پاکستانی فوجی رجیم کے مخصوص حلقے مسلسل کئی مرتبہ افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر چکے ہیں اور شہری آبادیوں پر بمباری کرتے رہے ہیں، جن میں ہمیشہ بچوں، خواتین اور عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بہت سے ممالک اپنے سیاسی ڈھانچے اور پالیسیوں کے باعث داخلی سکیورٹی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ مسائل بعض اوقات بغاوت کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات ظلم و استبداد سے نجات کی جدوجہد کو جنم دیتے ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم بھی اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہے، جہاں بدامنی اور مزاحمت کا سرچشمہ خود پاکستان کے اپنے شہری ہیں، جو اسی سرزمین پر اس رجیم کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستانی فوجی رجیم کے مخالفین پاکستان کے اندر موجود ہیں اور عوام کے درمیان رہتے ہوئے اسی رجیم کے خلاف مسلسل حملے اور مسلح کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود الزام افغانستان پر عائد کیا جاتا ہے کہ وہ مخالف گروہوں کو پناہ دے رہا ہے۔ جب جنگ اور مخالفین خود پاکستان کے اندر موجود ہیں تو پھر اس قسم کے الزامات اور دعووں کا کیا جواز ہے؟
پاکستانی فوجی رجیم اپنی آمرانہ، ظالمانہ اور بیرونی طاقتوں کی تابع پالیسیوں کے باعث عوامی سطح پر شدید بے اطمینانی کا سامنا کر رہی ہے۔ یہی بے اطمینانی آج مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آج بھی اس ملک میں متعدد رجیم مخالف گروہ موجود ہیں، جو اسی پاکستانی مسلمان عوام میں سے ابھرے ہیں اور رجیم کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔
پاکستان افغانستان پر مخالف گروہوں کی موجودگی کا الزام اس لیے لگاتا ہے تاکہ اپنی داخلی بدامنی کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال سکے، نہ کہ اپنے داخلی مسائل کو تسلیم کرے، اور یوں اپنے ظلم و بربریت کا رخ افغان عوام کی طرف موڑ دے۔ امارت اسلامیہ کے اقتدار کے قیام کے بعد افغانستان کی سرزمین مکمل طور پر آزاد اور ایک خودمختار شرعی نظام کے زیرِ انتظام آ گئی، جہاں الحمد للہ آج پورے افغانستان میں ایک امیر اور ایک قیادت کی عملداری قائم ہے۔
ماضی میں، دیگر ہمسایہ ممالک کی طرح یا امریکی قبضے کے دور میں، افغانستان کی سرزمین بڑی طاقتوں اور خفیہ اداروں کے مقاصد کا مرکز بنی ہوئی تھی، لیکن آج یہ سرزمین بیرونی مداخلت اور خفیہ حلقوں کے اثر و رسوخ سے آزاد ہے۔ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھی کسی ہمسایہ یا علاقائی ملک کے خلاف کسی بیرونی گروہ یا تنظیم کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پاکستانی رجیم اپنی ناکامیوں اور داخلی بدامنی پر پردہ ڈالنے اور عوام کو جواب دہی سے بچنے کے لیے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف گروہ موجود ہیں۔ یہ دعوے عقلِ سلیم کے نزدیک ناقابلِ قبول ہیں۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ اس ملک کے بے بنیاد الزامات اور اندھے فیصلوں کا نتیجہ ہمیشہ بے گناہ اور مظلوم شہریوں پر وحشیانہ حملوں کی صورت میں نکلا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی بے بنیاد باتوں اور جھوٹے الزامات کو دہراتا ہے اور اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ہم نے پاکستانی رجیم کے اندر داعش کی موجودگی کے بارے میں مستند شواہد اور ثبوت پیش کیے اور اس کے فوجی مراکز میں ان کی موجودگی ثابت کی، اس کے باوجود یہ رجیم اپنی شرمندگی اور جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے منافقانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے دنیا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنے ظلم و بربریت سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ دنیا کے نام نہاد بین الاقوامی اداروں کے نزدیک داعش ایک اہم مسئلہ ہے، نہ کہ بے گناہ مسلمان شہریوں کا قتلِ عام۔ اسی لیے پاکستانی رجیم ظلم و بربریت کا داغ تو اپنے سر لینے پر آمادہ ہے، لیکن داعش اور دیگر بین الاقوامی گروہوں کی موجودگی کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی خود کو اس کا ذمہ دار مانتی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم خباثت کی جڑ ہے۔ وہ اپنے ان مخالفین کو، جو اسی کی سرزمین پر موجود ہیں، اس لیے نشانہ نہیں بناتئ کہ کہیں پاکستانی عوام اس کے خلاف مزید نہ اٹھ کھڑے ہوں اور رجیم مخالف قوتوں کا ساتھ نہ دینے لگیں۔ وہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کا اصل مسئلہ اس کے اپنے ملک کے اندر ہے، اس کے مخالفین بھی اسی کی سرزمین پر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود اپنے اقتدار کے تحفظ اور بقا کے لیے وہ بار بار ایسے اقدامات دہراتی ہے، جو کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں۔




















































