ہمارے ایک استاذِ محترم فرمایا کرتے تھے…
اور یہ اُن دِنوں کی بات ہے، جب خصوصاً پاکستان جیسے معاشروں میں ‘انگریز دوست مُہروں’ کی طرف سے یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا کہ:
اگر آپ کو انگریز، مغرب و امریکا اور ان کی تہذیب و زندگی اتنی ہی بُری لگتی ہے تو آپ اُن کے بنائے موبائل فون، گاڑیاں اور ٹیکنالوجی کے دیگر آلات سمیت فیس بک و یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیوں استعمال کرتے ہیں…؟!
یہ انگریز دوست مہرے طعنہ آمیز انداز میں کہا کرتے تھے کہ:
اگر آپ انگریز دشمنی کے باوجود ان کی بنائی چیزیں استعمال کرنا نہیں چھوڑتے تو سمجھ لیں کہ آپ منافق ہیں…
چناں چہ اس پر استاذ فرماتے تھے:
اگر اسلام و کـــفـــــــر اور مشرق و مغرب کے موازنے کو دیکھ کر ہی کچھ کہا جائے تو یہ بات خود مغربی محققین، مؤرخین اور اہلِ علم بھی تسلیم و بیان کرتے ہیں کہ آج سافٹ و ہارڈ ٹیکنالوجی کا جو عروج دکھائی دیتا ہے، درحقیقت اس میں مسلمانوں کے گمشدہ ہسپانیہ و بغداد کا بھی نمایاں حصہ شامل رہا ہے۔
مثلاً اندلس کے عظیم مسلمان طبیب و جرّاح الزہراوی نے درجنوں جراحی آلات ایجاد و مرتب کیے، جن میں سے متعدد کی بنیاد پر جدید سرجری آج بھی استوار ہے۔
جیسے مسلمان جغرافیہ دان الادریسی نے اپنے عہد کے دقیق ترین عالمی نقشے مرتب کیے، جن سے بعد کے زمانوں میں دنیا کی جغرافیائی تحقیق نے بھرپور استفادہ کیا۔
اسی طرح ‘بصریات کے امام’ ابن الہیثم نے روشنی، عدسوں اور انسانی بصارت پر ایسی بنیادی تحقیقات پیش کیں… جنہوں نے بعد میں کیمروں، عدساتی آلات اور جدید بصری سائنس کی ترقی کی راہ ہموار کی۔
مزید طور پر الجزری نے خودکار مشینوں، آب کَش اوزار (واٹر پمپس وغیرہ) اور مکینیکل آلات کے ایسے نمونے پیش کیے، جنہیں آج مکینیکل انجینئرنگ اور روبوٹکس کی ابتدائی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اور یہ اس کائنات کی ایک فطری بات ہے کہ یہاں ہر چیز دھیرے دھیرے پروان چڑھتی ہے۔
بچہ پیدا ہوتا ہے تو کہیں 20 سال بعد جا کر کچھ کر دکھانے کے قابل ہوتا ہے…
یہی حال 8 – 9 سو سال پہلے مسلم دنیا میں ہونے والی ایجادات کا ہے۔
یہ ایجادات ہوئیں، ہو رہی تھیں اور دھیرے دھیرے پروان چڑھ رہی تھیں…
المیہ تب سامنے آیا کہ جب مسلم دنیا کا سیاسی زوال شروع ہوا…
سیاسی زوال سامنے آیا تو حکومتیں لرزنا، ٹوٹنا اور بکھرنا شروع ہو گئیں…
جس کا منطقی نقصان مسلم دنیا میں عروج پانے والے علم و فن کو پہنچا…
ظاہر ہے کہ جب حکومتیں اپنے سائنس دانوں کو تحفظ اور ان کی ایجادات کو ترقی دینے کے قابل نہ رہیں…
اپنے تعلیمی و ایجاداتی مراکز کا نان و نفقہ پورا کرنے کی طاقت کھو بیٹھیں…
بجائے دیگر، خود اُنہیں ہی ٹیکنالوجی کی ایجادات کے بجائے دو وقت کی چار روٹیوں کی فکر دامن گیر ہو جائے…
اُن کی صلاحیتیں ایجادات کے بجائے اپنے جسم و نان کی بقا پر خرچ ہونا شروع ہو جائیں…
تو بلاشبہ ایجادات و ترقی کا سلسلہ رُک اور خلا پیدا ہو جاتا ہے…
