سیاسی تاریخ کا ایک تلخ ترین المیہ یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں اخلاقی جرائم اکثر تزویراتی تمغوں میں بدل دیے جاتے ہیں اور جو قدم قانون کی کتابوں میں سخت ترین سزا کا حق دار ہوتا ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ کے شطرنج پر ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔
جب ہم ستمبر 1970ء میں اُردن کی دھرتی پر لڑی جانے والی خون ریز خانہ جنگی یعنی ‘بلیک ستمبر’ کے اوراق پلٹتے اور اس کا موازنہ معاصر پاکستانی تزویراتی منظرنامے سے کرتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا غیر تحریری ضابطہ اور تسلسل نظر آتا ہے، جہاں ‘ریاست کی رٹ’ اور ‘ادارہ جاتی تحفظ’ کے نام پر فرد کے فیصلوں کو قانون سے بالاتر کر دیا جاتا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک پچاس سال پرانے واقعے کی نہیں… بلکہ ایک مخصوص فوجی کلچر کی ہے، جو آج بھی اسی تال پر رقصاں ہے۔
اس داستان کا آغاز 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ سے ہوتا ہے… جہاں مصر، شام اور اردن کی افواج کو اسرائیل کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ کوئی ناگہانی آفت نہیں تھی، بلکہ عرب حکمرانوں کی تزویراتی نااہلی، انٹیلی جنس کی فاش غفلت، باہمی بے اعتمادی اور قرآنی ہدایات کے برعکس عسکری تیاریوں کے فقدان کا منطقی نتیجہ تھا۔
اس جنگ کے نتیجے میں جب بیت المقدس اور مغربی کنارہ مسلم امہ کے ہاتھ سے نکل گئے تو لاکھوں فلسطینی اپنے ہی وطن میں دربدر ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
عرب حکومتوں کی اس تاریخی نااہلی نے فلسطینیوں کے اندر یہ شدید احساس پیدا کیا کہ ‘اگر انہوں نے خود ہتھیار نہ اٹھائے تو ان کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔’
یہی وہ مایوسی تھی، جس نے یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم (PLO) کو جنم دیا، جنہوں نے اردن کی سرزمین کو اسرائیل کے خلاف آخری مورچے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردن کے اندر فلسطینیوں کی طرف سے غیر ارادی طور پر اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری سرگرمیوں کی وجہ سے ‘ریاست کے اندر ریاست’ قائم ہوتی دکھائی دینے لگی۔
وہ مبینہ طور پر اردنی قوانین کو خاطر میں نہ لاتے اور ان کے اقدامات کی وجہ سے اردن نے یہ سمجھ لیا کہ ان فلسطینیوں کی وجہ سے اُس کی اپنی خودمختاری داؤ پر لگ گئی ہے۔
ستمبر 1970ء کے اوائل میں جب ایک فلسطینی دھڑے PFLP نے کئی بین الاقوامی مسافر طیاروں کو ہائی جیک کر کے اردن کے صحرا میں اُتارا اور انہیں دھماکے سے اڑا دیا تو اُردنی شاہ حسین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
انہوں نے اسے اپنے تخت اور بقا کا چیلنج سمجھا اور فلسطینیوں کے خلاف ایک بھرپور اور بے رحمانہ فوجی آپریشن کا حکم دے دیا، جسے تاریخ ‘بلیک ستمبر’ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
اس خونی موڑ پر بعد ازاں پاکستان کے صدر بننے والے ایک بریگیڈیئر محمد ضیاء الحق منظرنامے پر سامنے آئے۔
وہ 1967ء سے ایک باقاعدہ اور اعلانیہ سرکاری عسکری مشن کے تحت اردنی فوج کو ٹریننگ دینے کے لیے وہاں تعینات تھے، جس کا مقصد 1967ء میں اسرائیل سے ہونے والی شکست کے بعد اردنی فوج کی تنظیمِ نَو اور گوریلا جنگ کی تربیت تھا۔
تاہم جب اردنی فوج اور پناہ گزین فلسطینیوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی تو پاکستانی بریگیڈیئر ضیاء الحق نے رسمی بین الاقوامی قوانین اور حکومتِ پاکستان کے طے شدہ مینڈیٹ سے صریح تجاوز کرتے ہوئے اردنی فوج کی تزویراتی اور آپریشنل کمانڈ سنبھال لی۔
ضیاء الحق کے زیرِ نگرانی فلسطینی کیمپوں پر وہ وحشیانہ بمباری اور فوجی کارروائی کی گئی، جس میں یاسر عرفات کے مطابق دس ہزار (10,000) سے پچیس ہزار (25,000) فلسطینی شہید ہوئے۔
یہ کارروائی اتنی شدید تھی کہ جب بریگیڈیئر ضیاء الحق پاکستان واپس پہنچے تو اس وقت کے کمانڈر اِن چیف جنرل گل حسن نے حکومت کی اجازت کے بغیر ایک دوسرے ملک کی داخلی جنگ میں حصہ لینے پر ضیاء الحق کے کورٹ مارشل کی سفارش کی…
مگر یہاں تاریخ نے ایک عجیب پلٹا کھایا۔ قانون کی نظر میں جس شخص کو سزا ملنی چاہیے تھی، شاہِ اردن کی ذاتی سفارش اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحت پسندانہ سوچ (Realpolitik) نے جنرل ضیاء الحق کے جرم کو ایک غیر معمولی عسکری اثاثہ قرار دے دیا۔
سزا کا وہ پروانہ پھاڑ دیا گیا اور یہ ‘تزویراتی جرم’ ضیاء الحق کی بے پناہ ترقی کا زینہ بن گیا، یہاں تک کہ 1976ء میں پاکستانی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سات سینیئر جنرلز کو بائی پاس کر کے ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا دیا اور بھٹو مرحوم کا یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جو خود جنابِ بھٹو کی زندگی کی سب سے بڑی تزویراتی غلطی اور موت کے پھندے کا باعث ثابت ہوا۔
