اسلام عدل و انصاف کا دین ہے، ایسا دین جس نے اپنے پیروکاروں کو ظالم کی حمایت سے روکا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے: “وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدوَانِ”
ترجمہ: گناہ اور ظلم کے کام میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کے اس بنیادی اصول کو علماء کے لبادے میں بعض لوگوں نے اپنے پیروں تلے روند دیا ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم ابتدا سے لے کر آج تک امریکہ کا غلام رہی ہے، یہ حقیقت ایک بچے کو بھی معلوم ہے کہ خطے میں پاکستان کا کردار کیا ہے۔ مگر یہاں کچھ ایسے علماء بھی ہیں، جو سارا دن احادیث بیان کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، لیکن انہی احادیث کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ہوئے، پاکستانی فوجی رجیم کی تعریف کرتے ہیں، اس کے “کارناموں” کو فخر سے بیان کرتے ہیں، اور معاصر نمرود کو ترقی اور ارتقاء کی علامت قرار دیتے ہیں۔
علماء، جنہیں چاہیے تھا کہ حقیقت کو سمجھ کر حق گوئی کے علمبردار بنتے، آج وہ یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ معاصر دجال کے قدم کو اپنے ملک میں ترقی و ارتقاء کا راز سمجھتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان کی دین فہمی سطحی ہے یا وہ شعوری طور پر غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال چکے ہیں۔ اسلام ایسا دین نہیں ہے جو کافر کے قدم کو ترقی کا راز قرار دے۔ اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرامؓ روم اور فارس کی عظیم سلطنتوں کے سامنے سر نہ اٹھاتے، ان کے خلاف جہاد نہ کرتے، بلکہ ان کے قدم کو نیک شگون سمجھتے اور اپنے ملک میں انہیں دعوت دیتے۔
سمجھ نہیں آتا کہ دین کے شعائر کیوں آہستہ آہستہ مرتے جا رہے ہیں، اور کیوں یہ آیت نظر انداز کی جا رہی ہے:
“وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ”
ترجمہ: اور تم ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنہوں نے ظلم کیا ہے، ورنہ تمہیں (جہنم کی) آگ آ لے گی۔
عاصم منیر وہ شخص ہے جس نے افغانستان کے قلب میں پانچ سو بے گناہ افراد کو شہید کیا۔ اس کے ہاتھ ہر روز معصوم شہداء کے خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ ٹرمپ پورے فلسطین کا قاتل ہے، پورے افغانستان کا قاتل ہے، اسلام و کفر کی جنگ میں کفر کا سرغنہ ہے، اور ہر روز اسلام کے خلاف منصوبے بناتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ مسلمانوں کے لیے یہ کس طرح ترقی کا نمونہ ہو سکتا ہے؟
علماء کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ کفر کے سامنے جھک جائیں، یہ انحراف ہے، گمراہی ہے اور اپنے مشن سے غداری ہے۔ علماء کا اصل فریضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو کفر کی ہر قسم کی سازشوں سے آگاہ کریں، انہیں یہ بتائیں کہ اگرچہ اس وقت کافر طاقتور اور غالب ہے، مگر حتمی فتح اسلام ہی کی ہے۔ اسلام دنیا کے ہر کونے میں غالب آئے گا۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی حاکمیت اور کفر کی محکومیت کا یقین دلائیں، لیکن یہ لوگ انہیں غلامی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
علماء کو چاہیے کہ وہ امام مالکؒ کی طرح بنیں، جنہوں نے ایک فتویٰ کی خاطر سالہا سال قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جابر حکمران نے ان پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا فتویٰ واپس لے لیں، مگر انہوں نے اپنے حق موقف سے دستبرداری اختیار نہ کی۔ اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ کی طرح بنیں، جنہیں خلقِ قرآن کے مسئلے میں حکمران کی طرف سے قید و اذیت کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا اور قرآن کو مخلوق ماننے سے انکار کیا۔
اسلام کی تاریخ ایسی ہزاروں مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ علماء نے حق بات کہنے کی پاداش میں قید و بند اور شہادتیں برداشت کیں۔ اگر پاکستان کے علماء حق بات نہیں کہہ سکتے، اگر وہ ظالموں کے کھلے ظلم کی مذمت نہیں کر سکتے، اگر وہ اس حدیث پر عمل نہیں کر سکتے:
“أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر” [مسند أحمد، ۱۱۱۴۳]
ترجمہ: سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے،
تو کم از کم خاموش ہی رہیں، اور اس حدیث پر عمل کریں:
“من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت” [مسند ابن أبي شيبة، ۹۷۱]
ترجمہ: جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
تاکہ ان کی خاموشی قابلِ توجیہ ہو۔ ظالم کی حمایت اور اس کی تعریف کبھی بھی حق موقف نہیں ہو سکتی؛ یہ علماءِ سوء کی واضح نشانی ہے۔
اس امت کو ذہن سازی کرنے والوں کی ضرورت ہے، ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ذہنوں میں جہاد کا جذبہ بھڑکا دیں، تاکہ معاصر نمرود کے مقابلے میں جہاد کا عَلَم بلند ہو۔ مگر پاکستان کے علمائے سوء نہ صرف یہ کہ معاصر نمرود کے خلاف جہاد کا درس نہیں دیتے، بلکہ دل میں نفرت تک پیدا نہیں کرتے، بلکہ اسے نوجوانوں کے سامنے ترقی اور ارتقاء کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے ہمارا اپنا ثقافتی ورثہ پسماندہ ہو اور اصل تہذیب مغرب اور ٹرمپ کی ہو۔
ان تمام حالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاصر دجال کے فریب میں صرف عوام ہی نہیں، بلکہ خواص بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس فریب کی جڑیں خواص اور دینی علماء کے اذہان تک پہنچ چکی ہیں۔ اب تو یہ حال ہے کہ کچھ ایسے علماء بھی انحراف کا شکار ہو گئے ہیں جو سارا دن احادیث پڑھاتے ہیں اور قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔




















































