پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے سابقہ مظالم کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے رواں عیسوی سال یکم اکتوبر کو ہلمند کے ضلع گرمسیر اور کنڑ کے ضلع شُلتن میں شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے۔ ان فضائی حملوں کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 14 افراد شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ یہ پہلا موقع نہیں، بلکہ فوجی رجیم 2021ء کے بعد، بالخصوص 2025ء اور 2026ء کے دوران افغانستان کی سرزمین پر مسلسل فضائی حملے کرتا آیا ہے، شہری تنصیبات کو نشانہ بناتا رہا ہے اور درجنوں بے گناہ افغانوں کو شہید اور زخمی کرچکا ہے۔
پاکستان کے سول اور عسکری فیصلہ سازی کے نظام پر مسلط یہ سفاک رجیم افغانستان پر فضائی حملوں اور عسکری جارحیت کے ذریعے متعدد مواقع پر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور اپنی غلط پالیسیوں کے نتائج کو نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ملک کے اندر بھی حکمران رجیم کو متعدد سیاسی اور عوامی تحریکوں کے دباؤ کا سامنا ہے، جنہیں اس کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تحریکیں روز بروز وسعت اختیار کر رہی ہیں اور ان کی تپش عسکری طبقے کے حکمرانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔
صوبوں کے درمیان امتیازی سلوک، مختلف قومیتوں کے حقوق کی پامالی، اپنے ہی شہریوں کو جبری طور پر لاپتا کرنا، مساجد، مدارس اور دیگر دینی مراکز کو مسمار کرنا، عوامی تحریکوں کو کچلنا اور اس نوعیت کے دیگر اقدامات وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس جغرافیے میں حکمران رجیم کے خلاف عوامی تحریکوں اور قومی بغاوتوں کے لیے راہ ہموار کی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان شدید سیاسی انتشار کے ساتھ ایک گہرے معاشی بحران سے بھی دوچار ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک کی کرنسی کی قدر میں تقریباً تین سو فیصد کمی واقع ہوئی ہے، افراطِ زر کی شرح روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، عام شہریوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہوچکا ہے اور حکومت سودی قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح دبی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صرف گزشتہ ماہ پاکستان میں بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اور اس نوعیت کے دیگر عوامل پاکستان کی سول اور عسکری حکومت پر شدید دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔
اسی طرح پاکستانی فوجی رجیم سعودی عرب کے ساتھ ’’دفاعِ سعودی عرب‘‘ کے عنوان سے ایک دفاعی معاہدے اور ترکیہ و سعودی عرب سمیت ’’دفاعِ مکہ مکرمہ‘‘ کے مقدس عنوان سے طے پانے والے ایک معاہدے کا بھی فریق ہے۔ پاکستان کو توقع ہے کہ ان معاہدوں کے ذریعے سعودی عرب سے قرضوں کی وصولی میں مہلت اور مالی وسائل حاصل کیے جاسکیں گے۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں ہے جب سعودی عرب ان ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہے جن کے پاکستان پر قرضے ہیں۔
اسی طرح سعودیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جنگ اور اس وقت یمن کی حوثی ملیشیا کے ساتھ براہِ راست جنگ میں بھی الجھا ہوا ہے۔ معاہدوں کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ بیک وقت دونوں معاہدوں سے وفاداری نبھائے، مگر یہ ملک لومڑی جیسی چال چلتے ہوئے افغانستان پر عسکری جارحیت کے ذریعے سعودی حکومت کے سامنے بہانے پیش کرنے اور خود کو مصروف ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوجی رجیم کرائے اور پراکسی ملیشیاؤں کے استعمال کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، جس میں برطانیہ، امریکا اور مغرب کے لیے انجام دی جانے والی خدمات اور وفاداریاں قابلِ ذکر ہیں۔ فوجی رجیم نے اس مرتبہ بھی امریکا سے داعش کو منظم اور لیس کرنے، افغان حکومت کے مخالف مسلح گروہوں اور سابق افغان فوجیوں اور اربکیوں کی تربیت اور تنظیم کا منصوبہ لیا ہے، تاکہ افغانستان میں قائم امن و استحکام کو درہم برہم کیا جاسکے اور یوں ماضی کی طرح اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ فوجی رجیم افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے—جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کا نقطہ اور انتہائی اہم تزویراتی محلِ وقوع کا حامل ملک ہے—پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ اور اس نوعیت کے دیگر عوامل افغانستان پر پاکستانی فوجی رجیم کی اندھا دھند بمباری اور فوجی مداخلتوں کے وہ واضح اسباب ہیں جو تمام بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ عالمی اصولوں کے منافی ہیں۔ یہ اقدامات اس وقت تک محض تاریخ کا حصہ بن کر نہیں رہیں گے، جب تک ان کا حساب چکا نہیں دیا جاتا۔



















