بریگیڈیئر ضیاء الحق کے کورٹ مارشل کا رُک جانا دراصل پاکستانی فوج میں اُس غیر تحریری قانون کی پہلی اینٹ تھی، جو بعد کی دہائیوں میں پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ کا مستقل تنظیمی کلچر بن گئی۔ اس کلچر کے تحت ‘ادارہ جاتی یک جہتی’ کو بیرونی احتساب پر ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔
جب تک کوئی اعلیٰ عسکری افسر ادارے کے بنیادی ‘چین آف کمانڈ’ کے دائرے میں رہتا ہے، اس کی تزویراتی غلطیوں، فاش ناکامیوں یا پالیسی کے تضادات پر عوامی سطح پر کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ انہیں ‘وقت کی ضرورت’ کہہ کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔
اس تزویراتی کلچر اور پالیسیوں کے تضاد کی سب سے بہترین اور جدید ترین مثال ہمیں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تزویراتی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
ایک دور وہ تھا، جب جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے کابل حکومت کے تعاون سے پاکستانی عسکری تنظیم ٹی ٹی پی (TTP) کے ساتھ مذاکرات اور مصالحت کی پالیسی چلا رہے تھے، جس کے تحت قیدی رہا ہوئے اور عسکریت پسندوں کو واپس آباد کیا گیا۔
تاہم جب کمانڈ تبدیل ہوئی تو جنرل عاصم منیر کی قیادت نے جنرل فیض کی پالیسی کو 180 ڈگری پر گھما کر اُسے ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کا باعث قرار دے دیا۔
تاہم تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے بجائے جنگ کی پالیسی کو پاکستانی فوج کی جانب سے روایتی طور پر ‘جنگی معیشت’ کے بقا کی نظر سے دیکھتے ہیں، جو جنرل فیض حمید اور عمران خان کے اکٹھ سے ختم ہوتی دِکھائی دے رہی تھی۔
چناںچہ تجزیہ کاروں کے نزدیک ‘وار اکانومی’ کے تحفظ کی خاطر جنرل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات کی پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف زیرو ٹالرنس اور جنگ کا راستہ چنا۔
یہاں دل چسپ اور گہرا نکتہ یہ ہے کہ تزویراتی پالیسی کی اس فاش ناکامی اور تضاد پر عسکری قیادت نے کبھی عوام کو جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
اسی تناظر میں جب جنرل فیض حمید کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت سنگین تادیبی کارروائی اور گرفتاری عمل میں آئی تو وہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی تزویراتی ناکامی پر نہیں تھی، بلکہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکینڈل (ٹاپ سٹی) میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہونے کے الزامات پر ہوئی۔
پاکستانی فوج کا یہ عملی تضاد اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں سزا یا احتساب کی حدِ فاصل اُس وقت شروع ہوتی ہے، جب کوئی افسر فوجی تنظیمی ڈسپلن کو چیلنج کرے، ادارہ جاتی مجموعی مفادات کے متوازی اپنا کوئی انفرادی ایجنڈا چلانے لگے یا ریٹائرمنٹ کے بعد ریاستی پالیسی کے برعکس سیاسی عمل کا حصہ بن کر مقتدرہ کی روایتی لائن کو کراس کر جائے۔
البتہ جب تک کوئی بھی فوجی افسر فوج کے سیاست پر کنٹرول، وار اکانومی کے تحفظ، پارلیمنٹ کو ہائی جیک کرنے اور امریکی منصوبوں کی ضروری تکمیل جیسے مجموعی مفادات کی لکیر عبور نہیں ہوتی، تب تک بڑے سے بڑے فوجی افسر کا بڑے سے بڑا جرم بھی مصلحت کے پردوں میں چھپا رہتا ہے۔
بلکہ اب تو یہ بھی ممکن ہو گیا ہے کہ اس جرم کو ہی تاحیات قانونی استثناء دے دیا جائے…
چناں چہ بلیک ستمبر 1970ء کے اُردن سے لے کر معاصر پاکستان کے تزویراتی فیصلوں تک کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب ریاستیں اور مقتدرہ عوامی جوابد ہی اور شفافیت کے بجائے ادارہ جاتی استثنا کو اپنا اصول بنا لیتی ہیں تو حق و باطل کی لکیریں دھندلی ہو جاتی ہیں۔
ایک عام شہری یا فلسطینییوں جیسے پناہ گزین کی نظر میں جو ان کے بنیادی حقوق اور بقا کی جنگ ہوتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے (Narrative Building) میں اسے ‘ریاست کی رٹ’ یا ‘داخلی فتنہ’ قرار دے کر کچل دیا جاتا ہے۔
اگر زیادہ ضرورت محسوس ہو تو دربار سے منسلک علماء کو حاصل کر کے خوارج وغیرہ کے فتوے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
شاید یہ آئیڈیا جنرل ضیاء الحق کے پاس نہیں تھا، ورنہ وہ ریاستِ اُردن کے باغی ہونے کے ساتھ ساتھ خوارج بھی قرار دیے جا سکتے تھے…
طاقت کا یہ کھیل شاید عارضی طور پر سلطنتوں اور اداروں کو تو بچا لیتا ہو، لیکن تاریخ کے کٹہرے میں یہ سوال ہمیشہ قائم رہتا ہے کہ تزویراتی کامیابیوں کی قیمت آخر کب تک عام انسانوں کے خون اور دربدری سے چکائی جاتی رہے گی؟




















































