افغانستان ایشیا کے قلب میں واقع وہ ملک ہے جو اپنے اسٹریٹیجک محلِ وقوع، آزادی پسند عوام اور گہرے تاریخی ورثے کی بدولت دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس سرزمین کی تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں کی تاریخ نہیں، بلکہ آزادی، مزاحمت، صبر و استقامت اور قومی شناخت کی بھی تاریخ ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں متعدد طاقتور بیرونی سلطنتوں نے افغانستان کو اپنے زیرِ تسلط لانے کی کوشش کی، مگر افغان عوام کی ثابت قدم مزاحمت کے باعث وہ اپنی منزل تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکیں۔ یہ حقیقت دنیا کی تاریخ کے بے شمار صفحات پر ثبت ہے۔
قدیم تاریخ کے مطابق سکندر مقدونی کا لشکر بھی اس سرزمین کی شدید مزاحمت سے دوچار ہوا۔ اس کے بعد مختلف سلطنتوں کے درمیان کشمکش کا سلسلہ جاری رہا، مگر افغانستان کے پہاڑوں، وادیوں اور عوام نے ہمیشہ آزاد زندگی گزارنے کے اپنے عزم کو برقرار رکھا۔ انیسویں صدی میں برطانوی استعمار کے خلاف جنگوں کے دوران افغانوں نے اپنی آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ انہی جدوجہد کے نتیجے میں افغانستان نے اپنی آزادی برقرار رکھی اور عالمی تعلقات میں ایک آزاد اور خودمختار حیثیت اختیار کی۔
بیسویں صدی میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے نے بھی ایک طویل جنگ کو جنم دیا۔ اس جنگ نے دونوں فریقوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور بالآخر بیرونی افواج کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد نیٹو اور امریکہ کی بیس سالہ جنگ بھی شدید جنگوں اور بڑے انسانی و معاشی نقصانات کی گواہ رہی۔
افغان عوام نے ہمیشہ اپنے ملک کی آزادی اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ امن، حسنِ ہمسائیگی اور باہمی احترام کے بھی خواہاں رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس بھی طاقت نے افغانستان کے عوام کی اجتماعی خواہشات کو نظرانداز کیا، اسے طویل المدت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لیے افغانستان کے بارے میں فیصلے کرنے والے ہر بیرونی فریق کے لیے اس سرزمین کے تاریخی تجربات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ ماضی کے تجربات واضح کرتے ہیں کہ باہمی احترام، سیاسی مفاہمت اور پُرامن ذرائع اختیار کرنا تنازعات کو طول دینے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
تاریخ عبرت کی کتاب ہے۔ جو قومیں تاریخ سے سبق سیکھتی ہیں، وہ مستقبل کی غلطیوں سے بچ جاتی ہیں، جبکہ جو تاریخ کو نظرانداز کرتی ہیں، وہ اکثر انہی تلخ تجربات کو دوبارہ دہراتی ہیں۔ افغانستان اسی تاریخی حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔ افغان عوام وہ قوم ہیں جنہوں نے اپنی طویل تاریخ کے دوران مختلف سلطنتوں، حملہ آوروں اور جارح افواج کے مقابلے میں مزاحمت کی، بے شمار قربانیاں دیں اور اپنے وقار، آزادی اور قومی شناخت کا تحفظ کیا۔
انہی تاریخی تجربات نے افغان عوام کو یہ سبق دیا ہے کہ مشکلات، جنگیں اور دباؤ عارضی ہوتے ہیں، جبکہ قومی عزم اور ایمان ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قسم کے فوجی دباؤ کے باوجود اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہیں اور خوف کے بجائے صبر، استقامت اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران افغانستان پر وحشیانہ فضائی حملے کر کے اپنی داخلی سلامتی کے بحران کو سرحد پار منتقل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ پالیسی نہ صرف ناکام ثابت ہوئی بلکہ اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا، علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالا اور پاکستان کی داخلی ناکامیوں کو مزید نمایاں کر دیا۔
28 جون 2026ء کو پاکستانی فوجی رجیم نے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے صوبوں پر فضائی حملے کیے، جن میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ان حملوں میں 36 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید ہوئے جبکہ 163 دیگر زخمی ہوئے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ 16 مارچ 2026ء کو کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ایک مرکز پر ہونے والے حملے میں 400 سے زائد افراد جان سے گئے۔ فروری 2026ء میں فرضی سرحد کے قریب اندھا دھند بمباری کے نتیجے میں بھی درجنوں افراد شہید ہوئے۔ اسی طرح 2026ء کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران یوناما نے پاکستانی حملوں کے نتیجے میں 750 سے زائد شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا اندراج کیا۔
