نیویارک ٹائمز نے دنیا کو چونکا دیا ہے کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کے سابقہ ناکامی سے دوچار سیاستدانوں اور افغانستان کے حالیہ حاکم نظام کے مخالفین کا سہارا لے لیا ہےـ نیو یارک ٹائمز جو کہ پاکستان کے ہاں ایک بہت معتبر اور مستند ادارہ ہے اور اس کی ہر خبر پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا جاتا ہے؛ اس کا کہنا ہے کہ تازہ دنوں پاکستانی فوج نے شطرنج کے ان نامراد کھلاڑیوں سے ملاقات کرکے دوبارہ شطرنج کنارہ پکڑنے کی ترغیب دی ہے، جنہوں نے اپنے سگے بھائیوں کے خلاف بازی جیتنے کے لئے ان کے سروں سے بیس سال کھیلا ہےـ جن کے ہاتھ انہی معصوموں کے خون سے رنگین ہیں۔ جنہوں نے دنیا بھر کی طاقتیں، ہتھیار اور مکر وفریب کو اپنی بازی جیتنے کے لئے بروئے کار لایا مگر پھر بھی ناکامی ونامرادی ان کا منہ چڑاتی رہی اور کامیابی کبھی ان کا مقدر نہ بنی۔
پاکستانی ریاست کے ہاں اس معتبر ادارے نے اپنے ذرائع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کی سابق انتظامیہ سے وابستہ لوگوں کو پراکسی بنانے اور افغانستان میں جتھے بن کر لڑنے کی دعوت دی ہے اور ہر طرح کی مدد دینے کی ہامی بھری ہےـ
دوسری طرف افغانستان کے لئے امریکا کے سابق ایلچی زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک ایکس پوسٹ میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان افغان حکومت کے خلاف لوگ بھرتی کررہا ہے تا کہ کسی طرح کو افغان حکومت کو دق کرسکےـ خلیل زاد کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان اس بارے پوری تندہی سے کوشش کررہا ہے کہ کسی طرح اس کے ہاتھ ایسے لوگ لگے جو موجودہ افغان حکومت سے بھڑجائیں اور اس کشمکش میں سے وہ فائدہ اٹھاسکےـ
عین انہیں دنوں اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب نے ایک اور شرلی یہ چھوڑ دی ہے کہ افغانستان میں امریکہ سے ہاتھ آیا اسلحہ اور بھاری بھر کم ہتھیار پاکستان کے لئے باعث تشویش ہیں اور اس سے پاکستان کے امن وامان کو خطرہ ہےـ گویا پاکستان میں اس وقت دیگر اطراف سے تو دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اور سب کے سب اندرونی مسائل پر قابو پالیا گیا ہےـ تنہا بیرونی مسائل ہیں اور وہ بھی ایک دہائیوں کے جنگ زدہ ملک کی طرف سے جو تازہ تازہ قدم اٹھا کر چلنے کی کوشش کررہا ہےـ
ان تین بیانات یا اطلاعات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی فوجی رجیم کے برادر ہمسایہ اسلامی ملک کے بارے میں کیا عزائم ہیں۔ اور یہ بھی بخوبی آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہاکستان کو رنجش کیا ہے اور وہ افغانستان پر چڑھائی کی ہر وقت کوشش کیوں کرتا رہتا ہے؟ گزشتہ دو سے تین سال کے عرصہ میں وہ دنیا کے مختلف فورمز پر یہ دہائی دیتا رہا کہ افغانستان سے دہشت گرد تیار ہوکر پاکستان میں در اندازی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس پر جب افغان حکومت نے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کردیا اور وزیرِ دفاع تک نے یہ کہہ دیا کہ ہماری سرزمین سے کسی قسم کی دہشت گردی نہیں ہوگی اور اس کے لئے ہم تنہا پاکستان نہیں پوری دنیا کو دوحہ معاہدہ ضمانت میں دے چکے ہیں اور آئندہ بھی ہر فریق کو اطمئنان دلاسکتے ہیں۔
وزیر داخلہ خلیفہ صاحب نے باقاعدہ ایک پیشکش بھی دی کہ ڈیورنڈ لائن پر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو دونوں جانب کی دراندازی پر نظر رکھے اور شکایت کی صورت میں ہر فریق کو عمل درآمد کا مکلف بناسکےـ یہ موقف پوری دنیا کے سامنے آگیا اور ہر طرف سے اسے داد اور پذیرائی ملی کہ اس سے بڑھ کر کسی کو مطمئن کرنے کا اور کوئی طریقہ ہو نہیں سکتاـ مگر ایک آنکھ نہیں بھایا تو پاکستانی فوجی رجیم کو؛ اس لئے کہ وہ دہشت گردی کا نام لے کر دیگر عزائم درپردہ رکھتے ہیں۔ اور ان عزائم کا ادراک امارتِ اسلامیہ کی فتحیابی کے بعد ان واقعات سے بخوبی ہوسکتا ہے جو فورا شروع ہوگئےـ
