پاکستان صرف فوجی رجیم کا نام نہیں، بلکہ یہاں کروڑوں لوگ بھی آباد ہیں، جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ اسلامی شعائر و اقدار کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی روایات، ثقافتی قدروں اور معاشرتی رسم و رواج کے حامل ہیں جو دنیا کے دیگر مسلمانوں، بالخصوص افغانوں کے ساتھ مشترک ہیں۔
یہ لوگ برسوں سے اسلامی ممالک کے پڑوس میں رہتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کبھی یہ خود دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرتے رہے ہیں اور کبھی دوسرے ملکوں کے باشندے مہاجرین کی حیثیت سے ان کے ہاں آتے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں اور حقوق کے حق دار ہیں اور انہیں یہ حقوق میسر ہونے چاہییں۔ انہی حقوق میں ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ ان پر قائم نظامِ حکومت کی نوعیت مکمل طور پر اسلامی ہو اور ان کے حکمران ایسے ہوں جو انہیں زندگی کے تمام جائز حقوق فراہم کریں۔
ان کی جان محفوظ ہو، ان کی عزت، مال، عقل، دین اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہوں جن کا تحفظ مسلمانوں کا جائز حق ہے۔ مگر اس کے برعکس پاکستان کی متنازع سرزمین پر ایک ایسا رجیم مسلط ہے جس نے اپنے عوام کو مذکورہ بالا حقوق سے بڑی حد تک محروم کر رکھا ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم کو چاہیے تھا کہ خطے کے ممالک اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات قائم کرتا اور اپنے عوام کے لیے ایک پُرامن نظامِ حکومت وجود میں لاتا؛ مگر اس کے برعکس وہ دوسروں کے اسلام مخالف اور امن مخالف منصوبے لیتا ہے، انہیں اپنے عوام اور ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اسی ذریعے سے اپنے مذموم مفادات کا تحفظ اور اس کے عوض فائدے حاصل کرتا ہے۔
وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے لیے ہمہ جہت ماحول فراہم کرتا ہے، مختلف دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتا اور ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کے قیام اور چھپنے کے لیے کیمپ بناتا ہے۔ داعش اور افغانستان کی سابقہ جمہوری حکومت کے فراری شرپسند عناصر وہاں منظم کیے جاتے ہیں، فرضی ڈیورنڈ لائن کے قریب انہیں تربیت دی جاتی ہے، ان کے لیے ٹھکانے قائم کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں انہیں افغانستان اور پاکستان کے عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف افغانستان اور پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
افغان سرزمین پر فوجی رجیم کے حالیہ فضائی حملوں نے ایک بار پھر اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔ ان حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے شہریوں، خواتین اور بچوں کی تعداد باعثِ تشویش ہے۔ پاکستانی عوام کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا کسی ملک کے داخلی سلامتی کے مسائل دوسرے ملک کے دیہات، گھروں، ملکی تنصیبات اور عوام پر بمباری کرکے حل کیے جاسکتے ہیں؟
پاکستان کئی برسوں سے بدامنی، بے روزگاری، سیاسی بحران، معاشی دباؤ اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ لہٰذا ان مسائل کی جڑیں اپنی ہی سرزمین میں تلاش کرنے کے بجائے ان کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کی جاتی ہے۔ افغانستان کی طرف جنگ کا دائرہ وسیع کرنا خود پاکستانی عوام کے لیے مزید مسائل پیدا کرتا ہے؛ جنگ بجٹ کھا جاتی ہے، معیشت کو کمزور کرتی ہے، سرمایہ کاری اور تجارت کو نقصان پہنچاتی ہے اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب بسنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
لیکن ان مسائل کا حل یہ ہرگز نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جائے۔ اگر کوئی مخصوص دہشت گرد ہدف موجود ہے تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں، اور جنگ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
2026ء کا معاہدۂ مکہ، جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پایا ہے، ایک رکن کے خلاف حملے کو سب کے خلاف حملہ قرار دیتا ہے۔ پاکستانی رجیم اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انہی مقدس ناموں کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی پیروی کر رہا ہے۔ افغانستان کے خلاف کسی بھی بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا ایسے اقدامات خطے کے استحکام، پاکستان کے نئے دفاعی وعدوں اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کے ان اعلان کردہ اصولوں سے متصادم نہیں ہیں؟
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے معاشی مسائل افغان بچوں کو قتل کرنے سے حل نہیں ہوں گے؛ ان کا امن و تحفظ کسی دوسرے ملک پر بمباری سے یقینی نہیں بنایا جاسکتا؛ اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب مسلمانوں کا خون بہانا خطے کے بہتر مستقبل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
پاکستان اور افغانستان کے عوام مشترک تاریخ، دین، ثقافت، تجارتی روابط اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کا مفاد جنگ کو وسعت دینے میں نہیں، بلکہ تنازعات کے دانش مندانہ حل، شہریوں کے تحفظ اور باہمی اقتصادی تعاون میں ہے۔



















































