خطے میں حالیہ سکیورٹی سے متعلق تبدیلیوں نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ ممالک اپنے سکیورٹی خطرات کا مؤثر مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ موجودہ سکیورٹی ماحول میں محض واقعات رونما ہونے کے بعد ردعمل دینا کافی نہیں، بلکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی، ان کا جائزہ اور بروقت سدباب بھی سکیورٹی پالیسی کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں کی بدامنی اور تنازعات کے باعث امن و استحکام کا موضوع خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
آج یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ عمومی سکیورٹی کا تحفظ صرف عسکری وسائل سے نہیں، بلکہ درست معلومات، مؤثر حفاظتی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی اور منظم حکمت عملی سے وابستہ ہے۔ اسی لیے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت، خطرات کی بروقت نشاندہی اور ممکنہ چیلنجوں سے نمٹنے کی تیاری کو کسی بھی نظام کی قوت کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں خطے کی موجودہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ سکیورٹی چیلنجز اب بھی حکومتی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، سرحدی مسائل اور علاقائی رقابتیں ایسے عوامل ہیں جو سکیورٹی توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ چنانچہ امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ملک کے سکیورٹی ادارے موجودہ خطرات کے حوالے سے زیادہ دقت، ہم آہنگی اور تیاری پر توجہ دے رہے ہیں۔
حال ہی میں ہونے والے ایک غیر معمولی حملے میں بہادر افغان ایئر ڈیفنس فورس نے فرضی سرحد کے اُس پار، پختونخوا اور بلوچستان میں دو ایسے اہم اہداف کو نشانہ بنایا جہاں افغانستان کے خلاف سرگرم شرپسند عناصر کی تربیت کی جا رہی تھی۔ ان میں ایک مرکز پوری امتِ مسلمہ کے دشمنوں کا گڑھ تھا، جبکہ دوسرا ان مفروروں کا مرکز تھا جنہیں پاکستان نے جمع کر کے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے تیار کیا تھا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ افغانستان کے خلاف بننے والی ہر سازش کو، خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر، آغاز ہی میں ناکام بنا دیا جائے گا۔
وہ سکہ جس کا ایک رخ داعش اور دوسرا پاکستان کی شرپسند فوج ہے، خطے، دنیا اور بالخصوص افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے باہم متحد ہیں۔ تاہم اب ان کا یہ منحوس چہرہ مزید بے نقاب ہو رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے اختیار کی گئی ان کی حکمت عملیاں افشا ہونے کے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔
اس حملے سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی عسکری پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب دفاعی طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ پیش قدمی کی حکمت عملی پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، اور اہداف کی نشاندہی، انہیں ناکارہ بنانے اور پیشگی ختم کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب یہ حملہ اس امر کا بھی اظہار کرتا ہے کہ افغان ایئر ڈیفنس فورس مضبوط عزم کے ساتھ جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ دشمن کے سرویلنس نظام کے باوجود اپنے ہدف تک پہنچنے کی قدرت رکھتی ہے، جبکہ دشمن بروقت افغان ڈرونز کا راستہ روکنے میں ناکام رہا۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ افغان ایئر ڈیفنس فورس نے اپنی صلاحیتوں میں کس قدر اضافہ کیا ہے۔ عسکری پہلو کے علاوہ عام لوگ بھی اس بات پر یقین کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک مضبوط ایئر ڈیفنس فورس کے حامل ہیں۔
افغان ایئر ڈیفنس فورس اللہ جل جلالہ کی نصرت سے اپنے ہر وعدے کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ وقت کے اعتبار سے کچھ تاخیر یا تقدیم ہو سکتی ہے، لیکن وہ سوچے سمجھے انداز میں اپنے متعین اہداف کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی عسکری قوت ہو جو تقریباً پانچ برس کے عرصے میں اس قدر پختگی حاصل کر چکی ہو، یا جس نے اتنے مختصر عرصے میں ایٹمی طاقتوں کے حامل ممالک کا مقابلہ کرنے کی جرأت کی ہو۔ تاہم افغان ایئر ڈیفنس فورس نے بہت کم وقت میں دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ اپنی مضبوط قیادت کے سہارے ہر ظالم اور جابر کے خلاف مناسب وقت پر اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان شر پسند نہیں، بلکہ شر اور شرپسند عناصر کا خاتمہ کرنے والے ہیں، اور اپنے مضبوط عزم، جان نثار قوم، صالح قیادت اور ربِ لایزال جل جلالہ کی نصرت کے سہارے ہمیشہ اس عنوان کے مستحق رہیں گے کہ:
"افغان: شر اور شرپسند عناصر کو مٹانے والے۔”



















































