ناپسندیدہ رسم و رواج ترک کرنے کے بارے میں عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی سفارش (پہلی قسط)
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی اصلاحی ہدایات کے بنیادی محوروں میں سے ایک ان ناپسندیدہ رسم و رواج اور بدعات کے خلاف جدوجہد بھی ہے، جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران افغان معاشرے کی ثقافت میں جگہ بنا لی ہے اور خاندانوں، بالخصوص کم آمدنی والے اور غریب لوگوں پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔ آپ نے اپنے فرمان نمبر ۱۷ میں، جو ’’غلط معاشرتی رسم و رواج کی روک تھام‘‘ کے مقصد سے جاری کیا گیا ہے، واضح طور پر ان رسم و رواج کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اسے محض ایک سطحی سفارش نہیں، بلکہ اسلامی نظام کے اصلاحی مشن کا حصہ قرار دیا ہے۔
درحقیقت، اس فرمان کو نظام کی قیادت کی جانب سے معاشرے کو دوبارہ اسلامی سادہ طرزِ زندگی کی طرف لوٹانے اور اسراف و دکھاوے کی روک تھام کی کوششوں میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ رسم و رواج بعض اوقات خاندانوں کو اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ شادی کی تقریبات منعقد کرنے کے لیے برسوں تک قرضوں کے بھاری بوجھ تلے زندگی گزاریں، جس کے نتیجے میں خاندانی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ وزارت اطلاعات و ثقافت نے بھی مختلف صوبوں میں منعقدہ عوامی آگاہی کے پروگراموں میں اس فرمان کا مقصد ’’بعض غلط معاشرتی رسم و رواج کی اصلاح اور اچھے رسم و رواج کو فروغ دینا‘‘ قرار دیا ہے۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی اس سفارش میں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انہوں نے ناپسندیدہ رسم و رواج کے خلاف جدوجہد کو اعتدال اختیار کرنے اور اسراف سے بچنے کی بنیاد پر پیش کیا ہے، نہ کہ زبردستی اور جبر کے ذریعے۔ سرکاری اداروں کی جانب سے منعقدہ عوامی آگاہی کی نشستوں میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام اعتدال کا دین ہے اور ہمارے معاشرتی پروگرام اسراف، ناجائز رسم و رواج، موسیقی، اختلاطِ مرد و زن اور دیگر ناپسندیدہ عادات سے پاک ہونے چاہییں۔ یہ نہ صرف ایک شرعی ذمہ داری ہے، بلکہ لوگوں کی مادی اور معنوی آسودگی بھی اس سے وابستہ ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیادت کے نقطۂ نظر سے ناپسندیدہ رسم و رواج کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے عوامی آگاہی اور لوگوں کی سوچ اور نقطۂ نظر میں تبدیلی کی ضرورت ہے، اس کے بعد علماء اور ذمہ داران کے تعاون سے اسے ایک وسیع معاشرتی تحریک میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ درحقیقت، وہ ان ناپسندیدہ رسم و رواج کو محض ایک ثقافتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک معاشرتی آفت سمجھتے ہیں، جس کی روک تھام نہ کی جائے تو یہ معاشرتی ہم آہنگی اور خاندانی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ لوگر میں عوامی آگاہی کی ایک نشست میں ایک مقامی ذمہ دار نے یہاں تک خبردار کیا کہ انہی ناپسندیدہ رسم و رواج کی وجہ سے ہمارے بہت سے نوجوان بیرونی ممالک کا سفر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور راستے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کے فرمان نمبر ۱۷ میں ناپسندیدہ رسم و رواج کی مثالوں کو چار بنیادی حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔
اول: شادی اور منگنی کے معاملات میں۔ لڑکیوں کی رضامندی کے بغیر زبردستی شادی کرنا، بھاری اور ناقابلِ برداشت مہر مقرر کرنا، طویانہ اور ولور کے نام پر رقم وصول کرنا، پایوازی اور شیرینی جیسی اضافی تقریبات منعقد کرنا، نیز ہوٹلوں اور پُرتعیش ہالوں میں شادی کی تقریبات منعقد کرنا، وہ رسم و رواج ہیں جنہیں اس فرمان میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ فرمان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نکاح کے وقت عورت کے لیے مقرر کیا جانے والا مہر اس کا اپنا حق ہے اور کوئی بھی اسے اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، نکاح کے معاملے میں عورت مرد کی طرح خودمختار ہے اور کسی بھی صورت میں کسی کی ملکیت نہیں بن جاتی۔
دوم: ماتم کی تقریبات کے معاملات میں۔ میت کے اہلِ خانہ کی جانب سے پہلے، تیسرے، ساتویں اور چالیسویں دن کھانے کا انتظام کرنا اور دعوتوں کا اہتمام کرنا، وہ رسم و رواج ہیں جنہیں فرمان نمبر ۱۷ میں جاہلیت کی عادات اور غم زدہ خاندان پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے ممنوع کیا گیا ہے۔ اس فرمان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میت کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ دینا جائز ہے، لیکن اس عمل کو ایسی معاشرتی ذمہ داری میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے کہ جو شخص اسے انجام نہ دے، اسے لوگوں کی ملامت کا سامنا کرنا پڑے۔
سوم: حج اور عمرے سے واپسی کے معاملات میں۔ حجاج کی جانب سے بھاری اخراجات پر مشتمل دعوتوں کا اہتمام کرنا اور قیمتی تحائف تقسیم کرنا، وہ رسم و رواج ہیں جن کی اس فرمان میں کوئی شرعی بنیاد بیان نہیں کی گئی اور ان سے اجتناب کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
چہارم: سرکاری وسائل کے استعمال کے معاملات میں۔ ذاتی شادیوں اور تقریبات میں سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی ان کاموں میں شامل ہے جنہیں اس فرمان میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان رسم و رواج سے اجتناب پر زور دینے کے اس اقدام کا تجزیاتی جائزہ چند بنیادی محوروں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
اول: خاندانوں کی معاشی صورتِ حال پر توجہ۔ افغانستان کے بہت سے خاندان شادی بیاہ اور ماتم کی تقریبات کے بھاری اخراجات کی وجہ سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور یہ صورتِ حال غربت اور معاشی بدحالی کے لیے زمین ہموار کرتی ہے۔
دوم: ناپسندیدہ رسم و رواج اور دینی بدعات کے درمیان تعلق۔ ان رسم و رواج میں سے بعض کی جڑیں غیر اسلامی اور توہم پرستانہ عقائد میں پیوست ہیں اور انہیں رواج دینے سے معاشرے میں اسلامی عقیدے کے کمزور ہونے کا سبب پیدا ہو سکتا ہے۔
سوم: رسم و رواج کی اصلاح میں علماء اور ذمہ داران کا کردار۔ امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے علماء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو سادہ طرزِ زندگی اختیار کرنے اور اسراف سے بچنے کی ترغیب دیں، جبکہ ذمہ داران سے ان سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و ثقافت نے بھی ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کے ساتھ متعدد نشستوں میں اس فرمان کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنے میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر زور دیا ہے۔ یہ نقطۂ نظر معاشرتی اصلاح کے لیے ایک منظم حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے مطابق معاشرے کے تمام اداروں اور مختلف طبقوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ دوسری قسط میں معاشرے میں اس فرمان پر عمل درآمد کے مثبت نتائج اور اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔


















































