عید الاضحیٰ کے مبارک ایام کا خیر و عافیت کے ساتھ گزر جانا اور پورے افغانستان میں کسی بھی قسم کے سکیورٹی واقعے کا پیش نہ آنا محض ایک انتظامی کامیابی نہیں، بلکہ یہ نظام کی مشروعیت، دفاعی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تخریبی گروہوں کی فکری و مادی شکست اور عوامی تعاون کے درمیان ایک گہرے اور منطقی تعلق کا نتیجہ ہے۔ جب ہم اس بے مثال امن و امان کا سیاسی اور علمی جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ استحکام کی یہ مثال کئی اہم عوامل کی باہمی ہم آہنگی اور ربط کا ثمر ہے۔
اس کامیابی کے پس منظر میں سب سے نمایاں عنصر ایک واحد اور شرعی مرکزیت کا وجود ہے۔ سیاسی علوم میں حکومتی استحکام کا پہلا اصول یہ ہے کہ مختلف اور متوازی طاقت کے مراکز کا خاتمہ کیا جائے اور پوری جغرافیائی حدود میں قانون کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جائے۔ موجودہ نظام کی شرعی اور دینی نوعیت نے اس امر کو ممکن بنایا ہے کہ فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ یہی فیصلہ کن امر و نہی براہِ راست سکیورٹی اداروں (انٹیلی جنس، دفاع اور داخلہ کے محکموں) کی صفوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی صفوں میں فکری اور دینی جذبے نے ان کی ذمہ داری کو ایک الٰہی حکم اور شرعی فریضے کا رنگ دیا ہے۔ اسی بنا پر عید جیسے حساس مواقع پر ان کی نگرانی، سراغ رسانی اور انسداد کی صلاحیت بلند رہی، کیونکہ وہ محض تنخواہ یا مراعات کے لیے نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر معاشرے کا دفاع کر رہے تھے۔ نظام کا یہی اقتدار اور فورسز کی یہی دینی بیداری فتنہ گروں اور داعشی خوارج کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کا بنیادی سبب بنی ہے۔
تخریبی گروہوں کی حکمتِ عملی ہمیشہ اس بنیاد پر قائم رہی ہے کہ عوامی مقامات اور مذہبی مواقع کو نشانہ بنا کر معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جائے اور نظام کی بالادستی کو کمزور ظاہر کیا جائے۔ لیکن جب نظام کے انٹیلی جنس اور سرویلنس ادارے عوام کے درمیان مضبوط جڑیں رکھتے ہوں اور دفاع کے بجائے فعال و پیش قدمی کی پوزیشن میں ہوں تو ایسے فتنہ گروہوں کے مالیاتی اور حملہ آور نیٹ ورک ابتدا ہی میں ناکام بنا دیے جاتے ہیں۔
عید کے دنوں میں داعشی خوارج کی مکمل خاموشی اور بے بسی اس حقیقت کی غماز ہے کہ وہ افغانستان میں نہ صرف اپنے مادی ٹھکانے کھو چکے ہیں بلکہ نظام کی سنجیدہ اور مسلسل انٹیلی جنس نگرانی کے باعث عملی منصوبہ بندی کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ یہاں اس زنجیر کی سب سے اہم کڑی، یعنی عوامی اطمینان اور رضامندی سامنے آتی ہے، جو مذکورہ تینوں عوامل کا براہِ راست نتیجہ بھی ہے اور ان کے لیے تقویت کا ذریعہ بھی۔ جب شرعی نظام استحکام پیدا کرتا ہے اور اس کی فورسز فتنہ گروں کے منصوبوں کو ناکام بناتی ہیں تو معاشرے میں اعتماد اور نفسیاتی سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔
عید الاضحیٰ کے دنوں میں لوگوں کا بے خوف و خطر گھومنا پھرنا اور آمد و رفت کا غیر معمولی رش اسی اعتماد کا مظہر تھا۔ تاہم یہ رضامندی یک طرفہ نہیں ہوتی، جب عوام امن و امان کے ثمرات سے بہرہ مند ہوتے ہیں تو وہ خود نظام کے استحکام اور بقا کے حقیقی معاون بن جاتے ہیں۔ لوگ رضاکارانہ طور پر سکیورٹی اداروں کی آنکھیں اور کان بن جاتے ہیں اور اپنے علاقوں میں فتنہ گروں کی دراندازی یا سرگرمیوں کی ہر کوشش سے متعلق معلومات متعلقہ اداروں تک پہنچاتے ہیں۔ درحقیقت داعشی خوارج کے لیے عوامی حمایت اور سماجی بنیاد کا فقدان اسی عوامی رضامندی کا نتیجہ ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی مقدس سرزمین میں عید الاضحیٰ کے ان حساس لمحات کے دوران امن و امان کا یہ منظر ایک خاص اور مربوط فارمولے کا حامل ہے: حکمران شرعی نظام کا شرعی عزم، سکیورٹی فورسز کی دینی صلاحیت کو تشکیل دیتا ہے، سکیورٹی فورسز کی یہ صلاحیت فتنہ گروں کے مذموم منصوبوں کو ناکام بناتی اور ان کی جڑیں اکھاڑتی ہے، اور فتنوں کا یہی خاتمہ عوام کے اطمینان اور خوشی کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں یہی عوامی تعاون اور رضامندی دوبارہ نظام کے استحکام اور بقا کی ضمانت بن جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا باہمی اور ناقابلِ انفصال تعلق ہے جس نے آج افغانستان کے سکیورٹی ماڈل کو خطے کی سطح پر ایک منفرد حیثیت عطا کر دی ہے۔


















































