پاکستان فوجی رجیم کے زیرِ اقتدار ایسا ملک بن چکا ہے جو ہر صبح ایک نئے بحران کی خبر کے ساتھ آنکھیں کھولتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ملک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہو کہ جتنا خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے، اتنا ہی اس میں گہرا ڈوبتا جاتا ہے۔ لیکن اگر معاملے کا درست جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ بحران اب اتفاقی نہیں رہے، بلکہ ایک ساختی اور مستقل صورتِ حال میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ معیشت سے لے کر سکیورٹی تک، سیاست سے لے کر سماجی امور تک، اس ملک میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور ایک انتشار زدہ اور افسوس ناک صورتِ حال کی تصویر پیش کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت کئی برسوں سے بیرونی امداد اور بے شمار، مسلسل قرضوں کے سہارے کھڑی رہی ہے۔ یہ ملک اب تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ۲۴ مرتبہ معاہدے کر چکا ہے اور اس فنڈ کا تازہ ترین پروگرام بھی محض ایک عارضی مسکن ہے جو درد کو تو کم کرتا ہے، لیکن بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ معاشی نمو ۳.۵ فیصد سے کم ہے، جبکہ ہر سال افرادی قوت کی تعداد ۲۰ لاکھ افراد بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال بے روزگاروں کی تعداد مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
ٹیکسوں اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب تقریباً ۱۰ فیصد ہے، جس کی خطے میں دوسری کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یعنی حکومت اپنی معیشت سے آمدنی جمع کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔ عوامی قرضے مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً ۶۶ فیصد تک پہنچ چکے ہیں اور اس سال بیرونی قرضوں کی واپسی کی رقم بڑھ کر ۱۲.۸ ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ہر سال اپنے سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینے پر مجبور ہے، تاکہ صرف اپنے قدموں پر کھڑا رہ سکے۔
پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال اس مرحلے تک پہنچ چکی ہے کہ دارالحکومت بھی اب محفوظ نہیں رہا۔ ۲۰۲۵ء میں اس ملک میں ۶۹۹ حملے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۳۴ فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ صرف ایک واقعے میں، فروری ۲۰۲۶ء میں اسلام آباد کی ایک شیعہ امام بارگاہ میں دھماکا ہوا، جس میں کم از کم ۳۱ افراد ہلاک اور ۱۶۹ زخمی ہوئے۔ اسی سال ستمبر میں شمالی وزیرستان میں بارود سے بھری ایک گاڑی سکیورٹی پوسٹ سے ٹکرا دی گئی، جس کے نتیجے میں ۱۱ افراد ہلاک ہوئے۔ مئی کے مہینے میں بھی خیبر پختونخوا میں ایک حملے میں ۱۵ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک پورے ملک میں کم از کم ۸۶۰ پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲۲ فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک بات واضح کرتے ہیں اور وہ یہ کہ پاکستان کی حکومت اپنی سکیورٹی کی صورتِ حال پر کنٹرول کھو چکی ہے۔
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بھی جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف، جس کے سربراہ جیل میں ہیں، نے ۴ اکتوبر کو ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل کی ہے اور حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت میں دسیوں ہزار اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور شہر کے داخلی راستے بند کر دیے ہیں۔ اسی دوران عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کو ایک کے بعد ایک اغوا کیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے صوبائی حکام کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ملک ’’خانہ جنگی‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تصادم محض ایک معمولی سیاسی تنازع نہیں، بلکہ پاکستان میں اقتدار کے ڈھانچے کے انہدام کی علامت ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں مرکزی حکومت کا عملی طور پر کوئی مؤثر وجود نہیں ہے۔ بیلجیم کے سفارت خانے نے اپنے سفری انتباہ میں کہا ہے کہ ان علاقوں کا سفر ’’مکمل طور پر ممنوع‘‘ ہے اور وہاں حملے ہفتہ وار بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھی ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے حصے کا علاقہ حکومت اور فوجی رجیم کے کنٹرول سے نکل چکا ہے اور ایسے علاقے میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں خود اس ملک کے شہری بھی جانے کی جرأت نہیں کرتے۔
لیکن سب سے تلخ بات یہ ہے کہ یہ بے بس فوجی رجیم جب خود کو ان تباہ کن بحرانوں کے سامنے لاچار دیکھتی ہے تو اپنے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے جنون اور فتنہ انگیزی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم نے بارہا داعش اور ’’شر و فساد‘‘ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی سکیورٹی کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس رجیم کا مقصد واضح ہے کہ اگر وہ اپنے داخلی بحرانوں کو حل نہیں کر سکتی تو کم از کم افغانستان کی ترقی اور سکیورٹی کی راہ روکنا چاہتی ہے، تاکہ شاید اس طرح اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکے۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے بلکہ ایسی رجیم کی علامت بھی ہے جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ہر قسم کے جرم کا ارتکاب کر سکتی ہے۔ جو رجیم اپنے دارالحکومت کی سکیورٹی بھی یقینی نہ بنا سکے، وہ خطے کی قیادت کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟ یہ ایک ایسے ملک کی افسوس ناک تصویر ہے جسے بحران اندر ہی اندر کھا رہے ہیں اور افق پر بہتری کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے بحرانوں میں منہدم ہو جائے، اپنے ہمسائے کو بھی اپنے ساتھ تاریکی کی کھائی میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔
لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ افغانستان اب وہ لاوارث اور کٹھ پتلی ملک نہیں رہا جو کل تھا۔ یہ سرزمین آج اپنے حقیقی مالک رکھتی ہے، وہ عوام جنہوں نے کئی دہائیوں کی مشکلات اور جدوجہد کے بعد اپنی حکمرانی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور کسی بھی طاقت کو اجازت نہیں دیں گے کہ ان کی سرزمین، ناموس اور سکیورٹی پر تجاوز کرے۔ وہ کھلی آنکھوں اور مضبوط حوصلوں کے ساتھ اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے میں کاری جواب دیں گے۔ یہ سکیورٹی اور ترقی، یہ عزت اور سربلندی اس سرزمین کے بدخواہوں اور دشمنوں کی آنکھ کا کانٹا بنے، خدا کرے کہ حاسدوں کی آنکھیں اندھی اور تجاوز کرنے والوں کے ہاتھ ٹوٹ جائیں۔


















































