اتوار, اگست 23, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! بارہویں قسط

    عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! بارہویں قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط

    پاکستان اور داعش فکری اور نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دوسری اور آخری قسط

    پاکستان اور داعش فکری اور نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دوسری اور آخری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ! پہلی قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ! پہلی قسط

    ۲۸ اسد؛ عزت اور آزادی کی ولولہ انگیز داستان!

    ۲۸ اسد؛ عزت اور آزادی کی ولولہ انگیز داستان!

    ۲۸ اسد؛ طلوعِ آزادی اور استعمار کا زوال!

    ۲۸ اسد؛ طلوعِ آزادی اور استعمار کا زوال!

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! بارہویں قسط

    عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! بارہویں قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط

    پاکستان اور داعش فکری اور نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دوسری اور آخری قسط

    پاکستان اور داعش فکری اور نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دوسری اور آخری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ! پہلی قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ! پہلی قسط

    ۲۸ اسد؛ عزت اور آزادی کی ولولہ انگیز داستان!

    ۲۸ اسد؛ عزت اور آزادی کی ولولہ انگیز داستان!

    ۲۸ اسد؛ طلوعِ آزادی اور استعمار کا زوال!

    ۲۸ اسد؛ طلوعِ آزادی اور استعمار کا زوال!

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط

فرید افغان

سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ دوسری قسط
Share on FacebookShare on Twitter

عسکری عدم توازن اور داخلی انتشار کے اسباب:

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو افغان قوم اپنی بہادری اور جنگجوئی کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھی، وہ اس جنگ میں اس حد تک کمزور پوزیشن میں کیوں آ گئی کہ انگریزوں نے چند ہی مہینوں میں کابل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ سمجھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے وہ دو بنیادی اسباب تھے، جن کا ذکر ہم نے آغاز میں کیا تھا۔ یعنی داخلی اتحاد کا فقدان اور مادی و عسکری طاقت کا عدم توازن…

اس جیسی دیگر تحاریر

عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! بارہویں قسط

پاکستان اور داعش فکری اور نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دوسری اور آخری قسط

سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ! پہلی قسط

مادی لحاظ سے انیسویں صدی کا برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت تھا۔ اس کے پاس تب کی جدید ترین مارٹینی ہنری رائفلیں، خودکار مشین گنز (گیٹلنگ گنز) اور ایسی جدید توپیں موجود تھیں، جو میلوں دور سے پہاڑی مورچوں کو تباہ کر سکتی تھیں۔

اس کے برعکس افغان افواج کے پاس ہتھیاروں کی شدید کمی تھی۔ وہ اب بھی پرانی وضع کی بندوقوں، تلواروں اور روایتی بارود پر انحصار کر رہے تھے۔ مزید برآں ایک منظم اور باقاعدہ فوج کو برقرار رکھنے کے لیے جس بھاری سرمائے اور مستحکم معیشت کی ضرورت ہوتی ہے، افغانستان اس سے بالکل محروم تھا۔ مسلسل جنگوں نے زراعت اور تجارت کو تباہ کر دیا تھا، ملکی خزانہ خالی تھا اور فوج کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے موجود نہیں تھے۔

لیکن اس مادی کمزوری سے بھی بڑا اور مہلک سبب افغانستان کا داخلی انتشار تھا۔ امیر دوست محمد خان کی وفات (1863) کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تختِ کابل کے لیے ایک طویل اور خون ریز خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا تھا اور شہزادے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کبھی انگریزوں کے پاس جاتے تو کبھی روس سے مدد مانگتے۔ اس آپسی لڑائی نے افغان قبائل کے مابین اعتماد کو ختم کر دیا اور مرکزی حکومت کا نظم و ضبط بالکل تبا ہ ہو چکا تھا۔

جب برطانوی فوجوں نے حملہ کیا تو امیر شیر علی خان کو اندازہ ہوا کہ وہ اس بکھری ہوئی قوم اور خالی خزانے کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ انگریزوں کے دباؤ کے بعد کابل چھوڑ کر مزار شریف جیسے شمالی علاقوں کی طرف پیچھے ہٹ گئے، جہاں روس نے بھی ان کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اسی مایوسی کے عالم میں 1879 کے آغاز میں ان کا انتقال ہو گیا۔

معاہدہِ گندمک، یعنی آزادی کا سودا:
امیر شیر علی خان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے محمد یعقوب خان نے حکومت سنبھالی۔ کابل انگریزوں کے محاصرے میں تھا، افغان فوج تتر بتر ہو چکی تھی اور داخلی سطح پر کوئی منظم مزاحمت موجود نہیں تھی۔ ان انتہائی مخدوش حالات میں امیر یعقوب خان انگریزوں کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ مئی 1879 میں کابل کے قریب ایک علاقے ‘گندمک’ میں افغان امیر اور برطانوی نمائندے سر لوئس کیواگناری کے درمیان ایک معاہدہ دستخط ہوا، جسے تاریخ میں ‘معاہدہِ گندمک’ کہا جاتا ہے۔

