وقت سے صحیح فائدہ اٹھانے اور مواقع سے استفادے میں اعتدال
ایک اور اہم شعبہ جس میں اسلام نے اپنے پیروکاروں کو اعتدال اور میانہ روی کی ہدایت دی ہے، وہ وقت کا درست انتظام اور زندگی کے مواقع سے صحیح فائدہ اٹھانا ہے۔ وقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی طرف سے انسان کو عطا کردہ سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے تو پھر کبھی واپس نہیں آتی۔ اسی وجہ سے اسلامی شریعت مسلمانوں کو وقت کا درست استعمال کرنے اور اس معاملے میں ہر قسم کے افراط و تفریط سے بچنے کی دعوت دیتی ہے۔
بدقسمتی سے آج کل کچھ لوگ دنیاوی معاملات اور مال کمانے میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ عبادت، خاندان، تعلیم اور دیگر ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ دوسرے لوگ بعض مخصوص کاموں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ زندگی کی ضروریات اور اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اسلام ان دونوں میں سے کسی بھی راستے کو پسند نہیں کرتا، بلکہ مسلمانوں کو زندگی کی تمام ذمہ داریوں کے درمیان توازن اور اعتدال قائم رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے عصر اور وقت کی قسم کھائی ہے اور فرمایا:
﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
(سورۃ العصر)
اللہ تعالیٰ جل جلالہ کسی ایسی چیز کی قسم کھاتے ہیں جو بڑی قدر و منزلت رکھتی ہو؛ اسی لیے انہوں نے وقت کی قسم کھائی ہے۔
اس مبارک سورت کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کی عمر اور وقت ہے، اور حقیقی کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب یہ سرمایہ ایمان، نیک اعمال اور حق کی خدمت کے راستے میں صرف کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقت کی اہمیت کے بارے میں فرمایا:
«نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ»
(صحیح البخاری: ۶۴۱۲)
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔”
یہ حدیث اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اکثر لوگ موجود مواقع کی قدر اس وقت پہچانتے ہیں جب وہ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔
اسی لیے ایک سمجھ دار مسلمان کوشش کرتا ہے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو عبادت، علم حاصل کرنے، لوگوں کی خدمت، حلال رزق کمانے اور دیگر مفید کاموں کے لیے استعمال کرے۔ وقت کے استعمال میں اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ انسان عبادت، کام، آرام، خاندان، تعلیم اور معاشرتی تعلقات کے لیے مناسب حصہ اور وقت مخصوص کرے۔
بدقسمتی سے آج کل وقت ضائع کرنا معاشرے کے بہت سے لوگوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے وقت کا بڑا حصہ سمارٹ فونز پر گزارتے ہیں اور ان کا غلط استعمال کرتے ہیں، اور تقریباً کوئی بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں (إلا ما شاء الله)۔ ان آلات نے عبادت، قرآن عظیم الشان کی تلاوت، ذکر، صلہ رحمی اور دیگر مفید کاموں کا وقت لے لیا ہے اور انہیں وقت ضائع ہونے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔
لہٰذا جس طرح تفریحات میں افراط اور وقت کا ضیاع نقصان دہ ہے، اسی طرح نفس کو آرام اور فطری ضروریات سے محروم رکھنا بھی اسلامی اعتدال کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ وہ معاشرہ جس کے افراد وقت کی قدر کو پہچانیں اور اپنے مواقع کو اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رضا کے لیے صحیح طریقے سے استعمال کریں، وہ خوش حالی، ترقی، آبادی اور نشوونما کی طرف قدم بڑھائے گا۔ اس کے برعکس، وقت کا ضیاع اور عبادت و مواقع سے غفلت اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی ناراضی اور فرد و معاشرے کے پسماندہ ہونے کا سبب بنتی ہے۔
اسی لیے اسلام کی مقدس شریعت اپنے پیروکاروں سے چاہتی ہے کہ وہ اپنی عمر کو ایک قیمتی سرمایہ سمجھیں اور اعتدال، نظم و ضبط اور اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ قیامت کے دن انسان سے اپنی عمر اور جوانی کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا، اور خوش نصیب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس قیمتی سرمائے کو اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رضا کے راستے میں خرچ کیا ہو۔



















































