افغانستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران طویل جنگوں اور اسلام دشمنوں کی سازشوں کے باعث بھاری نقصانات اٹھائے ہیں۔ گزشتہ سو سال کے دوران ہر دشمن نے اس سرزمین پر اپنے زہر پھیلائے ہیں۔ ہر ملک اور ہمسایے نے اپنے مذموم اور تباہ کن مقاصد کے حصول کے لیے اس وطن میں اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں۔ آج بھی ماضی کی طرح پاکستان کی کٹھ پتلی اور منافق رجیم اپنی پرانی پالیسی کے مطابق افغانستان میں سازشیں کرنے اور دوغلے پن کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس رجیم کو معلوم ہونا چاہیے کہ افغانستان کی قوم خطے کے ان غداروں کے حوالے سے تلخ تجربات رکھتی ہے، لیکن اب کسی مکار اور دشمن کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ ملک میں سازشیں کرے اور تخریب کاری میں ملوث ہو۔ فوجی رجیم فرضی سرحد کے نزدیکی علاقوں کے درمیان روابط، افراد اور فرضی سرحد کے پار تعلقات کے ذریعے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے زمین ہموار کرنا چاہتا ہے۔
ایسے حالات میں کسی بھی گروہ کی جانب سے افراد کو بھرتی کرنے کے مراکز قائم کرنا، سازوسامان کی منتقلی اور کارروائیوں کی تنظیم و ترتیب ایسے خطرات ہیں جن کے بارے میں خطے کے ممالک کو متوجہ رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس معاملے کی اہمیت صرف افغانستان تک محدود نہیں، وسطی ایشیا کے ممالک کو بھی تشدد سے وابستہ انتہاپسندی اور داعش سے منسلک نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
فتنہ پرور داعشی گروہ اپنے پروپیگنڈے اور مقاصد کے حوالے سے کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔ افراد کو بھرتی کرنا، انٹرنیٹ پر پروپیگنڈا کرنا، خفیہ روابط قائم کرنا اور اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کی کوششیں کرنا بیک وقت کئی ممالک کی سکیورٹی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی لیے اگر اس گروہ کے معاون نیٹ ورکس یا تربیتی مراکز خطے کے کسی بھی حصے میں قائم کیے جائیں تو ان کے نتائج اور اثرات ان علاقوں کی سرحدوں سے باہر تک پھیلیں گے جہاں یہ مراکز قائم کیے گئے ہوں گے۔
اس صورتِ حال میں خطے کے ممالک کو درست معلومات کے تبادلے، ان گروہوں کے مالی وسائل کے خلاف کارروائی، نئے افراد کی بھرتی روکنے اور سکیورٹی رپورٹس کے آزادانہ جائزے پر توجہ دینی چاہیے۔ خطے کی سکیورٹی سیاسی نعروں سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، حقیقی تعاون اور جواب دہی ضروری ہے۔
خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی ذمہ داری
خطے کے ایک اہم ملک کی حیثیت سے پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف مسلح گروہوں کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اسی طرح افغانستان، پختونخوا اور وسطی ایشیا کے عوام کی سکیورٹی کو سیاسی رقابتوں یا اس رجیم کی خفیہ مصلحتوں کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ ایسی کوئی بھی پالیسی جو دانستہ طور پر دہشت گردی کو تقویت دینے کا سبب بنتی ہے، بالآخر پورے خطے میں عدم استحکام کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
اسی لیے پاکستان میں داعش اور دیگر گروہوں کی سرگرمیوں کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خطے کے ممالک کو عملی اور بنیادی اقدامات کرنے چاہییں اور اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔


















































