امیر عبدالرحمٰن خان اور بفر اسٹیٹ کا قیام:
جب انگریزوں نے دیکھا کہ افغانستان ان کے لیے ایک دلدل بنتا جا رہا ہے تو انہوں نے ایک درمیانی راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران کابل میں برطانوی فوج کی اس مخدوش صورتِ حال اور قیادت کے پیدا ہونے والے شدید خلا کے دوران افغان تاریخ کا ایک اور اہم کردار منظرِ عام پر آیا۔ یہ امیر دوست محمد خان کے پوتے اور افضل خان کے بیٹے ‘امیر عبدالرحمٰن خان’ تھے، جو گزشتہ تقریباً دس برسوں سے روس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔
وہ اپنی مرضی سے ملک سے باہر نہیں گئے تھے، بلکہ 1863 میں اپنے دادا کی وفات کے بعد تختِ کابل کے لیے خاندانی خانہ جنگی کے نتیجے میں جلاوطن ہوئے تھے۔ اس خون ریز داخلی معرکے میں انہیں اپنے چچا امیر شیر علی خان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے 1870 میں بھاگ کر وسطی ایشیا کے علاقے سمرقند چلے گئے تھے، جو اس وقت روسی سلطنت کا حصہ تھا اور وہاں روسی حکومت کے وظیفے پر دن کاٹ رہے تھے۔
جب دوسری اینگلو-افغان جنگ کے شعلے بھڑکے اور امیر شیر علی خان کے بعد ان کے بیٹے یعقوب خان کو انگریزوں نے معزول کر کے ہندوستان جلاوطن کر دیا تو روس میں بیٹھے عبدالرحمٰن خان نے بھانپ لیا کہ اپنے اسلاف کا کھویا ہوا تخت واپس حاصل کرنے کا یہی سب سے بہترین موقع ہے۔
وہ کسی کے بلائے یا لائے بغیر خالصتاً اپنی ہمت اور سیاسی تدبر کے بل بوتے پر روسیوں سے اجازت لے کر اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ سرحد پار کر کے شمالی افغانستان کے علاقے بدخشان پہنچ گئے۔ ایک طویل عرصے سے کسی مضبوط اور دلیر جرنیل کی تلاش سرگرداں افغان قبائل اور غازیوں نے عبدالرحمٰن خان کا زبردست استقبال کیا اور ان کے علم تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔
دوسری طرف کابل میں محصور برطانوی فوج افغانوں کی گوریلا کارروائیوں سے اس حد تک زچ ہو چکی تھی کہ وہ صرف کسی ایسے راستے کی تلاش میں تھی، جہاں سے وہ باعزت طریقے سے اپنی جان بچا کر نکل سکے۔ انگریز حکومت نے جب دیکھا کہ عبدالرحمٰن خان کے پیچھے افغان قبائل کی ایک بہت بڑی طاقت کھڑی ہو چکی اور ان سے ٹکرانے کا مطلب ایک اَور طویل اور لاحاصل جنگ کا دلدل ہے تو انہوں نے عبدالرحمٰن خان کو کابل کا نیا امیر تسلیم کرنے کی پیش کش کر دی۔
امیر عبدالرحمٰن خان نے بھی کمالِ ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے عارضی طور پر خارجہ امور برطانیہ کے پاس رہنے کی شرط منظور کر لی، تاکہ پہلے انگریز فوج کابل سے پرامن طریقے سے نکل جائے اور انہیں ملک کے اندرونی حالات کو آہنی ہاتھ سے یکجا کرنے اور اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کا موقع مل سکے۔ یوں انگریزوں نے انہیں بادشاہ بنایا نہیں تھا، بلکہ یہ وقت کی وہ ضرورت اور برطانوی راج کی مجبوری تھی، جس نے امیر عبدالرحمٰن خان کو کابل کے تخت پر متمکن کیا۔
چناں چہ امیر عبدالرحمٰن خان نے ایک انتہائی سخت اور مرکزی حکومت قائم کی۔ انہوں نے داخلی بغاوتوں کو آہنی ہاتھ سے کچلا اور بکھرے ہوئے افغان قبائل کو ایک مرکزی قانون کے تحت لائے۔ اسی دور میں روس اور برطانیہ نے مل کر یہ طے کیا کہ دونوں بڑی سلطنتوں کے درمیان براہِ راست جنگ کو روکنے کے لیے افغانستان کی سرحدوں کا حتمی تعین ضروری ہے۔
چناں چہ برطانوی اور روسی کمیشنوں نے مل کر افغانستان کی شمالی اور مغربی سرحدوں کو ترتیب دیا۔ اسی تزویراتی ضرورت کے تحت افغانستان کے شمال مشرق میں ‘واخان راہ داری’ (Wakhan Corridor) کی ایک لمبی اور پتلی پہاڑی پٹی افغانستان کے نقشے میں زبردستی شامل کی گئی، تاکہ برطانوی ہند اور زارِ روس کی سرحدیں آپس میں نہ ٹکرائیں۔ یوں امیر عبدالرحمٰن خان کے دور میں افغانستان کا وہ نقشہ اُبھرنا شروع ہوا، جسے ایک ‘بفر اسٹیٹ’ کہا جاتا تھا۔
ڈیورنڈ لائن، افغان جغرافیے کا ناقابلِ تلافی نقصان:
تاہم امیر عبدالرحمٰن خان کے دور کا سب سے بڑا اور دردناک واقعہ 1893 میں پیش آیا، جس نے افغان قوم کے جغرافیے اور تاریخ پر گہرے زخم چھوڑے۔ برطانوی ہند کی حکومت چاہتی تھی کہ وہ اپنی سرحدوں کو افغان قبائل کے علاقوں تک پھیلا کر ایک مستقل اور محفوظ سرحدی لکیر کھینچ دے۔ اس مقصد کے لیے برطانوی ہند کے خارجہ سیکرٹری سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ (Sir Henry Mortimer Durand) کابل آئے اور افغان امیر کے ساتھ طویل مذاکرات کیے۔
