افغانستان ایک مردم خیز اور غیرت مند سرزمین ہے۔ یہاں کے عوام جس روز سے مشرف بہ اسلام ہوئے، اپنی عقیدے پر اسی طرح مضبوط اور ثابت قدم رہے ہیں۔ اسی عقیدے اور حقانیت کے لیے انہوں نے مختلف نذرانے پیش کیے، آزمائشوں سے گزرے، تکلیفیں برداشت کیں اور مصیبتیں جھیلیں۔ وہ حملوں، قبضوں، استعمار اور یلغاروں کی میزبانی کرتے رہے، لیکن نہ ٹوٹے اور نہ پیچھے ہٹے؛ انہوں نے نہ اپنا دین چھوڑا اور نہ اپنی دعوت، بلکہ حملہ آوروں اور بن بلائے مہمانوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔
افغانستان میں بیس سالہ قبضے کے ابتدائی ایام تھے۔ اس مسلم سرزمین کو ایک بار پھر انسانیت کے دعوے داروں کی بربریت اور نئی آزمائشوں کا انتظار تھا۔ صبح اور شام میں کوئی فرق معلوم نہ ہوتا تھا، ہر طرف بموں کا سیاہ دھواں اٹھتا تھا، جلے ہوئے جسموں کی چیخیں ایک دوسرے میں گھلی ہوتی تھیں، خون کی ندیاں بہتی تھیں، مٹی کی منہدم دیواروں کے نیچے معصوموں کی ہڈیاں دبی ہوتی تھیں، روزے ادھیڑ راتوں میں ٹوٹتے تھے، اذان سسکیاں لینے لگی تھی، امام محراب کے پاس شہید ہوتا تھا، حجروں میں بخاری کے اوراق خون میں لت پت پڑے ہوتے تھے۔ یہ خونی لوٹ مار وہ لوگ لائے تھے جن کے انسانیت کے دعوے آسمانوں تک پہنچتے تھے، لیکن یہاں سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا تھا۔
لیکن اگر ایک طرف اسلام اور مقدس شریعت کے مقابلے میں یہ خناس اور شیطان تھے، تو دوسری طرف ایسے نوجوان اور مرد بھی موجود تھے جو ان شیطانوں کے ٹھکانوں کو منہدم کرنے، انہیں قتل کرنے اور جہنم کی گہری کھائیوں میں دھکیلنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے تھے۔ جہاد، جو اسلام کے بنیادی اور اہم ارکان میں سے ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فرضِ عین کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ جہاد کی صفیں درست کی گئیں اور ایمان کے لشکر منظم ہوئے۔ اس صف میں اعداد، رباط، قتال اور استشہاد کے مراحل تھے، اور ان کے لیے ایسے افراد منتخب کیے جاتے تھے جن کا اپنے ربِ متعال کے ساتھ مضبوط تعلق تھا۔
یہ تحریک ایک بار پھر ملا محمد عمر رحمہ اللہ کی قیادت میں شروع ہوئی، جس میں متعدد جہادی رہنما ان کے ساتھی تھے۔ ان میں ایک مرحوم جلال الدین حقانی رحمہ اللہ بھی تھے۔ وہ قربانیوں کے ایک خاندان کے سربراہ تھے اور دو عظیم جہادی محازوں کے سرخیل میں سے تھے۔ اس عظیم شخص نے جہاد اور قتال کے لیے افراد تیار کیے، اپنے بھائیوں، بیٹوں، بھتیجوں، رشتہ داروں اور اجنبیوں، سب کو قربانی کے اس میدان میں لے آئے۔ نصیر الدین، بدر الدین، عمر اور حیات اللہ ان کے بیٹے تھے، اور وہ اس مقدس راہ میں شہادت کے بلند مقام پر پہنچے۔
لیکن ان سب میں شہید حافظ بدر الدین تقبله الله الگ حیثیت رکھتے تھے؛ وہ کمال، محنت اور جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔ استشہادی صفوں کے سرکردہ نوجوان تھے۔ حافظ یکم رمضان المبارک ۱۴۰۶ ہجری بمطابق ۱۰ مئی ۱۹۸۶ء کو پیدا ہوئے اور اپنے والد کے سائے میں جہادی جذبے کے ساتھ تربیت پائی۔ انہوں نے زندگی کے اخلاق، آداب اور عقائد سیکھے، مدرسۂ منبع العلوم میں حفظ کیا اور دینی تعلیمات ابتدائی دورے تک حاصل کیں۔ چونکہ شہید سعید میں غیر معمولی علمی استعداد اور صلاحیت تھی، اسی وجہ سے مرحوم جلال رحمہ اللہ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے اور ہمیشہ ان سے کہتے تھے کہ میرا علمی ورثہ تمہیں ملے گا اور تم میری کمی پوری کرو گے۔
لیکن حافظ کا شوق اور جذبہ کچھ اور تھا۔ انہوں نے امارت اسلامیہ کی صفوں میں کچھ عرصہ ایک عام مجاہد کی حیثیت سے فریضۂ جہاد ادا کیا، لیکن اپنی ذہانت اور فطانت کی وجہ سے قیادت کی جانب سے استشہادی دستے کے مسئول مقرر ہوئے۔ انہوں نے اس عظیم ذمہ داری کو بڑی بہادری، اخلاص اور دیانت کے ساتھ اپنی شہادت کی آخری گھڑی تک نبھایا۔ اس ذمہ داری کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے انہیں خوست کا عسکری نائب بھی مقرر کیا گیا۔ حافظ صاحب نے استشہاد کے باغ میں سنہرے پھول جمع کیے تھے۔ انہوں نے اس صف کو انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ منظم کیا تھا، بہت مضبوط، سنجیدہ اور پیچیدہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی، اور کابل، خوست، وردگ اور دیگر صوبوں میں اسلام کے رسوا دشمنوں کو ابابیلوں کی خوراک بنا دیا اور انہیں حیران کر دیا۔
حافظ صاحب کی قیادت میں ۷۵ بہادرانہ حملے کیے گئے، جن میں کانٹینینٹل، خوست میں امریکی اڈے اور سید آباد بیس پر حملوں کو بطور نمونہ ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان جہادی اور استشہادی حملوں کی وجہ سے وہ امریکی افواج کے مطلوب ترین افراد میں شامل ہوگئے، لیکن وہ انہیں شہید یا گرفتار کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ بالآخر یہ مجاہد، قتال کے نوجوان اور استشہادی رہنما، ۳ شوال ۱۴۳۳ ہجری بمطابق ۲۱ اگست ۲۰۱۲ء کو امریکی قابض افواج کے فضائی ڈرون حملے کا نشانہ بنے اور شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوگئے۔ شہید نور ذرے ذرے ہوگئے تھے، صرف ان کا سینہ سلامت رہا، جس سے مجاہدین نے انہیں پہچانا۔ یہ شہید سعید کی برکت اور قرآن کریم کا معجزہ تھا، نحسبه كذلك…
شہید حافظ کے انتقام کے طور پر، ان کی شہادت سے قبل سی آئی اے کے دفتر پر منصوبہ بند استشہادی کارروائی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا اور استشہادیوں اور مجاہدین کی بہادری اور جان نثاری کی بدولت اس بڑی سازش کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ صف اسی طرح آگے بڑھتی رہی اور شہید کے ارمانوں کو زندہ رکھا گیا۔




































