بنو قینقاع کا محاصرہ اور جلاوطنی:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک مسلمان خاتون کی مظلومیت اور یہود کی مکاری کی خبر پہنچی تو آپ کو شدید رنج ہوا، صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لبابہ بن عبد المنذرؓ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا، لشکر کا جھنڈا حضرت حمزہ کو دیا اور ہجرت کے دوسرے سال شوال کے وسط میں، ہفتے کے دن بنو قینقاع کی طرف روانہ ہوئے۔
یہود کو جب خبر ملی تو وہ اپنی قلعوں میں داخل ہوگئے، لشکرِ اسلام نے ان کا محاصرہ شروع کیا۔ پندرہ دن تک محاصرہ جاری رہا، آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا، سب نیچے اتر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے جھک گئے۔
مسلمانوں نے انہیں قید کرلیا، اسی دوران منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول آیا اور کہا: میرے حلیفوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ بنو قینقاع اور خزرج کے درمیان حلف کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، اس نے پھر درخواست کی، آپ نے چہرہ پھیر لیا۔ پھر اس نے آپ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا اور کہا: یہ لوگ (یہود) تین سو زرہ اور چار سو زِرہ بکتر جنگجو رکھتے ہیں، میں نے ہمیشہ انہیں دشمنوں سے بچایا ہے، کیا آپ ایک ہی دن میں انہیں ختم کردیں گے؟ خدا کی قسم! میں زمانے کے حالات سے نہیں ڈرتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو۔ اس نے کہا: جب تک آپ میرے حلیفوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں، میں نہیں چھوڑوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی کے اصرار پر یہود کو معاف کردیا، لیکن فرمایا کہ مدینہ اور اس کے آس پاس رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس طرح وہ مدینہ سے نکل گئے اور شام کے علاقے اذرعات میں جا بسے۔ کچھ عرصہ بعد ان میں سے اکثر یہود وہیں ہلاک ہوگئے۔ مسلمانوں کو بہت سا مالِ غنیمت ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تین تلواریں، تین نیزے، تین برچھیاں اور تین زرہیں منتخب کیں۔ خمس نکالنے کے بعد باقی مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کردیا۔
غزوہ بنو قینقاع سے حاصل ہونے والے اسباق:
۱۔ یہود ہمیشہ پست اخلاق اور بدکرداری کی راہ پر چلتے رہے ہیں۔ چاہے وہ معاہدوں میں خیانت ہو یا معاشرتی میدان میں عورتوں کے ساتھ بدتمیزی اور بے حیائی۔ ان کے نزدیک اخلاقی حدود نہیں، وہ صرف اپنے مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اگر آج وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کی پالیسی اپناتے ہیں یا کل انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مکرو فریب کا طریقہ اپنایا تھا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سرطان کے ٹیومر کی طرح ہیں، جو ہر معاشرے کو مسموم کردیتے ہیں۔
۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہود کے خلاف فوری اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ کسی مسلمان عورت کی عزت و عفت اسلامی ریاست کے لیے سرخ لکیر ہونی چاہیے، اسے کبھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ اور اگر کوئی اس کی عزت پامال کرے تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے۔ یہ نبوی طریقہ ہے، جو غزوہ بنو قینقاع میں ہمیں ملتا ہے، لیکن افسوس! یہ طریقہ چھوڑ دیا گیا ہے، یہاں تک کہ اتنی بڑی امت میں آج غزہ کی ہزاروں بہنوں کی چیخیں کسی کی غیرت کو نہیں جگاتیں، جذبات کو نہیں ابھارتیں اور سوئے ہوئے ضمیر نہیں جاگتے۔
۳۔ ہم نے پڑھا کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کس قدر بنو قینقاع کے حق میں سفارش پر اصرار کررہا تھا۔ یہود کے منافقین سے گہرے تعلقات تھے، وہ اسلامی ریاست کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے:
’’أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ‘‘
ترجمہ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو نفاق میں مبتلا ہیں؟ وہ اپنے ان بھائیوں سے جو اہلِ کتاب میں سے کافر ہیں کہتے ہیں: اگر تم نکالے گئے تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ جھوٹے ہیں۔
اس کے باوجود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی کی سفارش قبول کی اور یہود کو معاف کردیا۔ اس سے فقہاء یہ اصول ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں منافق کے ساتھ مسلمان کے طور پر معاملہ کیا جاتا ہے، اگرچہ نفاق کی بہت سی علامتیں ظاہر ہوں، لیکن شریعت اسے معاشرے میں مسلمان ہی شمار کرتی ہے۔ اس مسئلہ کو مزید واضح کرنے کے لیے کچھ اور تفصیل پیشِ خدمت ہے:
اسلامی احکام کے دو پہلو ہیں:
پہلا وہ پہلو جو دنیا میں نافذ ہوتا ہے، جسے بندے نافذ کرنے کے مکلف ہیں، دوسرا وہ پہلو جو آخرت میں نافذ ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
پہلا پہلو ظاہر اور محسوس دلائل پر مبنی ہے، اس میں قرائن اور باطنی دلائل کا دخل نہیں۔ دوسرا پہلو نیت پر مبنی ہے، جس کا فیصلہ دل کی حالت کے مطابق ہوگا، اور یہ فیصلہ اللہ کرے گا اور آخرت میں ہوگا۔ لہٰذا منافقین کا پہلا پہلو ان کے ظاہر پر ہے، جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقت اور نیت کا معاملہ آخرت میں اللہ کے سپرد ہے۔




















































