پر ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے باہر جانے کی لائنوں میں لگے ہیں۔ اتنی گھمبیر صورت حال میں حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ حلنکا راستہ تلاش کرے لیکن یہاں تو نظام اس کا حل دینے کے بجائے متکبرانہ لہجے میں کہتا ہے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔۔۔اگر تمہیں ٹھیک نہیں لگ رہا تو تم ہی ملک دشمن ہو۔ملک کی ترقی تم سے برداشت نہیں ہوتی۔۔ تم ( را) کے ایجنٹ ہوں ، تم افغانی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔۔
یہی حالت سیاست کی ہے کہ اختلاف رائے کو دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔ صحافی اگر سوال کرے تو غائب، سوشل میڈیا پر لکھنے والا اگر سچ بولے تو اس کا اکاؤنٹ بند، وکیل اگر آئین کی بات کرے تو عدالتوں کے چکر۔ اور پھر وہ تمام تر عدالتیں بھی ان کے کنٹرول میں۔۔ یاد رکھو!!!!یہ طاقت کی نشانی نہیں ہے، بلکہ یہ خوف کی نشانی ہے۔ طاقتور نظام کو مائیک بند کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ کمزور نظام ہوتا ہے جس کو ہر آواز سے ڈر لگتا ہے۔
یہی تو باؤلے کتے کی کیفیت ہے۔ ہر کسی کو کاٹنے میں لگے ہیں حلانکہ کاٹنا حل نہیں لیکن ظاہر سی بات ہے جب عقل ختم ہو جائے تو دانت ہی ہتھیار رہ جاتے ہیں۔ وہ ہر کسی کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے، استاد کو، طالب علم کو، مزدور کو، صحافی کو، یہاں تک کہ اپنے ہی ان لوگوں کو جو کل تک اس کی حفاظت کرتے تھے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔۔۔۔۔
خبردار!!!!
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظام اپنے شہریوں کو کاٹ کر زندہ نہیں رہا۔ نظام زندہ رہتے ہیں انصاف سے، برداشت سے، اور اس ہمت سے کہ اس میں غلطی ماننے کی صلاحیت ہو۔۔جب تک یہ ہمت پیدا نہیں ہوگی، یہ کاٹنے کا سلسلہ جاری رہے گا، اور ہر کاٹا ہوا زخم اس نظام کے آخری دن کو ایک دن اور قریب کرتا رہے گا۔


















































