عدل و انصاف کی تاکید
عدل و انصاف ان بنیادی اصولوں میں سے ہے جن کے بغیر کوئی اسلامی نظام برقرار نہیں رہ سکتا۔ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعدد ارشادات میں اس اصول کو محض ایک سادہ اخلاقی نصیحت کے طور پر نہیں، بلکہ اسلامی حکومت کے بقا کے وسیلے کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کابل میں علمائے کرام کے ایک اجتماع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت کی مثال پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی نظام میں عدل و انصاف ایسا ہونا چاہیے کہ اگر خود امیر یا حکومتی عہدیدار بھی عدالت میں حاضر ہوں تو ان کے بارے میں فیصلہ بھی ویسا ہی ہو جیسا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قاضی نے کیا تھا۔
ان کے یہ ارشادات اسلامی سیاسی نظام کے استحکام کو یقینی بنانے میں عدل و انصاف کے کردار کے بارے میں ان کی گہری سمجھ بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں, کیونکہ ان کے نزدیک ظالم حکومت کبھی باقی نہیں رہتی اور نہ ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے اسی اجتماع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک یہودی کے درمیان مقدمے اور یہودی کے حق میں فیصلہ صادر ہونے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی نظام میں افراد کی حیثیت اور مقام سے قطع نظر، عدل و انصاف کی بنیاد پر فیصلے کیے جانے چاہییں۔
عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات میں ایک اور اہم موضوع جو واضح طور پر نمایاں ہوتا ہے، وہ عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے خوف کے درمیان تعلق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بے گناہ اور مظلوم قیدی کو جیل میں اذیت دی جائے تو اس کے اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا اور اس کی دعا ایک لمحے میں نظام کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ تنبیہ کوئی سیاسی دھمکی نہیں، بلکہ ایک ایمانی اور اسلامی یاد دہانی ہے، جو حکمرانوں کے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کے گہرے یقین پر مبنی ہے۔
عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے ذمہ داران کو متوجہ کیا ہے کہ عدل و انصاف محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک امانت ہے, اگر اس امانت میں خیانت کی جائے تو اس کے نتائج انسان کو نہ صرف دنیا میں، بلکہ آخرت میں بھی بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’اگر کسی دن، اللہ نہ کرے، مجھے عدالت میں پیش ہونا پڑے تو فیصلہ بھی ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کیا گیا تھا۔‘‘ یہ بات بذاتِ خود واضح کرتی ہے کہ امارت اسلامیہ کے نظام میں کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کے قانون اور شریعت کے حکم سے بالاتر نہیں ہے
۔
تجزیاتی اعتبار سے عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف پر زور دینے کو چند بنیادی نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ پہلا نکتہ قانون کے سامنے سب کی برابری کا اصول ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسی دن خود انہیں یا دیگر حکومتی ذمہ داران کو عدالت میں پیش ہونا پڑے تو ان پر بھی ایک عام شہری کی طرح مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ دوسرا نکتہ مظلوموں کے بارے میں خصوصی توجہ اور حساسیت ہے۔ مظلوم قیدیوں کے حوالے سے ان کی تنبیہ واضح کرتی ہے کہ اسلامی نظام کو مظلوموں کی حمایت کرنی چاہیے اور اقتدار کو بے گناہ لوگوں پر ظلم کا ذریعہ بننے سے روکنا چاہیے۔
تیسرا نکتہ عدل و انصاف اور نظام کے بقا کے درمیان تعلق ہے۔ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ظلم حکومتوں کے خاتمے کا سبب بنتا ہے اور اگر معاشرے میں عدل و انصاف قائم نہ ہو تو امن و سکون کی جگہ فتنہ اور اختلاف لے لیتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو اپنے جرائم کی وجہ سے عدالت کے کٹہرے میں نہ لایا جائے اور صرف مظلوم، بے بس اور بے وسیلہ لوگوں ہی پر مقدمات چلائے جائیں تو یہ نظام باقی نہیں رہے گا اور ختم ہو جائے گا۔
عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور ارشاد میں عدل و انصاف کو صرف عدالتوں میں ہی نہیں، بلکہ حکومت کے تمام شعبوں میں ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ درست سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنا، شریعت کی بنیاد پر حکومت کرنا، اسلامی شریعت کی حفاظت کرنا اور اسلامی حکومت میں حدود نافذ کرنا واجب ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ ان کے نزدیک عدل و انصاف صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں، بلکہ حکومت کے تمام فیصلوں میں اس کی رعایت ضروری ہے، وسائل اور سہولیات کی تقسیم سے لے کر لوگوں کے ساتھ برتاؤ تک ہر معاملے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عدل و انصاف وہ بنیادی ستون ہے کہ اگر یہ کمزور پڑ جائے تو اسلامی نظام کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جاتا ہے، اور اگر یہ مضبوط رہے تو معاشرے کو خوش حالی اور سکون کی جانب لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ’’عدل و انصاف حکومت کے بقا کا وسیلہ ہے‘‘، کوشش کی ہے کہ اسلامی نظام کے تمام ارکان میں عدل و انصاف کے اصول کو بنیادی حیثیت حاصل ہو، تاکہ افغان معاشرہ اس کے سائے میں دائمی امن و سلامتی تک پہنچ سکے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں ارشادات اسلامی حکمرانی کی ذمہ داری کے حوالے سے ان کی گہری اور ہمہ جہت سمجھ بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں ہر فرد، اعلیٰ عہدے پر فائز شخص سے لے کر عام شہری تک، اللہ تعالیٰ کے قانون کے سامنے یکساں ہو اور کوئی بھی اپنے اقتدار سے دوسروں پر ظلم کرنے کے لیے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
اگر اس طریقۂ کار کو معاشرے میں درست طور پر نافذ کیا جائے تو یہ اسلامی نظام پر لوگوں کے اعتماد کو مضبوط کر سکتا ہے اور اس کی حمایت کے لیے ان کی رغبت بڑھا سکتا ہے، کیونکہ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ لوگ اسی حکومت سے وابستگی اختیار کرتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں جو ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کرے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے امارت اسلامیہ کا نظام اقدامات کر رہا ہے۔


















