لہذا سائنس دانوں کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور روز مرّہ کے آب و نان میں پیدا ہونے والا یہ خلا انگریزوں نے پُر کرنا شروع کر دیا، جو درحقیقت بجائے خود مسلمانوں کے بھی شاگرد تھے…
تو فتح و ظفر اور کامیابی و کامرانی کا تاج بعد میں عیّار شاگردوں کے ہاتھوں سامنے آنے والی ٹیکنالوجی کے ماتھے پر سجا دیا گیا…
تاہم یہاں اصل سمجھنے کا پہلو یہ ہے کہ مسلمان ہرگز اِس انداز میں نہیں بیٹھے ہوئے کہ وہ انگریز شاگردوں کو اس بات کا طعنہ دیں کہ ‘آپ جن ایجادات اور ٹیکنالوجی کے بھرم پر خود کو اونچا اُڑتا محسوس کر رہے ہیں، وہ درحقیقت ہمارے آبا و اجداد کی شبانہ روز محنتوں کا ثمر ہے۔
اس طعنہ نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ صلاحیتیں خداداد نعمتیں ہوتی ہیں اور یہ خدا جانتا ہے کہ وہ یہ صلاحیت کسے عطا فرمائے تو وہ اس صلاحیت سے انسانیت کو فائدہ پہنچائے۔
جب ہم صلاحیتوں کی تقسیم کا یہ مقدّر سمجھ لیتے ہیں تو ہمیں یہ باور کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر جنم لینے اور دھیرے دھیرے پنپنے والی ٹیکنالوجی درحقیقت اس کائنات کا مشترکہ سرمایہ ہے۔
جب یہ چیز ہی مشترک ہے تو پھر اس پر کسی کو طعنہ دینے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا…
لہٰذا اگر خدا کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کے نتیجے میں مسلمانوں کی ابتدائی ایجادات کو بعد میں یورپ اور انگریزوں کو عطا کردہ صلاحیتوں نے مزید ترقی دی تو اس پر یہ کہنا کہ ‘یہ صرف ہمارا ہے اور وہ صرف تمہارا’… درحقیقت نادانی، کائنات کے نگہبان رب العالمین کی تقسیم اور قرآن کے فلسفۂ شکر گزاری کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
ہاں، اس پر اگر سرزنش کرنی ہی ہے اور کی جانی چاہیے تو وہ درحقیقت خود کی ذات ہے۔
یعنی مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ انہوں نے باہم تفرقہ و چپقلش کیوں اختیار کی، کیوں خود کے اتحاد کے سائبان کو تار تار کیا اور کیوں اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کی رسّی کو ہاتھ سے جانے دیا…
اسی ناشکری کا نتیجہ تھا کہ صلاحیتوں کی ہواؤں نے مشرق سے یورپ کا رُخ کر لیا اور وہاں ایجادات نے نئی پروازیں بھریں، بندرگاہیں آباد ہوئیں اور زندگیاں خوش حال ہونا شروع ہو گئیں…
لہذا اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اوّلا تو ‘انگریز دوست مُہروں’ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلمانوں کو کوئی طعنہ دیں…
اور دوم یہ کہ مسلمانوں کو اس بات کی ضرورت ہے کہ باہمی نااتفاقی، سیاسی لڑائی جھگڑوں اور اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے لاپروائی جیسے جن عناصر نے مسلمانوں کی ہوا اُکھاڑ رکھی ہے، مسلمان اس پر غور و فکر کریں اور باہم متحد ہو جائیں، سیاسی مضبوطی اختیار کریں اور اللہ و رسول ﷺ کی فرماں برداری کے سائبان میں آ جائیں۔
