اس سال عیدالاضحیٰ کے مبارک ایام پورے افغانستان میں امن، سکون اور اطمینان کی فضا میں گزرے۔ یہ وہ دن تھے جن میں اس سرزمین کے مسلمانوں نے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں مطمئن دلوں اور پرسکون روحوں کے ساتھ اسلامی شعائر ادا کیے، عید کی نماز، باہمی ملاقاتیں، قربانیاں اور دینی مراسم ہر قسم کے خطرے اور اندیشے سے بے نیاز ہو کر انجام دیے۔ یہ محفوظ اور بے مثال ماحول ایک واضح حقیقت کو آشکار کرتا ہے، اور وہ یہ کہ حقیقی امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب حکمران نظام معاشرے ہی کے بطن سے ابھرا ہو، دینی اقدار پر قائم ہو اور عوام کی حقیقی خدمت کا عزم رکھتا ہو۔
آج افغانستان اس مرحلے کا تجربہ کر رہا ہے جس کی اس سرزمین کے لوگوں نے برسوں تمنا کی تھی، وہ مرحلہ جس میں امن، استحکام اور سکون محض نعرے نہیں بلکہ عوام کی زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ بلاشبہ یہ عظیم کامیابی اسلامی نظام کی حکمرانی اور امارت اسلامیہ کی سکیورٹی فورسز اور مجاہدین کی شب و روز کاوشوں کا ثمر ہے، جو دینی اور قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ملک کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں اور امن کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔
یہ نظام کوئی بیرونی یا مسلط کردہ نظام نہیں، بلکہ اسی قوم کے دل سے، اسی سرزمین کے اندر سے اور افغانستان کے عوام کی قربانیوں، تکالیف اور آرزوؤں سے جنم لینے والا نظام ہے۔ اسی لیے اس کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، قوم کے وقار کا تحفظ اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
گزشتہ برسوں میں، یعنی قبضے اور کٹھ پتلی حکومت کے دور میں، افغانستان کے عوام نے بارہا دیکھا کہ عیدوں اور دیگر مذہبی تہواروں پر دھماکوں، حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث لوگوں کی خوشیاں غم میں بدل جایا کرتی تھیں۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اسلامی نظام کی حکمرانی کے سائے تلے یہ صورتِ حال بدل چکی ہے۔ اب افغانستان کے عوام اسلامی تہواروں کو ایک محفوظ ماحول میں مناتے ہیں۔ بچے، خواتین، بزرگ اور معاشرے کے تمام طبقات خوف اور اضطراب کے احساس کے بغیر عید کے دن گزارتے ہیں۔ یہ عظیم تبدیلی کوئی معمولی یا اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد، قربانیوں اور تدبر کا نتیجہ ہے جو عوام کے امن کو اپنی شرعی اور قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔
اسی سلسلے میں اسلام کے دشمنوں اور داعشی خوارج نے افغانستان کے امن و سکون کو سبوتاژ کرنے اور خوف و بدامنی پھیلا کر اسلامی نظام کو متنازع بنانے کی بہت کوششیں کیں۔ انہوں نے کئی بار دھمکی دی کہ عیدوں اور مذہبی تہواروں کو خونریزی کا میدان بنا دیں گے، لیکن سکیورٹی فورسز کی ہوشیاری، انٹیلی جنس اداروں کی ہم آہنگی اور اسلامی سپاہیوں کی انتھک کاوشوں نے ان کی تمام مذموم سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ اس قوم کے دشمن یہ سمجھ چکے ہیں کہ آج کا افغانستان فتنہ و انتشار کے لیے آسان میدان نہیں رہا اور عوام بھی ان کے انتہا پسندانہ اور فساد انگیز افکار کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
اسلامی تہواروں کے دوران مسلسل کئی برسوں سے قائم امن و سکون اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلامی شریعت پر قائم نظام عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور معاشرے میں استحکام کی بنیادیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جب بھی قوم اور حکمران نظام کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون کا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے تو دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ آج افغانستان کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امن ہر معاشرے کی سب سے بڑی نعمت اور بنیادی ضرورت ہے، اور اس کا تحفظ اجتماعی تعاون، اتحاد اور باہمی حمایت کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی طرح یہ وسیع پیمانے پر قائم امن دنیا کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے، یہ پیغام کہ افغان قوم برسوں کی جنگ، بدامنی اور عدم استحکام کے بعد اب سکون اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ افغانستان کے لوگ پُرامن زندگی، ترقی، تعمیر و آبادکاری اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل چاہتے ہیں، اور اسلامی نظام بھی امن کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے ترقی، خوش حالی اور مزید خدمات کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بلاشبہ اس عظیم کامیابی کا تحفظ قومی یکجہتی کے تسلسل، اسلامی اخوت کے جذبے کی تقویت اور ان قوتوں کی حمایت کا تقاضا کرتا ہے جو شب و روز اس سرزمین کے امن کے لیے کوشاں ہیں۔ افغانستان کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ہم آہنگی، بیداری اور معاشرتی اتحاد کے تحفظ کی ضرورت ہے تاکہ دشمن دوبارہ عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے یا ملک کے امن کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
آخر میں، اس سال کی عیدالاضحیٰ کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ جب کوئی نظام اسلامی اقدار، عوام کی خواہشات اور خدمتِ خلق کے جذبے کی بنیاد پر قائم ہو تو اس کا نتیجہ امن، سکون اور عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ یہ محفوظ فضا اسی قوم کے فرزندوں کی جدوجہد، قربانیوں اور انتھک کوششوں کا ثمر ہے، ان فرزندوں کا جنہوں نے افغانستان کی عزت اور عوام کے سکون کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ امید ہے کہ یہ پائیدار امن افغانستان کی مزید ترقی، تعمیر و آبادکاری اور روشن مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔















































