جب کسی ملک کے پڑوس اور خطے میں ایسے شرپسند عناصر اور گروہ موجود ہوں جو اس کی سلامتی، عوام، بھائی چارے اور خوشحالی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہوں، تو ایسے ممکنہ خطرات سے دوچار ملک پر لازم ہوتا ہے کہ وہ، امارت اسلامیہ افغانستان کی طرح، پاکستانی فوجی رجیم کی حدود میں موجود ان شرپسند عناصر اور گروہوں کو نشانہ بنا کر ان کا قلع قمع کرے۔
افغانستان کے ہمسایے میں پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے تخریبی اور خطرناک گروہوں کی تربیت اور سرپرستی امارت اسلامیہ افغانستان کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی اس کی تلافی ممکن ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم نے متعدد بار اپنے خفیہ مقاصد کے لیے داعش کے منصوبے اور اس گروہ کو استعمال کیا۔ امارت اسلامیہ افغانستان نے بارہا عالمی برادری، پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو اس خطرناک فتنے کے بارے میں متنبہ کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی داعش یا دیگر منصوبوں کے ذریعے افغانستان کے امن اور داخلی صورتِ حال کو نشانہ بنایا جائے۔ مگر مذکورہ رجیم کی خاموشی اور اپنی غلط پالیسی پر مسلسل اصرار نے ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا کہ ہم اپنی سرزمین اور اپنے نظام کے خلاف سرگرم عناصر کا خود سدباب کریں اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں انجام دیں۔
پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے افغانستان اور عمومی طور پر پورے خطے کے خلاف داعش کی تربیت اور سرپرستی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ اس رجیم کے عزائم افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے بارے میں نیک نہیں ہیں۔ وہ خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے منافقت اور تخریب کا طرزِ فکر رکھتی ہے اور عملاً خطے کے ممالک اور افغانستان کے خلاف نقصان اور جنگ کی راہ ہموار کر رہی ہے، کیونکہ داعش کی تربیت اور اس کی پشت پناہی کا مطلب خطے کے ممالک اور افغانستان کو نقصان پہنچانا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کی جانب سے خطے اور افغانستان کو درپیش مشترکہ خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کے محدود فضائی دائرے میں فضائی اور ڈرون حملے کر کے ان خطرات کا خاتمہ نہ صرف ممکنہ خطرات کے مقابلے میں امارت کے سخت مؤقف اور فیصلہ کن طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستانی فوجی رجیم کے لیے واضح پیغام بھی ہے کہ اگر اس نے دوبارہ ایسے شرپسند عناصر کی تربیت کی اور پاکستان کی سرزمین کو ان کے لیے استعمال ہونے دیا تو اس کے نتائج اس سے کہیں زیادہ سخت اور انتقامی ہوں گے، جن کی تمام تر ذمہ داری پاکستانی فوجی رجیم پر عائد ہوگی۔
اور اگر پاکستان کی موجودہ فوجی رجیم اور اس سے وابستہ حلقے ہمسائیگی کے اصولوں، نیز امارت اسلامیہ افغانستان کی سرزمین کے احترام اور اس کی حرمت کو نظرانداز کرتے رہے، اور اس کے باوجود داعش، مقامی اربکیوں اور امارت مخالف محاذوں جیسے شرپسند عناصر کی سرپرستی اور تربیت جاری رکھی، تو امارت اسلامیہ افغانستان اس بات کی پابند ہوگی کہ ایسے عناصر اور ان کے سرپرست گروہوں کے خلاف، وہ دنیا کے کسی بھی ملک یا مقام پر موجود ہوں، موجودہ کارروائیوں کی طرح ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے بھرپور، فیصلہ کن اور انتقامی حملے اور آپریشن کرے۔
اگر اس ممکنہ خطرے کے باوجود بھی مذکورہ فوجی رجیم اور اس سے وابستہ حلقے خاموش رہے اور ان غداری پر مبنی اور بدنیتی پر مبنی اقدامات سے باز نہ آئے، تو امارت اسلامیہ افغانستان اپنے موجودہ مؤقف سے کئی گنا زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب اور کارروائی کا اعادہ کرے گی۔ لہٰذا پاکستانی فوجی رجیم کو چاہیے کہ وہ اپنے نقصان دہ اور خطرناک اقدامات کے جواز تراشنے کے بجائے ان کی تکرار روکنے کی پالیسی اختیار کرے، تاکہ مستقبل میں امارت کو اس نوعیت کے تاریخی آپریشن دوبارہ کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔


















































