داعشی خوارج اور غالی مدخلی امارتِ اسلامیہ اور طالبان کی تکفیر کے لیے یہ بہانہ پیش کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ دیوبندی اور ماتریدی ہے۔ یہ تکفیری گروہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عقیدہ کفر پر مبنی ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ، بالخصوص عالمِ عرب میں، ان الزامات کی حقیقت اور ان کے علمی و تاریخی پس منظر سے ناواقفیت کے باعث مذکورہ تکفیری گروہوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند بنیادی حقائق سے آگاہی ضروری ہے، تاکہ اس الزام کی اصل حقیقت، اس کا علمی و تاریخی پس منظر اور اس کے متعلق پھیلائے گئے غلط تصورات اور غلط فہمیاں واضح ہو سکیں۔
دیوبندیت: تاریخی پس منظر، علمی منہج اور دینی و اصلاحی خدمات
دیوبندیت دراصل کوئی نیا یا مستقل عقیدہ اور مذہب نہیں، بلکہ دینی علوم کی تعلیم و تدریس، عقائد و اعمال کی اصلاح اور علمی، اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک جامع منہج ہے، جس سے برصغیر اور افغانستان کے علماء و مشائخ کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔ دیوبندیت کی نسبت ہندوستان کے تاریخی شہر دیوبند کی طرف ہے، جہاں ۱۸۶۶ء (۱۵ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ) کو ‘دارالعلوم دیوبند’ کے نام سے دینی علوم کی ایک عظیم اور معروف درس گاہ قائم ہوئی۔ یہ درس گاہ بعد ازاں برصغیر میں ایک مؤثر علمی، اصلاحی اور جہادی تحریک کا مرکز بن گئی۔
تاریخی پس منظر اور دارالعلوم دیوبند کا قیام
یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دارالعلوم دیوبند کا علمی و تربیتی منہج کوئی نئی ایجاد نہیں تھا، بلکہ اس کی بنیادیں اسلامی تاریخ کی قدیم علمی روایات میں گہری پیوست تھیں۔ بالخصوص برصغیر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے علمی و فکری وارثین نے قرآن و سنت کی طرف رجوع، دعوتِ توحید، دینی علوم کے احیاء، عقائد و اعمال کی اصلاح اور معاشرے میں رائج شرکیہ عقائد اور بدعات کی تردید و روک تھام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی تھیں۔ اکابرِ دیوبند نے اسی علمی و اصلاحی ورثے کو آگے بڑھایا اور اسے ایک منظم تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی تحریک کی صورت دی۔
برصغیر پر برطانوی استعمار کے تسلط، ۱۸۵۷ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں کی سیاسی و عسکری قوت کو پہنچنے والے شدید نقصانات اور ان کی دینی و تہذیبی شناخت کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر اکابرِ دیوبند نے ایک ایسے علمی مرکز کے قیام کو ناگزیر سمجھا، جو ایک طرف مسلمانوں کے دین و ایمان، اسلامی تہذیب، علمی ورثے اور دینی تشخص کا تحفظ کرے اور دوسری طرف ایسی باصلاحیت اور مضبوط علمی و فکری قیادت تیار کرے، جو استعماری اقتدار کے خلاف جدوجہد کی صلاحیت رکھتی ہو اور امت میں دینی بیداری اور آزادی کی روح زندہ رکھ سکے۔
اسی مقصد کے تحت دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ علمی مرکز محض ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہ رہا، بلکہ ایک وسیع علمی، دینی، فکری اور جہادی تحریک کا مؤثر مرکز بن گیا۔ اس عظیم دینی درس گاہ کی آغوشِ تربیت سے ایسے نامور علماء، محدثین، فقہاء، مصلحین اور مجاہدین پیدا ہوئے، جنہوں نے برصغیر اور افغانستان کے علمی و دینی میدانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے اور برطانوی استعمار کے خلاف علمی، فکری، سیاسی اور عملی جدوجہد میں نمایاں اور گراں قدر کردار ادا کیا۔
