ایک وقت تھا کہ یہی راولپنڈی کے جرنیل اپنے آپ کو خطے کی تقدیر کا مالک سمجھتے تھے۔ وہ گمان کرتے تھے کہ کابل کو ہمیشہ دباؤ، محاصرے اور سازشوں کے سائے تلے رکھیں گے۔ کبھی راستے بند کرتے، کبھی تاجروں کو نقصان پہنچاتے، کبھی مہاجرین کی تذلیل کرتے اور کبھی اس مظلوم سرزمین کے پہاڑوں، شہروں اور دیہات تک آگ کے شعلے پہنچاتے تھے۔
انہیں یقین تھا کہ کابل ہمیشہ محتاج رہے گا، ہمیشہ مجبور رہے گا اور ہمیشہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی میز پر رکھی ایک فائل کی حیثیت رکھے گا۔ لیکن تاریخ کی یادداشت بڑی عجیب ہوتی ہے۔ وہی سیاہ ہاتھ، جو کل دباؤ کے بٹن دباتے تھے، آج ضرورت کے تحت دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اب پاکستان کی وہ فوج، جو خود کو خطے کا سب سے منظم اور طاقتور عسکری ڈھانچہ سمجھتی تھی، معاشی زوال کے خوف سے ہنگامی اجلاسوں، ہر دروازے پر دستک دینے اور کابل سے مفاہمت کی کوششوں میں مصروف ہے۔
وہ فوجی رجیم، جو زرہ بند ٹینکوں، ڈرونز، طیاروں اور پراکسی جنگوں کی زبان میں بات کرتی تھی، آج ڈالر، قرضوں اور تجارتی راستوں کی اسیر بن چکی ہے۔ یہ معیشت کا ایسا انتقام ہے، جسے توپیں اور ٹینک بھی نہیں روک سکتے۔ جب کوئی نظام اپنی پوری حکمتِ عملی دشمنی، مداخلت اور تخریب پر قائم کرے، تو ایک دن وہی آگ لوٹ کر اس کے اپنے قدموں تک ضرور پہنچتی ہے۔
پاکستان نے برسوں تک یہ کوشش کی کہ افغانستان کو کمزور رکھا جائے، تاکہ اس کی اپنی جغرافیائی اہمیت برقرار رہے، مگر اب دنیا بدل چکی ہے اور خطے میں اب صرف بندوق کی زبان نہیں چلتی، بلکہ توانائی کے راستے، ٹرانزٹ، تجارت اور علاقائی رابطے طاقت کے نئے پیمانے بن چکے ہیں۔
آج اسلام آباد یہ سمجھ چکا ہے کہ کابل کے استحکام کے بغیر پورے وسطی ایشیا تک ہر راستہ ادھورا ہے۔ علاقائی تجارت نیم مردہ ہے اور اسلام آباد کا معاشی مستقبل سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ یہ صرف سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ پوری مساوات کے بدلنے کا نام ہے۔ وہی کابل، جو کل پاکستانی جرنیلوں کے دباؤ کا ہدف تھا، آج خطے کے اقتصادی راہداریوں کے مرکز میں کھڑا ہے۔
وہی قوم، جس پر برسوں محاصرے اور پابندیاں مسلط رہیں، آج اپنی جغرافیائی قوت کے باعث خطے کے حسابات میں مرکزی کردار رکھتی ہے۔ یہ روشن حقیقت توپ اور ٹینک کے زور سے نہیں چھپائی جا سکتی۔ ہاں، افغانستان آج بھی بے شمار مشکلات سے دوچار ہے، اس کی معیشت کمزور ہے، اسے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا، اور اس کے لوگ سخت زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس سرزمین کی جیوپولیٹیکل حیثیت ایسی ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں اسے نظرانداز نہیں کر سکتیں۔
راولپنڈی کے جرنیل اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ کابل کی رضامندی کے بغیر خطے کے بہت سے منصوبے ادھورے ہیں۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جو لوگ دوسروں کو جلانے کے لیے آگ بھڑکاتے ہیں، کچھ عرصے بعد خود اسی آگ کا دھواں سانسوں میں بھرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور وہ قوم، جو صبر، قربانی اور مزاحمت کا طویل سفر طے کرتی ہے، ایک دن اس کی جغرافیہ اور اس کا عزم حالات کا رخ بدل دیتے ہیں۔
آج خطے کی ہوائیں بدل چکی ہیں اور ان ہواؤں کی آواز راولپنڈی کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ کابل اب صرف جنگ کا میدان نہیں رہا؛ کابل اب خطے کی آنے والی نئی مساوات کا دل بن چکا ہے۔



















































