ملکوں کے درمیان تعلقات میں صبر، تحمل اور بردباری کو سفارت کاری اور بحرانوں کے نظم و نسق کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ افغانستان نے بھی تشدد میں اضافے کی روک تھام، خطے کے استحکام کے تحفظ اور مذاکرات کے لیے موزوں ماحول کی فراہمی کی خاطر بعض اوقات پاکستانی رجیم کے اقدامات پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے، لیکن تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اگر صبر اور حسنِ نیت کا مسلسل اظہار کیا جائے اور دوسرا فریق اس کا صحیح مفہوم نہ سمجھے تو وہ اسے کمزوری کی علامت سمجھ کر اس سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات دن بہ دن کشیدہ ہوتے گئے ہیں۔ پاکستانی رجیم نے افغانستان کے نظام اور امن و امان کو درہم برہم کرنے کے لیے مختلف بہانوں اور الزامات کی آڑ میں ہر قسم کی سازشوں اور ناکام منصوبوں سے کام لیا ہے۔ اس رجیم نے متعدد بار داعش جیسے پراکسی گروہوں کی پرورش کرکے افغانستان کے موجودہ نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تاکہ دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جا سکے کہ گویا افغانستان مختلف گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستانی رجیم نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف جرائم اور غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے اور بارہا افغانستان کے صبر، تحمل اور بردباری سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، حالانکہ ہر نظام مسائل کے حل کے لیے پہلے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو آزمانے کی کوشش کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں صبر اور تحمل کمزوری کی علامت نہیں ہوتے، بلکہ اکثر یہ تدبر، دانش مندی اور جذباتی ردعمل کے بجائے اعلیٰ قومی مفادات کو ترجیح دینے کی نشانی ہوتے ہیں۔\
افغانستان نے بہت سے مواقع پر موجودہ مسائل کو مذاکرات، باہمی افہام و تفہیم اور تعامل کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب دشمن اس تحمل اور بردباری کو کمزوری سمجھنے لگے تو پھر اسے اپنے ہر اقدام اور غلطی کے نتائج پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور جوابی ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے۔ اگر وہ انگلی اٹھائے گا تو اسے جواب میں مکا ملے گا۔ اب ظالموں اور ان کے پراکسی گروہوں کو ظلم اور ناپاک سرگرمیوں کا مزید موقع نہیں دیا جائے گا۔
امارت اسلامیہ کی حکمت عملی بدل چکی ہے۔ اب ہر ممکنہ خطرے کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے پہچانا جائے گا، ناکام بنایا جائے گا اور ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مقاصد اور منصوبے پوری طرح واضح ہو چکے ہیں اور کوئی بھی دفاعی نظام افغانستان کے ڈرونز کی رسائی میں رکاوٹ نہیں بن سکے گا۔ یہ رجیم اور اس کے مصنوعی پراکسی گروہ جہاں کہیں بھی خود کو چھپائیں گے، افغانستان اور خطے کے امن کے تحفظ کی خاطر انہیں ختم کر دیا جائے گا۔


















