دارالعلوم دیوبند کا علمی و تربیتی منہج
دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم محض کتابوں کی تدریس اور علمی معلومات کی منتقلی تک محدود نہیں، بلکہ علم و عمل، تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا ایک جامع اور منظم نظام ہے۔ اس منہج میں استاد محض ایک معلم کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ وہ مربی، رہنما اور شخصیت و کردار کی تعمیر کرنے والے کی ذمہ داری بھی انجام دیتا ہے۔ طلبہ اپنے اساتذہ کی براہِ راست نگرانی میں دینی علوم حاصل کرتے ہیں، ان کی علمی و تربیتی صحبت سے استفادہ کرتے ہیں اور کتابوں کے الفاظ و عبارات کے ساتھ ساتھ ان کے معانی، مقاصد اور عملی تقاضوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ اس طرح طلبہ کتابوں سے علم حاصل کرنے کے علاوہ اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی سے علمی پختگی، فکری بالیدگی اور عملی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔
اس منہج کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ علم کو عمل سے اور تعلیم کو تربیت سے الگ نہیں سمجھا جاتا۔ یہاں صرف اس بات پر اکتفا نہیں کیا جاتا کہ طلبہ علمی مباحث میں مہارت حاصل کر لیں اور دینی مسائل سے واقف ہو جائیں، بلکہ ان کی باطنی اصلاح، اخلاق کی درستگی، کردار کی پاکیزگی اور ظاہری و باطنی اعمال کی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ عبادات کی پابندی، ذکر و اذکار کی مداومت، تقویٰ و پرہیزگاری اور تزکیۂ نفس کو دینی تعلیم و تربیت کے اہم اجزاء سمجھا جاتا ہے، تاکہ اس علمی مرکز سے فارغ التحصیل ہونے والا طالب علم محض دینی علوم کا عالم اور حامل نہ ہو، بلکہ اپنی زندگی اور کردار میں اپنے علم کا عملی نمونہ بھی بن جائے۔
تزکیۂ نفس، تصوف اور اکابرِ دیوبند کا منہج
بعض انتہا پسند اور تکفیری عناصر دارالعلوم دیوبند کے اسی روحانی و اصلاحی پہلو کو بہانہ بنا کر اس ادارے کے علماء اور اس سے وابستہ افراد کو منفی انداز میں قبوری صوفیوں کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بھی ان صوفی گروہوں کی مانند ہیں جو غلو اور بدعات میں مبتلا ہیں۔ حالانکہ اکابرِ دیوبند کے نزدیک اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اور اسلامی شریعت کی حدود کے تابع ہونا چاہیے۔
ان کے منہج میں روحانی تربیت کا مقصد انسان کو شریعت کا پابند بنانا، اس کے اخلاق و کردار کی اصلاح کرنا، اس کے باطن کو مذموم صفات سے پاک کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کی طرف متوجہ کرنا ہے؛ نہ کہ اسے قبروں سے متعلق غیر شرعی عقائد، غلو آمیز تصورات اور دین میں بے بنیاد رسوم و رواج کے فروغ کا ذریعہ بنانا۔
اس لیے اکابرِ دیوبند کے اصلاحی و تربیتی منہج کو ان صوفی گروہوں کے عقائد و اعمال کے مماثل قرار دینا، جن پر غلو اور غیر شرعی رسوم کے حوالے سے اعتراضات کیے جاتے ہیں، درحقیقت اس علمی مکتب کے علمی و فکری مزاج اور اس کی اصل حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ علماءِ دیوبند کے نزدیک تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن دونوں شریعت کے تابع ہو جائیں اور اس کی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھل جائے۔
یہ وہی علمی و اصلاحی ورثہ ہے جس کی بنیادوں کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے علمی و فکری وارثین نے مضبوط کیا تھا، اور بعد میں اکابرِ دیوبند نے تعلیم و تدریس، دعوت و اصلاح اور تزکیۂ نفس کے ایک منظم نظام کی صورت میں اسے آگے بڑھایا۔ اس علمی و اصلاحی تحریک کے اثرات بتدریج برصغیر کی سرحدوں سے نکل کر افغانستان اور دنیا کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچ گئے۔
استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد اور دیوبند کا علمی ورثہ
دارالعلوم دیوبند کے علمی، فکری اور روحانی اثرات محض برطانوی استعمار کے دور تک محدود نہیں رہے، بلکہ بعد کے ادوار میں بھی اس فکری منہج سے وابستہ علماء اور دینی تحریکوں نے مختلف میدانوں میں نمایاں اور مؤثر کردار ادا کیا۔ برصغیر میں اکابرِ دیوبند نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہدِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ اسی طرح افغانستان میں بھی اس علمی ورثے سے وابستہ علماء اور دینی حلقوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد، سوویت افواج کی فوجی یلغار کے خلاف مزاحمت اور بعد ازاں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف جنگ میں مختلف حیثیتوں سے حصہ لیا۔
بالخصوص افغانستان پر امریکی فوجی حملے کے بعد دیوبندی علمی ورثے سے وابستہ متعدد شخصیات اور گروہوں نے افغانستان اور پاکستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بالآخر دو دہائیوں پر محیط جنگ، مسلح مزاحمت اور سیاسی و سفارتی کوششوں کے بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ فروری ۲۰۲۰ء میں دوحہ معاہدے پر دستخط ہوئے اور اگست ۲۰۲۱ء میں امریکی افواج افغانستان سے نکل گئیں۔
اس طرح دیوبند کا علمی و فکری ورثہ اپنے اثرات کے ساتھ آج بھی زندہ ہے۔ اس علمی منہج سے وابستہ ادارے اسلامی علوم کی اشاعت، دینی اقدار کے تحفظ، معاشرے کی اصلاح اور دینی و تہذیبی آزادی کے دفاع کو اپنی تاریخی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک استعماری تسلط کے اثرات باقی رہیں گے اور مسلمانوں کی دینی و تہذیبی شناخت کو خطرات لاحق رہیں گے، علم و تحقیق، دعوت و اصلاح، فکری و جہادی جدوجہد اور اپنے دینی و معاشرتی حقوق کے تحفظ کے میدانوں میں ان کی ذمہ داریاں بھی برقرار رہیں گی۔
دیوبندی نسبت کی حقیقت
دارالعلوم دیوبند کا علمی و تربیتی منہج اپنی خصوصیات، جامعیت اور دینی و اصلاحی خدمات کی بدولت برصغیر سے نکل کر افغانستان اور دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ اس علمی مرکز سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء اور اس ادارے کے علمی و فکری منہج سے وابستہ افراد اپنے اسی علمی تعلق کی بنا پر ‘دیوبندی’ کہلانے لگے، جس طرح جامعہ الازہر سے وابستہ علماء کو ‘ازہری’ کہا جاتا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ‘دیوبندی’ دراصل ایک علمی و تعلیمی نسبت ہے، جو دارالعلوم دیوبند، اس کے فکری ورثے اور اس کے مخصوص تعلیمی و اصلاحی منہج سے تعلق کو ظاہر کرتی ہے، نہ کہ یہ کسی نئے یا مستقل عقیدے کا نام ہے۔ البتہ اس علمی و فکری سلسلے سے وابستہ علماء فقہی اعتبار سے حنفی المذہب ہیں اور عقائد کے کلامی مباحث میں ماتریدی فکری منہج سے تعلق رکھتے ہیں۔
کسی بھی علمی و فکری مکتب کے بارے میں عادلانہ اور منصفانہ رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے عقائد، علمی مصادر، تاریخی پس منظر اور بنیادی تعلیمات کو الگ الگ سمجھا جائے۔ محض کسی علمی یا تعلیمی نسبت کی بنیاد پر ایک پورے علمی و فکری مکتب کے بارے میں حکم صادر کرنا علمی تحقیق اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔


















































