عسکری عدم توازن اور داخلی انتشار کے اسباب:
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو افغان قوم اپنی بہادری اور جنگجوئی کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھی، وہ اس جنگ میں اس حد تک کمزور پوزیشن میں کیوں آ گئی کہ انگریزوں نے چند ہی مہینوں میں کابل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ سمجھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے وہ دو بنیادی اسباب تھے، جن کا ذکر ہم نے آغاز میں کیا تھا۔ یعنی داخلی اتحاد کا فقدان اور مادی و عسکری طاقت کا عدم توازن…
مادی لحاظ سے انیسویں صدی کا برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت تھا۔ اس کے پاس تب کی جدید ترین مارٹینی ہنری رائفلیں، خودکار مشین گنز (گیٹلنگ گنز) اور ایسی جدید توپیں موجود تھیں، جو میلوں دور سے پہاڑی مورچوں کو تباہ کر سکتی تھیں۔
اس کے برعکس افغان افواج کے پاس ہتھیاروں کی شدید کمی تھی۔ وہ اب بھی پرانی وضع کی بندوقوں، تلواروں اور روایتی بارود پر انحصار کر رہے تھے۔ مزید برآں ایک منظم اور باقاعدہ فوج کو برقرار رکھنے کے لیے جس بھاری سرمائے اور مستحکم معیشت کی ضرورت ہوتی ہے، افغانستان اس سے بالکل محروم تھا۔ مسلسل جنگوں نے زراعت اور تجارت کو تباہ کر دیا تھا، ملکی خزانہ خالی تھا اور فوج کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے موجود نہیں تھے۔
لیکن اس مادی کمزوری سے بھی بڑا اور مہلک سبب افغانستان کا داخلی انتشار تھا۔ امیر دوست محمد خان کی وفات (1863) کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تختِ کابل کے لیے ایک طویل اور خون ریز خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا تھا اور شہزادے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کبھی انگریزوں کے پاس جاتے تو کبھی روس سے مدد مانگتے۔ اس آپسی لڑائی نے افغان قبائل کے مابین اعتماد کو ختم کر دیا اور مرکزی حکومت کا نظم و ضبط بالکل تبا ہ ہو چکا تھا۔
جب برطانوی فوجوں نے حملہ کیا تو امیر شیر علی خان کو اندازہ ہوا کہ وہ اس بکھری ہوئی قوم اور خالی خزانے کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ انگریزوں کے دباؤ کے بعد کابل چھوڑ کر مزار شریف جیسے شمالی علاقوں کی طرف پیچھے ہٹ گئے، جہاں روس نے بھی ان کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اسی مایوسی کے عالم میں 1879 کے آغاز میں ان کا انتقال ہو گیا۔
معاہدہِ گندمک، یعنی آزادی کا سودا:
امیر شیر علی خان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے محمد یعقوب خان نے حکومت سنبھالی۔ کابل انگریزوں کے محاصرے میں تھا، افغان فوج تتر بتر ہو چکی تھی اور داخلی سطح پر کوئی منظم مزاحمت موجود نہیں تھی۔ ان انتہائی مخدوش حالات میں امیر یعقوب خان انگریزوں کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ مئی 1879 میں کابل کے قریب ایک علاقے ‘گندمک’ میں افغان امیر اور برطانوی نمائندے سر لوئس کیواگناری کے درمیان ایک معاہدہ دستخط ہوا، جسے تاریخ میں ‘معاہدہِ گندمک’ کہا جاتا ہے۔
یہ معاہدہ افغانستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا۔ اس کی سب سے بڑی اور خطرناک شرط یہ تھی کہ افغانستان اپنے تمام خارجہ امور (Foreign Policy)، دوسرے ملکوں سے تعلقات اور جنگ و امن کے فیصلے مستقل طور پر برطانوی ہند کی حکومت کے حوالے کر دے گا۔ بدلے میں برطانیہ نے وعدہ کیا کہ وہ افغانستان کو خاص طور پر روسی جانب سے بیرونی حملوں سے تحفظ فراہم کرے گا اور امیر کو سالانہ چھ لاکھ ہندوستانی چاندی کے روپے امداد دی جائے گی۔
اس معاہدے کے ذریعے افغانستان بظاہر تو ایک آزاد ملک رہا، لیکن اندرونی طور پر وہ اپنی وہ سب سے بڑی صفت کھو بیٹھا، جو کسی بھی خود مختار ملک کی پہچان ہوتی ہے، یعنی اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی… اس معاشی اور عسکری کمزوری نے افغان سلطنت کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ اپنے ہی ملک میں بیگانی ہو کر رہ گئی۔
گندمک کا ردِعمل اور کابل میں خون ریز بغاوت:
معاہدہِ گندمک پر دستخط کر کے امیر محمد یعقوب خان نے بظاہر اپنے تخت کو عارضی تحفظ تو فراہم کر دیا تھا، لیکن وہ افغان عوام کی غیرت اور آزادی پسند نفسیات کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ افغانوں کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ ان کا بادشاہ انگریزوں کے ٹکڑوں پر پلے اور کابل کے امور کا فیصلہ لندن سے ہو۔
