اکیاون دن تک محاصرہ جاری رہا، اور بالآخر یہ شہر فتح کر لیا گیا۔ جس دن یہ شہر فتح ہوا، وہ منگل کا دن تھا، اور جمادی الآخر 857ھ کی دسویں تاریخ تھی۔ شہر کی فتح کے بعد سلطان نے عیسائیوں کے عظیم گرجا آیا صوفیہ میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ ایک عظیم گنبد والی عمارت تھی، جس کی بلندی آسمان سے باتیں کرتی محسوس ہوتی تھی، اور اپنی مضبوطی میں مصر کے اہرام کی مانند تھی، جبکہ اس کی بلندی بھی اہرام کے برابر تھی۔
سلطان نے استنبول میں علم کی ایسی بنیاد رکھی جس کے زوال کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ اس نے بلند گنبدوں اور کشادہ دروازوں والی بہت سی عظیم درسگاہیں تعمیر کروائیں، جن میں داخل ہونا آسان تھا، اور ان کے لیے ایک جامع نصاب بھی مقرر کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں بلند درجات عطا فرمائے، بہترین جزا سے نوازے، عظیم اجر عطا کرے اور بے شمار ثواب عنایت فرمائے۔
انہوں نے مستقبل کے لیے ایسے علمی مراتب اور مناصب قائم کیے جن تک لوگ بڑی محنت اور مشقت سے پہنچتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے دنیا کی سعادت کے ساتھ ساتھ دنیاوی وسائل کے ذریعے اخروی سعادت بھی حاصل کر لی۔ سلطان نے دور دراز شہروں سے جید علماء کو اپنے دربار میں مدعو کیا، انہیں تحائف سے نوازا اور ان کے ساتھ محبت، نرمی اور شفقت کا برتاؤ کیا۔ ان علماء میں مولانا علی قوشجی، فاضل طوسی، علامہ کورانی اور دیگر اکابر شامل تھے۔
علمائے دین کی بدولت استنبول دنیا کا سب سے عظیم شہر بن گیا، جو علم، عزت اور ترقی کا مرکز کہلاتا تھا۔ اس شہر میں ہر فن کے ماہر علماء موجود تھے۔ آج بھی استنبول کے علماء دنیا کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں، اور اس کے ہنرمند اپنے کام میں احتیاط اور مہارت کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ اس سلطنت کو بے شمار سعادتیں نصیب ہوئیں۔ سلطان محمد فاتح نے مسلمانوں، خصوصاً علماء، پر جو احسانات کیے، وہ شمار سے باہر ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان سے راضی ہو جائے، اور نیک لوگوں میں ان کا نام ہمیشہ سربلند اور بلند تر رکھے۔




















