اگر فوجی رجیم یہ سمجھتی ہے کہ بمباری، میزائل حملوں اور بے گناہ شہریوں کو شہید کر کے وہ افغان مجاہد عوام کے عزم کو توڑ دے گی تو اسے تاریخ کے صفحات کا ایک بار پھر مطالعہ کرنا چاہیے۔۔ طاقت، تشدد اور بے گناہ انسانوں کا قتل کبھی بھی کسی قوم کے نظریے، عقیدے اور قومی عزم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ افغان عوام امن کے خواہاں ہیں، لیکن امن کا مطلب کمزوری ہرگز نہیں۔ ہر قوم کو اپنے ملک، اپنی آزادی اور اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جو بھی افغان سرزمین پر طاقت آزمانا چاہتا ہے، اسے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، کیونکہ یہ سرزمین قبضے، جارحیت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل اور روشن تاریخ رکھتی ہے۔
اسی طرح اگر پاکستانی فوجی رجیم واقعی اپنی سرزمین کے امن و امان کی خواہاں ہے تو اسے اپنی داخلی سکیورٹی کمزوریوں کا حل اپنے ہی ملک میں تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ افغانستان کے خلاف طاقت اور تشدد کی پالیسی اختیار کرے۔ دوسرے ممالک کی سرزمین پر حملے مسائل حل کرنے کے بجائے پورے خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار بناتے ہیں، اور اس کی آگ افغانستان سے زیادہ خود پاکستان کو جلاتی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم کو یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ عوام کے درمیان دشمنی پیدا کرنا، جنگ کی آگ بھڑکانا اور بے گناہ شہریوں کو قربانی کا نشانہ بنانا نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے خود پاکستان کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ طاقت کی پالیسی ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہے، مگر قوموں کی یادداشت طویل ہوتی ہے اور ظلم کا ہر واقعہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر فوجی رجیم یہ تصور کرتی ہے کہ افغانوں کے گھروں پر حملے، بچوں اور خواتین کو شہید کرنا اور فرضی سرحد پر عدم استحکام پیدا کرنا افغان عوام کو جھکا دے گا، تو یہ تصور حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ افغان عوام اپنی تاریخ میں اس سے کہیں بڑے امتحانات سے گزر چکے ہیں اور ہر مرتبہ سخت ترین حالات کے باوجود اپنے قومی اتحاد اور استقامت کو برقرار رکھا ہے۔
وحشی رجیم کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ بے گناہ افغانوں کا خون بہا کر، بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا کر، گھروں کو مسمار کر کے اور شہری آبادی پر بمباری کر کے وہ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گی بلکہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں بھی ناکامی اس کا مقدر ہوگی۔ جو حکمران دوسروں کی خوشنودی کے لیے اپنی سیاست کو طاقت، تشدد اور خونریزی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں، وہ درحقیقت اپنی سیاسی ساکھ اور مستقبل کی تباہی کی بنیاد خود رکھتے ہیں۔ افغان عوام کے خلاف ہر قسم کی جارحیت نہ صرف اس قوم کے عزم و مزاحمت کو مزید مضبوط کرتی ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی اس رجیم کی ساکھ اور حیثیت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
دوسروں کی خوشنودی کے لیے افغان عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کوئی اعزاز ہے، نہ کامیابی اور نہ ہی دانشمندانہ سیاست؛ بلکہ یہ آزادانہ فیصلہ سازی کی کمزوری اور دوسروں کے ایجنڈے کی پیروی کا واضح ثبوت ہے۔ آخرکار وحشی رجیم کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ امارت اسلامیہ افغانستان ان کمزور حکومتوں کی طرح نہیں جو گزشتہ برسوں میں پاکستان کی جارحیت پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھیں۔ بلکہ امارت اسلامیہ واضح کر چکی ہے کہ اگرچہ امن اور مذاکرات اس کی اولین ترجیح ہیں، لیکن اپنی سرزمین کی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے وہ پوری قوت، مکمل عزم اور بھرپور جرات کے ساتھ ہر جارح کو منہ توڑ جواب دے گی۔




















































