افغانستان کی تاریخ ہمیشہ شدید نشیب و فراز سے دوچار رہی ہے، لیکن اس کی پوری تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور ملتا ہو جب اس ملک پر امن و استحکام کا سایہ آج کی طرح اس قدر وسیع پیمانے پر پھیلا ہو۔ آج افغانستان میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ملک کی سیاسی ماحول اور معاشرتی نظم میں ایک بنیادی انقلاب ہے۔ موجودہ امن و استحکام نے افغانستان کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے؛ ایسا باب جس میں ماضی کی دائمی تشویشوں کی جگہ روشن مستقبل نے لے لی ہے اور تعمیر و ترقی کی وسیع امیدیں دکھائی دینے لگی ہیں۔
اس تبدیلی کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے افغانستان کے ماضیِ قریب پر ایک نگاہ ڈالنا ضروری ہے؛ وہ دور جب ہر دن کسی دھماکے، اغوا یا مسلح جھڑپ کی خبر لے کر آتا تھا۔ اُس زمانے میں امن ایک اجنبی اور ناقابلِ حصول تصور دکھائی دیتا تھا۔ بازار دن ڈھلنے سے پہلے ہی ویران ہو جاتے اور شام ہوتے ہی سڑکیں خوف میں ڈوبی سنسان گلیوں کا منظر پیش کرنے لگتیں۔ مگر آج یہ پورا منظرنامہ بدل چکا ہے۔ آج امن محض ایک وعدہ نہیں، بلکہ ملک کے گوشے گوشے میں محسوس کی جانے والی ایک حقیقت ہے۔ وہ شاہراہیں جو کبھی موت کی گزرگاہوں کے نام سے مشہور تھیں، آج محفوظ اور پُررونق راستوں میں تبدیل ہو چکی ہیں؛ تجارتی قافلے پورے اطمینان کے ساتھ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک رواں دواں ہیں۔ یہ تبدیلی کوئی معجزہ نہیں، بلکہ ان مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے نئے سیاسی نظام کے زیرِ سایہ اس ملک کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونک دی ہے۔
آج افغانستان میں امن کا مفہوم مزید وسعت اور گہرائی اختیار کر چکا ہے۔ امن سے مراد محض جنگ اور تشدد کا خاتمہ نہیں، بلکہ قانون کی مؤثر حکمرانی، نظمِ عامہ اور معاشرے کے مختلف طبقات میں اطمینان و سکون کا احساس بھی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ خاندان رات کے وقت بھی اطمینان کے ساتھ پارکوں میں سیر کرسکتے ہیں۔ بچے اغوا کے خوف کے بغیر اسکول جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ روزمرہ کے مناظر دنیا کے دوسرے حصوں میں معمول کی بات سمجھے جائیں، لیکن افغانستان کے لیے یہ ایک نئے دور کے آغاز کی نوید ہیں۔ آج ہم جس امن کا مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ متحدہ قیادت، سکیورٹی فورسز کے باہمی نظم و ربط اور اسلامی نظام کے ساتھ عوام کے وسیع تعاون کا نتیجہ ہے۔
اس سلسلے میں اسلامی نظام کی سب سے بڑی کامیابی ملک میں امن کے قیام کے لیے ایک مربوط اور مؤثر ڈھانچے کی تشکیل ہے۔ ماضی کے برعکس، جب متعدد سکیورٹی ادارے اور بعض اوقات باہم متضاد تنظیمیں الگ الگ سرگرمِ عمل تھیں، آج تمام عسکری اور سکیورٹی فورسز ایک مرکزی قیادت کے زیرِ انتظام، ایک متفقہ منصوبے اور واضح مقصد کے تحت سرحدوں کی حفاظت اور نظمِ عامہ کے استحکام میں مصروف ہیں۔
اس تزویراتی ہم آہنگی نے ملک کی دفاعی صلاحیت کو اس سطح تک پہنچا دیا ہے کہ ہر سکیورٹی خطرے کی، بحران کی صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی، نشان دہی کرکے اسے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ سرحدوں سے لے کر شہروں کے اندرونی علاقوں تک نظم و امن ایک ہمہ گیر اصول بن چکا ہے اور کوئی گروہ یا طاقت اس مضبوط قلعے میں شگاف ڈالنے کی قدرت نہیں رکھتی۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ آج کا امن عوام اور اسلامی نظام کے درمیان بے مثال تعاون کا نتیجہ ہے۔ یہ تعاون ایک جانب سکیورٹی اداروں پر عوام کے گہرے اعتماد کا اظہار ہے اور دوسری جانب اُس معاشرے کی سیاسی پختگی کی علامت ہے جس نے برسوں کی بدامنی کے بعد امن و نظم کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ عوام سکیورٹی فورسز کے بہترین معاون ہیں اور بروقت معلومات کی فراہمی، غیر ضروری تنازعات سے اجتناب اور قیامِ نظم کے پروگراموں میں شرکت کے ذریعے اس استحکام کے تسلسل میں ناقابلِ بدل کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس دوطرفہ تعلق نے امن کو ایک مسلط کردہ حالت سے نکال کر ایسی عمومی ثقافت میں تبدیل کر دیا ہے جس کی جڑیں معاشرے کے عقائد و اقدار میں پیوست ہو چکی ہیں۔
اس استحکام کے اثرات صرف عسکری امن تک محدود نہیں رہے، بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں تک بھی پھیل گئے ہیں۔ ملکی معیشت نے ایک نئی کروٹ لی ہے؛ شاہراہیں تجارت سے بھرپور شریانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، بازاروں کی سابقہ رونق بحال ہوگئی ہے اور سرمایہ کار پہلے سے زیادہ جوش و رغبت کے ساتھ تعمیراتی اور پیداواری منصوبوں پر عمل درآمد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں غربت اور بے روزگاری میں بھی کمی آئی ہے اور اس سرزمین کے نوجوانوں کے دلوں میں روشن مستقبل کی امید جڑ پکڑنے لگی ہے۔ یوں امن پائیدار ترقی کی ایک محرک قوت بن گیا ہے اور سیاسی استحکام کا اقتصادی ترقی کے ساتھ گہرا رشتہ قائم ہوگیا ہے۔
آج کا افغانستان عالمی برادری کی توجہ کا مرکز ہے، مگر اس مرتبہ جنگ اور بدامنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ قائم ہونے والے امن و استحکام کے باعث۔ یہ عظیم تبدیلی کسی بیرونی طاقت کی عطا نہیں، بلکہ ایک ملت کی جدوجہد، پختہ عزم اور ایک نظام کی تدبیر کا ثمر ہے۔ اسلامی نظام اپنے ملکی اصول و اقدار سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار اور یکساں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان اب دائمی بحرانوں کی سرزمین نہیں، بلکہ خطے اور دنیا کے لیے نظم و استحکام کی ایک مثال ہے۔
تاریخ کے اس نئے دور کی داستان ملت کی بلند ہمتی اور اسلامی نظام کی دانش مندانہ انتظام کاری کے قلم سے لکھی گئی ہے۔ آج کا امن و استحکام ایک عظیم سرمایہ ہے، جس کی بصیرت اور اتحاد کے ساتھ حفاظت کی جانی چاہیے، تاکہ اس سرزمین کا تعمیر و ترقی سے معمور افقوں کے ساتھ تعلق روز بروز مزید مستحکم ہوتا چلا جائے۔




















































