1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کا کردار
1971ء کی جنگ نے پاکستانی فوج کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا۔ اس جنگ میں رونما ہونے والے تکلیف دہ واقعات اس بات کی بیّن دلیل تھے کہ قیامِ پاکستان کے چوبیس سال گزر جانے کے بعد بھی فوج کی ذہنیت ذرّہ برابر نہیں بدلی تھی۔ انگریز نے مغربی ہندوستان کے فوجیوں کو پہلی مرتبہ تبھی استعمال کیا تھا جب اسے 1857ء میں بنگال سے پھوٹنے والی بغاوت کچلناتھی۔ 1971ء میں اہلِ بنگال پرتوڑے جانے والے مظالم بھی درحقیقت نفرت وتعصب کے انہی جذبات کا شاخسانہ تھے جو انگریز نے اس فوج کے خمیر میں 1857ء میں ڈال دیئے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی فوج کی قیادت نے اپنانظام انہی جاہلانہ تعصبات کی روشنی میں چلایا جو انگریز نے اس کے دل و دماغ میں راسخ کیے تھے۔ پاکستانی فوج میں مختلف قومیتوں کا تناسب کم و بیش وہی رہا جو قبل ازقیامِ پاکستان تھا۔
عسکری اُمور کی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ، قیامِ پاکستان کے ساٹھ سال بعد سن 2007ء میں منظرِعام پر آنے والی اپنی تحقیق میں یہ انکشاف کرتی ہے کہ پاکستانی فوج میں اب بھی فوجیوں کی غالب اکثریت (یعنی 71 فیصد) کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے، جبکہ سرحد سے 12 فیصد، آزاد کشمیر سے 9 فیصد، سندھ سے 4 فیصد، شمالی علاقہ جات سے 3 فیصد اور بلوچستان سے ایک سے بھی کم فیصد فوجی تعلق رکھتے ہیں۔
پھر سندھ سے بھرتی کیے جانے والے فوجیوں میں سے بھی اسّی فیصد سے زائد کا تعلق کراچی اور حیدرآباد سے ہوتا ہے، جبکہ سندھ کے باقی تمام علاقوں کو نہ ہونے کے برابر نمائندگی ملتی ہے۔ ( Military INC.by Ayesha Siddiqa, Pages:213 to 216)
نیز اسٹیفن کوہن 1998ء میں منظرِ عام پر آنے والی اپنی تحقیق میں یہ بات واضح کرتا ہے کہ پاکستانی فوج اب بھی ”جنگجو نسلوں” کے اس خرافاتی فلسفے پر قائم ہے جو انگریز نے ایک صدی سے زائد عرصہ قبل وضع کیا تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک بھرتی کے وقت 75 فیصد فوجی پنجاب و سرحد کے ان پانچ اضلاع سے لئے جاتے ہیں جہاں انگریز کی چنیدہ جنگجو نسلیں پائی جاتی ہیں۔
پاکستان کی فوجی قیادت اور بیورو کریسی کے اسی متعصبانہ رویے کے سبب بلوچستان، سندھ، سرحد اورجنوبی پنجاب میں علیحدگی پسند تحریکوں نے جنم لیا؛ اور انہی تعصبات کے سبب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔
مشرقی پاکستان کے مسلمانوں سے معاملہ کرتے ہوئے فوج نہ صرف ”جنگجو نسلوں” کے خرافاتی فلسفے پر قائم رہی، بلکہ اس نےبنگالی مسلمانوں کی طرف حقارت سے دیکھنے اور انہیں دبا کر رکھنے کا وہ مکروہ رویہ بھی اپنائے رکھا جو اسے 1857ء کے بعد اپنے آقاؤں سے ورثے میں ملا تھا۔ جنگ کے بعد بنگالی مسلمانوں کے خلاف فوج کے مظالم کی جانچ پڑتال اور جنگ میں ناکامی کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کے لئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس حمود الرحمان کی سر براہی میں ایک کمیشن ترتیب دیا گیا۔
کمیشن کے ممبران میں سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی شامل تھے، اس کمیشن نے سینکڑوں گواہوں کے بیانات سننے اور اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعدایک رپورٹ تیار کی، جو اس فوج کی مکروہ حرکتوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اگرچہ یہ کمیشن اپنی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہچانے سے قبل خود اپنے متوقع انجام سے دوچار ہو گیا، لیکن اس کی رپورٹ ہر پاکستانی کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔



















