معاہدے کے تحت جولائی 1879 میں سر لوئس کیواگناری (Sir Louis Cavagnari) برطانوی ریزیڈنٹ (سفیر) بن کر کابل پہنچا اور کابل کے تاریخی قلعے ‘بالا حصار’ میں مقیم ہو گیا۔ انگریز سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی بڑی جنگ کے پورے افغانستان کو مسخر کر لیا ہے، لیکن یہ امن طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔
معاہدے کے محض چند ماہ بعد ستمبر 1879 میں ہرات سے آنے والے افغان فوج کے چند ایسے دستے کابل پہنچے، جو گزشتہ کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم اور شدید معاشی تنگی کا شکار تھے۔ ان سپاہیوں نے قلعہ بالا حصار میں موجود امیر محمد یعقوب خان کے شاہی محل کا رخ کیا اور اپنی جائز بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
امیر یعقوب خان معاہدہِ گندمک کے بعد انگریزوں کے دباؤ میں اس حد تک آ چکے تھے کہ وہ برطانوی سفیر کی مرضی کے بغیر ملکی خزانے سے کوئی بڑی ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ جب امیر یعقوب نے رقم کی عدمِ دستیابی کا عذر پیش کرتے ہوئے لیت و لعل سے کام لیا تو ان فوجیوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ‘ان کی معاشی بدحالی اور اپنے ہی بادشاہ کی بے بسی کا اصل ذمے دار وہ برطانوی سفیر ہے، جو قلعے کے دوسرے حصے میں پوری فرعونیت کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔
ان فوجیوں کا غصہ ایک دم اپنے بادشاہ کے بجائے انگریزوں کی طرف مڑ گیا اور وہ مظاہرے کرتے ہوئے برطانوی سفارت خانے کے باہر جمع ہو گئے۔ اس انتہائی نازک اور جذباتی موقع پر برطانوی سفیر سر لوئس کیواگناری نے سفارتی دانش مندی دکھانے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کیا اور اپنے محافظوں کو نہتے افغانوں پر گولی چلانے کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں کچھ افغان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
اس گولی باری نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور افغانوں کے چھپے ہوئے غصے کو ایک دم لاوے کی طرح بھڑکا دیا۔ افغان فوج اور کابل کے غیور عوام نے اسے اپنی قومی و اسلامی غیرت پر حملہ سمجھا اور قلعہ بالا حصار پر دھاوا بول دیا۔ غصیلا ہجوم دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گیا اور ایک ہی دن کی خون ریز لڑائی میں برطانوی سفیر سر لوئس کیواگناری سمیت پورے انگریز وفد اور ان کے محافظوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
یہ واقعہ سلطنتِ برطانیہ کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ تھا، جس نے لندن سے لے کر کلکتہ تک برطانوی حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
لارڈ رابرٹس کی آمد اور امیر یعقوب خان کی معزولی:
جب کابل میں برطانوی سفیر کے قتل کی خبر برطانوی ہند پہنچی تو وائسرائے لارڈ لٹن نے فوری طور پر جنرل فریڈرک رابرٹس (General Frederick Roberts) کی قیادت میں ایک بھاری لشکر کابل روانہ کیا۔ انگریز فوج جدید توپ خانے کے ساتھ کابل میں داخل ہوئی اور انہوں نے قلعہ بالا حصار پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ جنرل رابرٹس نے کابل کے عوام سے بدلہ لینے کے لیے وحشیانہ اقدامات کیے۔ سیکڑوں افغان شہریوں کو سرِعام پھانسی دی گئی، کابل کے کئی بازاروں کو آگ لگا دی گئی اور پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا۔
اس تمام صورتِ حال میں بے بس ہو جانے والے امیر محمد یعقوب خان انگریزوں کی نظر میں بھی مشکوک بن چکے تھے۔ انگریزوں نے انہیں تخت سے معزول کر کے ہندوستان جلاوطن کر دیا۔ اب کابل پر براہِ راست برطانوی فوج کا قبضہ تھا، لیکن افغان قوم کو بندوق کے زور پر زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا تھا۔ غازیوں اور ملا مشکِ عالم جیسے مذہبی رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔
افغان قبائل نے کابل کے اطراف میں انگریز فوج کی سپلائی لائنیں کاٹ دیں اور انہیں قلعہ بالا حصار میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا۔ جولائی 1880 میں ‘جنگِ میوند’ (Battle of Maiwand) کے مقام پر غازی ایوب خان کی قیادت میں افغانوں نے برطانوی فوج کے ایک بہت بڑے دستے کو بدترین اور تاریخی شکست دی، جس میں ‘ملالئی میوند’ نامی افغان خاتون کی شجاعت نے افغان فوج میں روح پھونک دی تھی۔ اس شکست نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ وہ افغانستان پر براہِ راست حکومت کبھی نہیں کر سکتے۔




































