دہائیوں کی جنگوں اور مصیبتوں کے بعد افغان امن و خوشحالی کا احساس کر رہے ہیں, لیکن ازلی دشمن افغانوں کے امن و خوشحالی کے خلاف اپنے آخری حربے آزما رہے ہیں۔ افغان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اپنے عقیدے کی بنیاد پر سب سے زیادہ وفادار، مخلص، مہمان نواز اور شفیق لوگ ہیں۔ انہی صفات کی وجہ سے پاکستانی رجیم نے ہمیشہ افغانوں کی سچائی اور اخلاص کا غلط استعمال کیا ہے۔
موجودہ وقت میں پاکستانی رجیم کی جانب سے افغانوں کے خلاف بدامنی اور تخریب کاری کے گروہوں کے ساتھ تعاون، تنظیم اور تربیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانوں کے حوالے سے پاکستانی رجیم کی نیک نیتی موجود نہیں۔ ویسے تو اس میں دہائیوں سے نیک نیتی نہیں تھی، لیکن اس نے ہمیشہ افغانوں کے صبر کا امتحان لینے کو افغانوں کی کمزوری اور نادانی سمجھا ہے۔
حالیہ تحقیقات اور کارروائیوں نے، جو پاکستان کی سرزمین اور سرحدی علاقوں میں انجام دی گئیں، ثابت کیا کہ شر، فساد اور فتنہ انگیزی کے محاذوں کو مذکورہ رجیم کی جانب سے مالی اور فکری طور پر اپنے مقاصد کے لیے تربیت دے کر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بدلے پاکستانی رجیم عالمی انٹیلی جنس حلقوں سے کریڈٹ حاصل کرتی اور اپنے موجودہ اقتصادی بحران کو دور کرتی ہے؛ لیکن حالیہ کارروائیوں نے پاکستان کی رجیم کے ان ناپاک اور شرمناک حلقوں کو اس طرح کچل دیا کہ اس کے موجودہ اور زیرِ تکمیل مذموم مقاصد فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بن گئے۔
تاریخ کے صفحات میں مسلمانوں کا حقیقی نظام کسی بھی شرپسند عنصر کو پھیلنے اور برقرار رہنے کا موقع نہیں دیتا۔ آج ہم بھی فساد، تخریب کاری اور بدامنی پیدا کرنے والے منصوبہ بند گروہوں، ٹولیوں اور ان کے آقاؤں کو یہ موقع نہیں دیتے کہ ہماری سرزمین پر بدامنی اور تخریب کاری کے ارادے سے کسی چیز کو پائیداری اور دوام حاصل ہو؛ بلکہ آج ہمارے پاس یہ ذمہ داری اور طاقت موجود ہے کہ فساد، تخریب کاری اور شرارت کے اڈوں اور کیمپوں کو، اس سے پہلے کہ وہ اپنے قدم مضبوط کریں، اپنے عزم اور چوکسی کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
پاکستان کے مسلمان عوام اور سیاست دانوں سے ایک بار پھر مشترک عقیدے اور ثقافت کی بنیاد پر خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان اور افغانوں کو تیس سال پہلے کی قوم اور نظام کی طرح نہ سمجھیں، ورنہ آپ ایک مکار، باج گزار اور اجیر رجیم کے مذموم مقاصد کا شکار ہو جائیں گے۔ آج امارت اسلامیہ افغانستان اپنی زیرک اور مدبرانہ سیاست اور نظام کے ساتھ اس قابل ہو چکی ہے کہ اپنے عوام اور نظام کے خلاف تخریبی عناصر اور مقاصد کو، اندرونِ ملک کے علاوہ بیرونِ ملک بھی، مدبرانہ، زیرک اور دندان شکن کارروائی کے ذریعے کچل دے۔ اس نے یہ بات مختصر مدت میں آپ اور دنیا کے سامنے ثابت بھی کر دی ہے۔
ہر شر، فساد اور تخریبی سمت کے خلاف قاطعیت اور سنجیدگی امارت اسلامیہ کے انٹیلی جنس نظام کی پالیسی ہے، جو کبھی باطل اور تخریبی عناصر کو تنظیم، دوام، سرگرمی اور تکرار کی اجازت نہیں دیتی۔ اسی پالیسی کو دفاع کے بجائے جارحانہ کارروائی اور تکرار کی روک تھام کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کی قاطعیت سمجھیں۔




















