سب سے پہلے تو پاکستان کی طرف طورخم، خرلاچی اور چمن بولدک دروازوں کو عین ان دنوں بندش کا شکار بنایا گیا جب افغانستان میں تازہ پھلوں کا وقت ہوا کرتا تھا اور یہ پھل بکنے کے لئے پاکستانی منڈیوں کی طرف روانہ کئے جاتے تھےـ وجہ کچھ نہیں بتائی جاتی تھی، بس ایک شوشہ سا چھوڑ دیا جاتا تھاـ دوسرے مرحلہ پر سمندری راستہ سے افغانستان آنے والے سامان کی ترسیل روک دی جاتی تھی۔ ہزاروں کنٹینرز مختلف پورٹ پر روک دئیے جاتے تھے جس سے افغان تاجر بے تحاشا نقصان کا سامنا کرتے تھےـ اور یہاں بھی حسب سابق بلا کسی وجہ ایسا کیا جاتا تھاـ اس کے ساتھ ہی پھلوں کی درآمدات پر یکدم بغیر کسی سابق اطلاع اور مفاہمت کے سو فیصد سے زائد ٹیکس بڑھادینے کا عمل سرانجام دیاـ
اس پر مستزاد یہ ہوا کہ پاکستان میں عشروں سے مقیم افغان مہاجرین کے جبری انخلاء کا عمل شروع کردیا گیاـ انخلاء کو تو وہ کوئی جواز تلاش کرتے ہوں گے لیکن جبری انخلاء، اس کے ساتھ جائیدادوں سے زور زبردستی بے دخلی، املاک چھیننا، تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کے ساتھ ساتھ جیلوں میں قید کرنے جیسے بھیانک کارنامے تو کسی بھی قانون اور شریعت سے ہم آہنگ نہیں تھےـ پر انہیں شریعت اور قانون سے کیا وہ پھر بھی کر گزرےـ ابھی یہ مرحلہ ہایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تھا کہ فوجی رجیم سیدھا لڑنے بھڑنے پر آگیا اور افغانستان پر بمباری شروع کردی۔ تجارتی راستے سارے بند کردئیے گئےـ زمینی طور پر گولہ باری اور بلا اشتعال فائرنگ کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاـ
یہاں بھی وہی پرانا حربہ کہ یہ سب اس لئے کیا جارہا ہے کہ وہاں سے دراندازی ہورہی ہےـ مہینوں یہ سلسلہ چلتا رہا اور عالم سر پکڑے منتظر دیکھتا رہا کہ اب کسی دہشت گرد کے ٹھکانے کی خبر آئے گی اور اب آئے گی مگر وہ یوں ہی سر پکڑے منتظر دیکھتا رہ گیا کہ بات مہینوں سے بڑھ کر سال تک پہنچی اور کوئی ٹھوس ثبوت منظر پر نہ آسکاـ سبکی تو ہونی تھی سو ہوگئی۔ مگر چونکہ انہوں نے ایک مشن شروع کر رکھا ہے تو پلٹا کھا کر ایک اور گیم شروع کردی۔
افغانستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ شروع کردیا گیاـ میڈیا، مذہبی لوگ، اینکر پرسن اور دیگر طبقات کے لوگوں کو اسکرین پر بٹھا کر وہ جھوٹ بلوائے گئے کہ شیطان بھی ششدر رہ گیاـ افغانستان میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا بھی مشن کا حصہ بنا جو کسی لالچ میں آکر موجودہ حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کرسکیں اور عملا میدان میں اتر کر مزاحمت کا حصہ بن سکیں۔
اب تازہ ترین اطلاع کے مطابق مشن اس حد پر جا پہنچا ہے جس کا ذکر نیو یارک ٹائمز اور زلمے خلیل زاد کرچکا ہےـ جس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کے درپردہ عزائم اب کھل کر سامنے آچکے ہیں؛ جو کچھ وہ کہتا ہے اور دنیا کو باور کراتا ہے وہ کھلا جھوٹ ہےـ اور مقصد ہے وہ یہ کہ کسی طرح افغانستان میں صدیوں بعد جو نظام اسلامی اصولوں پر استوار ہےـ جس میں مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک ہر شخص کی امیدوں کی دنیا قائم ہےـ جس کے امن وامان کے چہار سو ڈنکے بج رہے ہیں۔ جس میں دنیا کا یر مظلوم شخص آئینہ کی طرح اپنا چہرہ دیکھ رہا ہےـ جس کی رگ رگ میں ہزاروں شہداء کا لہو شامل ہےـ جو لاکھوں بیواؤں، یتیموں اور بے کسوں کے سپنوں کی تعبیر ہےـ اسے کمزور کردیا جائے اور اس کے لئے جھوٹ کی ضرورت ہو، پروپیگنڈہ ہو یا کفار اور اسلام دشمن قوتوں سے مدد لینے اور بدلہ میں ان کی غلامی۔
پاکستان نے عزم کرلیا ہے کہ وہ بہر قیمت یہ منصوبہ تکمیل تک پہنچائے گا اور اس نظام کی بیخ کنی کرے گاـ اب یہ تو وقت طے کرے گا کہ اس کا سرسوں ہتھیلی پر جمے گا بھی یا خود ہتھیلی سوزش کی شکار بنے گی؟



