انگریزوں کے عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں کی دھمکی اور سالانہ امداد بند ہونے کے خوف سے مجبور ہو کر امیر عبدالرحمٰن خان نے 12 نومبر 1893 کو ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے تاریخ میں ‘ڈیورنڈ لائن معاہدہ’ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 2,640 کلومیٹر لمبی ایک فرضی سرحد قائم کی گئی، جس نے صدیوں سے قائم پشتون قبائل کے وطن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس لکیر کے کھینچے جانے سے پشاور، وادیِ کرم، وزیرستان، سوات، باجوڑ، چترال، چمن اور بلوچستان کے وسیع علاقے افغانستان کے نقشے سے نکل گئے اور برطانوی ہند کا حصہ بن گئے۔ یہ افغان سلطنت کا وہ جغرافیائی نقصان تھا، جس کا ازالہ آج تک نہیں ہو سکا اور یہ لکیر آج بھی خطے کی سیاست میں ایک متنازع اور حساس ترین مسئلہ ہے۔
امیر حبیب اللہ خان کا دور اور پہلی جنگِ عظیم:
دوسری طرف 1901 میں امیر عبدالرحمٰن خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کی پالیسیوں کو جاری رکھا اور انگریزوں کے ساتھ تعلقات کو استوار رکھا۔ ان کے دور میں دنیا تکنیکی اور سیاسی طور پر تیزی سے بدل رہی تھی۔ کابل میں پہلی بار موٹر گاڑیاں، ٹیلیفون اور جدید پریس متعارف کروائے گئے۔ اسی دور میں افغانوں کے اندر جدید تعلیم کا شعور بھی بیدار ہونا شروع ہوا، جس میں محمود طرزی جیسے دانش وروں کے اخبار ‘سراج الاخبار’ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس اخبار نے افغان نوجوانوں میں آزادی اور استقلال کی ایک نئی تڑپ پیدا کی۔
جب 1914 میں پہلی جنگِ عظیم (World War I) چھڑی تو امیر حبیب اللہ خان کے سامنے ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ ایک طرف سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) نے برطانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا اور خلیفۃ المسلمین نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ افغان قبائل اور کابل کے رہنما چاہتے تھے کہ افغانستان اس موقع کا فائدہ اٹھا کر برطانوی ہند پر حملہ کر دے اور اپنے چھینے ہوئے علاقے واپس لے لے۔
جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کا ایک مشترکہ وفد (Hentig-Niedermayer Expedition) بھی کابل پہنچا، تاکہ امیر کو اپنے ساتھ ملا سکے۔ لیکن امیر حبیب اللہ خان جانتے تھے کہ افغانستان مالی اور عسکری طور پر ایک اَور عالمی جنگ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری جنگ کے دوران افغانستان کو غیر جانب دار (Neutral) رکھا، اگرچہ ان کی اس پالیسی کی وجہ سے افغان قبائل اور خود ان کے خاندان کے اندر ان کے خلاف شدید غصہ پیدا ہو گیا۔
غازی امان اللہ خان کا عروج اور آزادی کا عزم:
پہلی جنگِ عظیم 1918 میں ختم ہو گئی، جس میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو فتح حاصل ہوئی، لیکن اس فتح کی قیمت برطانوی سلطنت نے اپنی معاشی اور فوجی تباہی کی صورت میں چکائی تھی۔ دوسری طرف افغانستان کے اندر امیر حبیب اللہ خان کی غیر جانب داری کی پالیسی نے ان کے مخالفین کو مضبوط کر دیا تھا۔ جب فروری 1919 میں امیر حبیب اللہ خان صوبہ لغمان کے علاقے میں شکار کے دوران اپنے خیمے میں سوئے ہوئے تھے تو نامعلوم افراد نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا۔
امیر کے قتل کے بعد کابل میں ایک عارضی سیاسی بحران پیدا ہوا، لیکن ان کے تیسرے بیٹے غازی امان اللہ خان اس وقت کابل کے گورنر اور فوج اور عوام میں بے پناہ مقبول تھے، نے فوری طور پر حکومت پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ شاہ امان اللہ خان اپنے والد اور دادا کے برعکس ایک انقلابی رہنما تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ افغان قوم نے انگریزوں کی غیر جانب داری کا ساتھ دے کر پہلی جنگِ عظیم میں بڑا صبر دکھایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ افغانستان کو اس کا صلہ اس کی مکمل آزادی کی صورت میں دے۔
انہوں نے تخت نشین ہوتے ہی برطانوی وائسرائے کو ایک خط لکھا، جس کے الفاظ افغان تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اب برطانوی ہند کی کسی بھی شرط کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ دنیا کے نقشے پر ایک مکمل آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ تاریخ کا پہیہ اب گھومنے کے لیے تیار تھا اور 40 سالہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے کا وقت قریب آ چکا تھا۔




















































