اسلام نے مسلمانوں کو ایک امت قرار دیا ہے، ایک جسد واحد۔ قرآن کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اور حدیث میں ہے «المسلمون كرجل واحد»۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔
فقہائے اسلام نے اسی بنیاد پر یہ اصول قائم کیا ہے کہ اگر روئے زمین کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو اور وہ دشمن کے مقابلے میں تنہا ہوں تو سب سے پہلے ان کے قریبی مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض عین ہو جاتا ہے، اگر وہ کافی نہ ہوں تو یہ فرض قریب سے بعید تک پھیلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ مشرق سے مغرب تک ہر صاحب استطاعت مسلمان پر نصرت فرض ہو جاتی ہے۔
یہ فقہی تسلسل خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی نظر میں مسلمانوں کے درمیان ایسی مستقل اور مقدس سرحدوں کا کوئی تصور نہیں جو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی مدد سے روک دے۔ سرحد اگر مدد و نصرت میں رکاوٹ بن جائے تو وہ شرعی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔
آج جو سرحدیں ہم دیکھ رہے ہیں، یہ استعماری دور کی تقسیم کا نتیجہ ہیں۔ ایک ہی قوم، ایک ہی زبان، ایک ہی مذہب رکھنے والوں کے بیچ لکیریں کھینچ دی گئیں، ہر ٹکڑے پر ایک جھنڈا، ایک قومی ترانہ اور ایک پاسپورٹ مسلط کر دیا گیا۔
دیکھیں یورپ نے صدیوں تک آپس میں جنگیں لڑیں، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ ان سرحدوں اور پاسپورٹوں کی وجہ سے وہ پیچھے رہ رہے ہیں تو انہوں نے شینگن معاہدہ کر کے اپنے درمیان کے تمام بارڈر ختم کر دیے۔ آج جرمنی کا شہری فرانس میں، فرانس کا اٹلی میں بغیر کسی پاسپورٹ اور ویزے کے جا رہا ہے، وہاں نوکری کر رہا ہے، کاروبار کر رہا ہے۔
اسی طرح امریکہ کو دیکھ لیں۔ امریکہ کی پچاس ریاستیں، ہر ایک ہمارے ایک ملک کے برابر ہے، لیکن ان کے درمیان کوئی بارڈر نہیں۔ کیلیفورنیا سے ٹیکساس تک کوئی ویزا نہیں مانگتا۔
خود کفر کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ اگر قوم کو آگے بڑھانا ہے، آپس میں ہمدردی، ایثار و قربانی اور بھائی چارہ پیدا کرنا ہے تو ان دیواروں کو گرانا پڑے گا۔ انہوں نے اپنی دنیاوی ترقی کے لیے بارڈر ختم کر دیے تو سوال یہ ہے کہ جو بات کفار نے اپنی دنیا کے لیے سمجھ لی، وہی بات ہم مسلمان اپنی دینی ترقی کے لیے کیوں نہیں سمجھ رہے؟
یہ تمام تر نقصانات ہم جمہوریت کے سبب دیکھ رہے ہیں کیونکہ جمہوریت بذات خود ایک قومی ریاست (Nation State) کے تصور پر کھڑی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ریاست کے مسلمان صرف اپنی ریاست کے مفاد کے پابند ہیں۔
اس جمہوری فکر نے عوام پر تو اثر کیا ہی ،علماء بھی اس سے متاثر ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے فتوے اس مفروضے پر دئے جانے لگے کہ "پاکستان کے مسلمان پاکستان کی مدد کریں، ترکی کے مسلمان ترکی کی۔۔۔۔ الخ”، آج کل کے سرکاری فتاواجات کو اگر دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہر ملک کے مسلمانوں کے لئے الگ الگ احکامات ہیں ،افغانستان کے مسلمانوں کے لئے الگ، پاکستان کے مسلمانوں کے لئے الگ ۔۔۔۔۔۔۔الخ۔ ،حالانکہ یہ بات بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے کہ فقہ اسلامیہ کا اصل ماخذ خلافت ہے نہ کہ جمہوریت۔۔۔
عجیب یہ کہ آج کل ایسے علماء بھی موجود ہیں بلکہ اکابر بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اسی جمہوریت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہے، اور کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑی رہے ہیں۔۔
دیکھیں! خلافت میں حاکمیت اللہ کی ہے، قانون شریعت ہے، اور مسلمان جہاں بھی ہو وہ اسی قانون کا مخاطب ہے۔ خلیفہ کسی ایک ٹکڑے کا نہیں، پوری امت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی لیے خلافت میں فلسطین یا کشمیر کا مسئلہ "خارجہ پالیسی” کا مسئلہ نہیں، بلکہ داخلی مسئلہ ہوتا ہے، جیسے ایک گھر کے ایک کمرے میں آگ لگے تو پورا گھر حرکت میں آتا ہے۔
جب تک خلافت تھی، مسلمانوں کی نقل و حرکت کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک مسلمان اندلس سے بغداد تک بغیر کسی کاغذ کے سفر کرتا تھا۔
مگر جمہوریت نے اس وحدت کو توڑ کر ہمیں یہ سکھایا کہ ہر ملک اپنے ویزے اور اپنے مفادات کا خود ذمہ دار ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج امت ایک جسد نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے اعضاء کی طرح ہے۔
آج اگر خلافت نہیں تو اس کا یہ معنی توڑی ہے کہ اب سارے احکامات کا دار و مدار ہی جمہوریت پر ہوگیا۔۔ نہیں نہیں۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم احکامات کو جمہوریت کی عینک سے نہیں، بلکہ خلافت کی اصل سے دیکھیں۔
خلاصہ:
سوچئے! اگر کفر اپنی دنیا کے لیے سرحدیں مٹا کر ایک ہو سکتا ہے تو ہم اپنے دین کے لیے ایک کیوں نہیں ہو سکتے؟ یہ لکیریں نقشوں پر ہیں، دلوں پر نہیں۔ جب تک ہم ان مصنوعی بتوں کو پوجتے رہیں گے، امت اسی طرح سسکتی رہے گی۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں سائیکس پیکو کی دی ہوئی قومیت چاہیے یا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اخوت؟
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ


















































