داعش اور پاکستان نفسیاتی اور فکری جنگ سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
چونکہ فکری اور نفسیاتی جنگ کے مختلف پہلوؤں پر کسی حد تک بحث ہو چکی ہے، اب ہم موضوع کے دوسرے حصے پر بھی کسی حد تک روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہم نے سابقہ معلومات میں اس بات پر بحث کی تھی کہ کافر ممالک اپنے مقاصد کے حصول اور نفسیاتی جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے نام نہاد اسلامی ممالک کو اپنے مقاصد تک پہنچنے کا ذریعہ بناتے ہیں، نیز ان میں نام نہاد کمزور عقیدے اور فکر رکھنے والے افراد کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔
انہی ممالک میں بعض عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور سٹریٹیجک مقاصد کے حصول کے لیے مختلف علاقائی کھلاڑیوں، ذرائع ابلاغ اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس، بالخصوص داعش اور پاکستانی فوجی رجیم، سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور فکری و نفسیاتی جنگ کا میدان وسیع کرتی ہیں۔
اسی حوالے سے داعش جیسی تنظیمیں بیرونی طاقتوں کی حکمتِ عملیوں کے نتائج یا منصوبوں میں سے ہیں۔ امریکہ اور بعض دیگر کافر ممالک اپنے علاقائی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی فوجی رجیم سمیت بعض علاقائی ذرائع اور نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو امت مسلمہ کو کمزور کرنے، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلانے اور بدامنی کے تسلسل کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان نفسیاتی اور فکری جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد، ’’کفر کی غلامی اور اپنی بقا‘‘، تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے؛ وہ خطے میں بدامنی پیدا کرنے کے مقصد سے مختلف دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کو تشکیل دینے والے کرداروں میں شامل ہے، جن دہشت گرد گروہوں میں سے ایک داعش بھی ہے۔
یہ دونوں مل کر (پاکستانی فوجی رجیم + داعش) خطے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو آگے بڑھانے کے منصوبے شروع کرتی ہیں اور پھر پروپیگنڈے کے ذریعے خود کو غیر جانب دار یا ان کارروائیوں کا متاثرہ ظاہر کرتے ہیں۔
• جید علماء اور مشائخِ کرام کو شہید کرنا؛
• قومی عمائدین اور رہنماؤں کو بدنام کرنا، قید کرنا اور شہید کرنا؛
• قوموں اور سمتوں کے نام پر تعصبات کو ہوا دینا؛
• پاکیزہ نعروں کے تحت لوگوں کو اکسانا، مظاہرے اور ہڑتالیں کرنا۔
یہ تمام وہ اقدامات ہیں جنہیں پاکستانی فوجی رجیم اور داعش مل کر آگے بڑھاتی ہیں اور مشترکہ طور پر نفسیاتی، فکری اور تشہیری میڈیا پروگرام شروع کرتے ہیں۔ وہ جعلی ویڈیوز اور جعلی پریس بیانات اس طرح تیار کرتے ہیں کہ گویا یہ کارروائیاں ان کی نہیں ہیں، اور ان کا الزام دوسرے فریقوں پر ڈال دیتے ہیں۔
علماء، مشائخِ کرام، قومی عمائدین، نوجوان کارکنوں اور دیگر افراد کو پہلے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ دوسرے ممالک، سیاسی جماعتوں اور بالخصوص امارت اسلامیہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں اور ان کے بارے میں سخت اور حالات کے منافی بیانات دیں، لیکن بعد میں یہی داعش اور پاکستانی فوجی رجیم انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
جب داعش اور پاکستانی فوجی رجیم ایسی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں تو اس کے بعد خود کو بے قصور ظاہر کرنے اور بری الذمہ ہونے کے لیے، نفسیاتی اور تشہیری مقاصد کے حصول کی خاطر، جعلی اور نام نہاد بیانات جاری کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کے پاس سوشل میڈیا پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس اور ایڈریسز موجود ہیں، تاکہ ان کے بارے میں وسیع پیمانے پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا سکے۔
اسی طرح جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے علاوہ انہوں نے سینکڑوں ٹیلی ویژن چینلز، ریڈیو اسٹیشنز اور مطبوعاتی ادارے فعال رکھے ہوئے ہیں اور اپنی وحشیانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو چھپانے اور ایسی کارروائیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے لیے پہلے ہی سے وسیع تشہیری مواد تیار کرتے ہیں۔ اس ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں کو الجھاتے ہیں تاکہ اصل موضوعات لوگوں سے پوشیدہ رہیں۔
ایک اور طریقہ جو داعش اور پاکستانی فوجی رجیم نے اختیار کر رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ملا، عالم، استاد اور قومی رہنما کے ناموں سے جعلی افراد تیار کرتے اور تربیت دیتے ہیں، اور انہی ناموں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد، یعنی فکری اور عقیدے پر غلبہ، حاصل کرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ نفسیاتی اور فکری جنگ کافر دنیا، بالخصوص پاکستانی رجیم، داعش اور امریکہ کی ان خفیہ اور مؤثر جنگوں میں سے ایک ہے جو امت مسلمہ کے اذہان پر غلبہ حاصل کرنے اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے منظم کی جاتی ہیں۔
اگرچہ اس جنگ میں مادی ہتھیار استعمال نہیں کیے جاتے، لیکن اس کے نتائج انتہائی گہرے اور طویل المدت ہوتے ہیں؛ اسی لیے علم، بصیرت، درست معلومات اور میڈیا آگاہی کے ذریعے اس قسم کی جنگ کو پہچاننا اور اس کا مقابلہ کرنا ہر معاشرے کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔




















