اب جب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو اسے افغانستان و پاکستان کے تناظر میں بھی سمجھ لینا چاہیے…
اہلِ پاکستان کا یہ کہنا کہ:
افغانوں نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی، روزگار سے پیسہ کمایا اور مدارس میں صلاحیتیں سیکھ کر ڈگریاں حاصل کیں…
اگر افغانوں کو پاکستان اتنا ہی بُرا لگتا ہے تو وہ پاکستان سے حاصل ہونے والا سب کچھ واپس کر دیں اور ہمارے ہاں سے سیکھے ہوئے علم پر عمل چھوڑ دیں…
اور افغانوں کی طرف سے یہ کہنا کہ:
افغانوں نے روس و امریکا کے خلاف جنگیں لڑ کر اُن جارحین کو خطے سے باہر نکالا اور پاکستان کو امریکا، خصوصا روس سے بچایا…
اگر پاکستان کو افغانستان اتنا ہی بُرا لگتا ہے تو آج جس ٹیکنالوجی اور میزائلوں پر فخر کرتا ہے تو اُن کے نام غوری و ابدالی سے تبدیل کر کے کوئی اَور نام رکھ لے…
تو سمجھنا چاہیے کہ جس طرح پاکستان کی عصری و دینی تعلیم گاہوں میں تقسیم ہوتا علم پاکستان کی ذاتی میراث نہیں، بلکہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی عطا کردہ مشترکہ انسانی میراث ہے، جسے واپس مانگنے کی باتیں ہی لایعنی ہیں…
ایسے ہی غوری و ابدالی اور شہاب الدین و غزنوی بھی عالمِ اسلام، خصوصاً افغانستان و برصغیر کے مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہیں اور جائز مقاصد کے لیے اُن کا نام استعمال کرنا ہر مسلمان کا حق ہے…
لہذا پاکستان سے حاصل ہونے والا علم اور افغانستان کے غوری و ابدالی کے نام پر بھارت کو ڈرانے والا طلسم… نہ واپس ہو سکتا ہے، نہ ہی واپس مانگا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس میراث کو اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوا ہے۔
ہاں، اگر کوئی چیز واپس ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے تو وہ ہے باہمی چپقلش و سیاسی تنازعات کی لہر…
آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بہت سے سیاسی تنازعات کی جڑیں نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی امریکی جارحیت اور اُس میں امریکا کے اتحادی کے طور پر پاکستان کی بے جا شمولیت سے جا ملتی ہیں۔
چناں چہ اگر پاکستان کی طرف سے امریکا کی صف کا انتخاب نہ کیا جاتا تو قوی امکان یہی تھا کہ دونوں مسلمان ممالک کے درمیان موجودہ نوعیت کی شدید بداعتمادی اور کشیدگی بھی جنم نہ لیتی۔
لہذا اگر مغرب کو کوئی چیز واپس کرنے یا اس کا استعمال ترک کرنے کی بات موجود ہے تو پھر مغرب کو اُس کی ٹیکنالوجی کے بجائے اُس کے فساد و خرابی پر مشتمل منصوبے ہی واپس کر دیے جانے چاہییں…
کہ اے امریکا و مغرب کے عیّار سیاہ ست دانو!
ہم انسانیت کو فائدہ پہنچانے والی ٹیکنالوجی کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر انسانیت کو تباہ کرنے والے آپ کے منصوبوں کو ہرگز قبول نہیں کرتے…
آپ کی منصوبہ بند بربادی آپ ہی کو مبارک ہو اور مشترکہ انسانی میراث کے طور پر انسانیت دوست ٹیکنالوجی پوری دنیا کو مبارک ہو…




















































