۲۴ اسد، افغانستان کی معاصر تاریخ میں محض ایک عام دن نہیں، بلکہ اس کی اہمیت صرف افغانستان تک محدود نہیں؛ پوری دنیا، بالخصوص نیٹو اور امریکہ کا انجام بھی اس دن سے وابستہ ہے۔ تقریباً پچیس برس قبل امریکہ اور اس کے فوجی اتحادیوں نے ایسے وقت افغانستان پر قبضے کے لیے اتحاد قائم کیا، جب ہمارا ملک نہ کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ تھا اور نہ ہی ۱۱ ستمبر کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ کرنے والا امارتِ اسلامیہ کا نظام مغرب اور امریکی اتحاد کو قابلِ قبول نہیں تھا۔ یہ خالص اسلامی نظام، جو اپنی اقدار پر مضبوطی سے قائم تھا، خطے اور عالمِ اسلام میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال تھا۔ دوسری جانب مغرض خفیہ ادارے اور اسلام دشمن عناصر اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ امارتِ اسلامیہ کی اسلامی اقدار سے وابستگی اسے افغانستان اور خطے کی ایک مضبوط طاقت میں تبدیل کرسکتی ہے، جس کا راستہ روکنا پھر ان کے لیے دشوار ہوجاتا۔
اس وقت کے امریکی صدر اور موجودہ دور میں صلیبی جنگوں کے بانی کے طور پر معروف جارج بش نے اعلان کیا کہ ’’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؛ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں۔‘‘
بالآخر اسی جارحیت کا آغاز ہوا۔ بیرونِ ملک مقیم اور خانہ جنگیوں میں ملوث بعض افغان عناصر کو آگے لاکر ایک مرتبہ پھر افغانستان میں جمہوریت کے نعروں کی آڑ میں جمہوری نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ جمہوریت مغربی جمہوریتوں کی ہو بہو نقل تھی، جس کے ستون آئین، انسانی ساختہ قوانین اور دیگر مغربی اقدار پر استوار تھے؛ ایسی اقدار جن پر خود مغرب اور امریکہ بھی عملاً پوری طرح کاربند نہیں تھے۔
حقیقت یہ تھی کہ اس قبضے کے بعد امارتِ اسلامیہ نے صرف مختصر مدت کے لیے شہروں سے پسپائی اختیار کی، لیکن ازسرِنو خود کو منظم کرکے محدود وسائل کے باوجود اپنی جدوجہد کے ذریعے مغرب نواز جمہوری فکر کو چیلنج کیا اور ایک مرتبہ پھر افغان نسل کے دلوں میں جہاد و مزاحمت کی مشعل روشن کردی۔ تقریباً دو دہائیاں افغانستان میں مغربی اتحاد کی دہشت اور ظلم کے ایک بحرانی دور کی صورت میں گزریں۔ مغرب میں مقیم اور امریکہ نواز حکمرانوں نے اپنی مرضی سے عوام اور اسلامی اقدار کے خلاف صف آرا ہونے کا راستہ اختیار کیا تھا، لیکن اس تاریک دور میں ایک امید بھی موجود تھی۔ یہ امید امارتِ اسلامیہ کی مسلح اور فکری جدوجہد تھی، جو مجاہدین اور عام عوام کو آنے والی فتح کی نوید سنا رہی تھی۔
بالآخر یہ نوید ۲۰۲۱ء میں حقیقت بن گئی۔ مادی اور روحانی دونوں محاذوں پر جاری اس جدوجہد کے دوران سفید محمدی پرچم اسی شان سے لہراتا رہا اور آخرکار مجاہدین کے ہاتھوں ارگ(صدارتی محل) کے بلند و بالا محل کی چوٹی پر بھی لہرا اٹھا۔
ہاں! یہ ۲۴ اسد کا تاریخی دن تھا؛ وہ دن جب کابل شہر فتح اور اسلامی کامیابی کے نعروں سے گونج اٹھا تھا۔ آزادی کے متوالے عوام عید کے دن کی مانند خوشی سے گلیوں اور سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنا مقدر اپنے مغربی اور امریکی آقاؤں سے وابستہ کر رکھا تھا، ہوائی اڈے کی طرف بھاگ رہے تھے، طیاروں کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور اپنی سابقہ بداعمالیوں کی رسوائی کے خوف سے اپنے رب، اپنے وطن اور اپنے ’’عوام‘‘ تک کو بھول چکے تھے۔
وہ جمہوری نظام جس پر دو دہائیوں تک اربوں ڈالر کی مغربی اور امریکی سرمایہ کاری کی گئی، جس کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیری مہمات چلائی گئیں اور آئین و دیگر وضعی اصولوں کو مسلط کرکے اسے عوام کے سامنے ہر قسم کی دہشت اور بدعنوانی کا منبع بناکر پیش کیا گیا، پانی پر بنے نقش کی طرح مٹ گیا۔ یہاں تک کہ بہت جلد اسی مسلط کردہ نظام کے بعض ارکان نے بھی اس کی مذمت شروع کردی اور عوام سے معافی مانگنے لگے۔
جمہوری نظام کے سقوط میں بلاشبہ امارتِ اسلامیہ کی جدوجہد کا بنیادی کردار تھا، لیکن اس جدوجہد کی بنیاد اسلامی امارت کو حاصل عوامی حمایت اور شریعتِ اسلامی سے وابستگی پر قائم تھی۔ یہی وہ دیرینہ اور تاریخی مطالبہ تھا جو ہمارے مسلمان عوام کے دلوں میں ہمیشہ سے موجود رہا اور بالآخر اسے عملی صورت میں تحقق حاصل ہوا۔
۲۴ اسد ایک طرف تاریخی فتح کا دن اور ہزاروں مقدس شہیدوں کے قافلے کی روشن منزل تھا، تو دوسری طرف جمہوریت کے سائے تلے سنگین جرائم کے مرتکب، انسانوں کے قاتل اور وطن فروشی کرنے والوں کے لیے بھی امن کا دن ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امارتِ اسلامیہ کے سربراہ اور افغانستان کے فاتح، حضرت امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے عام معافی اور درگزر کا ایسا تاریخی اور بے مثال فرمان جاری کیا جس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی اور جس کی کسی کو بھی توقع نہ تھی۔
۲۴ اسد کے بعد اس فرمان نے افغانوں کے درمیان قومی مفاہمت، باہمی اتحاد اور ایک قوم کی حیثیت سے اپنی اجتماعی شناخت کا احساس پیدا کرنے کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین نے بھی اپنے امیر کے فرمان کا مکمل احترام کرتے ہوئے ایسے بہت سے لوگوں کو اخوت و بھائی چارے کی آغوش میں جگہ دی جنہوں نے دو دہائیوں تک ظلم و بربریت کے سوا کچھ اور نہیں دیکھا تھا۔



















