یہ معاہدہ افغانستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا۔ اس کی سب سے بڑی اور خطرناک شرط یہ تھی کہ افغانستان اپنے تمام خارجہ امور (Foreign Policy)، دوسرے ملکوں سے تعلقات اور جنگ و امن کے فیصلے مستقل طور پر برطانوی ہند کی حکومت کے حوالے کر دے گا۔ بدلے میں برطانیہ نے وعدہ کیا کہ وہ افغانستان کو خاص طور پر روسی جانب سے بیرونی حملوں سے تحفظ فراہم کرے گا اور امیر کو سالانہ چھ لاکھ ہندوستانی چاندی کے روپے امداد دی جائے گی۔

اس معاہدے کے ذریعے افغانستان بظاہر تو ایک آزاد ملک رہا، لیکن اندرونی طور پر وہ اپنی وہ سب سے بڑی صفت کھو بیٹھا، جو کسی بھی خود مختار ملک کی پہچان ہوتی ہے، یعنی اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی… اس معاشی اور عسکری کمزوری نے افغان سلطنت کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ اپنے ہی ملک میں بیگانی ہو کر رہ گئی۔

گندمک کا ردِعمل اور کابل میں خون ریز بغاوت:
معاہدہِ گندمک پر دستخط کر کے امیر محمد یعقوب خان نے بظاہر اپنے تخت کو عارضی تحفظ تو فراہم کر دیا تھا، لیکن وہ افغان عوام کی غیرت اور آزادی پسند نفسیات کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ افغانوں کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ ان کا بادشاہ انگریزوں کے ٹکڑوں پر پلے اور کابل کے امور کا فیصلہ لندن سے ہو۔

معاہدے کے تحت جولائی 1879 میں سر لوئس کیواگناری (Sir Louis Cavagnari) برطانوی ریزیڈنٹ (سفیر) بن کر کابل پہنچا اور کابل کے تاریخی قلعے ‘بالا حصار’ میں مقیم ہو گیا۔ انگریز سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی بڑی جنگ کے پورے افغانستان کو مسخر کر لیا ہے، لیکن یہ امن طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

معاہدے کے محض چند ماہ بعد ستمبر 1879 میں ہرات سے آنے والے افغان فوج کے چند ایسے دستے کابل پہنچے، جو گزشتہ کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم اور شدید معاشی تنگی کا شکار تھے۔ ان سپاہیوں نے قلعہ بالا حصار میں موجود امیر محمد یعقوب خان کے شاہی محل کا رخ کیا اور اپنی جائز بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

امیر یعقوب خان معاہدہِ گندمک کے بعد انگریزوں کے دباؤ میں اس حد تک آ چکے تھے کہ وہ برطانوی سفیر کی مرضی کے بغیر ملکی خزانے سے کوئی بڑی ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ جب امیر یعقوب نے رقم کی عدمِ دستیابی کا عذر پیش کرتے ہوئے لیت و لعل سے کام لیا تو ان فوجیوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ‘ان کی معاشی بدحالی اور اپنے ہی بادشاہ کی بے بسی کا اصل ذمے دار وہ برطانوی سفیر ہے، جو قلعے کے دوسرے حصے میں پوری فرعونیت کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔

ان فوجیوں کا غصہ ایک دم اپنے بادشاہ کے بجائے انگریزوں کی طرف مڑ گیا اور وہ مظاہرے کرتے ہوئے برطانوی سفارت خانے کے باہر جمع ہو گئے۔ اس انتہائی نازک اور جذباتی موقع پر برطانوی سفیر سر لوئس کیواگناری نے سفارتی دانش مندی دکھانے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کیا اور اپنے محافظوں کو نہتے افغانوں پر گولی چلانے کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں کچھ افغان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

اس گولی باری نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور افغانوں کے چھپے ہوئے غصے کو ایک دم لاوے کی طرح بھڑکا دیا۔ افغان فوج اور کابل کے غیور عوام نے اسے اپنی قومی و اسلامی غیرت پر حملہ سمجھا اور قلعہ بالا حصار پر دھاوا بول دیا۔ غصیلا ہجوم دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گیا اور ایک ہی دن کی خون ریز لڑائی میں برطانوی سفیر سر لوئس کیواگناری سمیت پورے انگریز وفد اور ان کے محافظوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

یہ واقعہ سلطنتِ برطانیہ کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ تھا، جس نے لندن سے لے کر کلکتہ تک برطانوی حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

لارڈ رابرٹس کی آمد اور امیر یعقوب خان کی معزولی:
جب کابل میں برطانوی سفیر کے قتل کی خبر برطانوی ہند پہنچی تو وائسرائے لارڈ لٹن نے فوری طور پر جنرل فریڈرک رابرٹس (General Frederick Roberts) کی قیادت میں ایک بھاری لشکر کابل روانہ کیا۔ انگریز فوج جدید توپ خانے کے ساتھ کابل میں داخل ہوئی اور انہوں نے قلعہ بالا حصار پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ جنرل رابرٹس نے کابل کے عوام سے بدلہ لینے کے لیے وحشیانہ اقدامات کیے۔ سیکڑوں افغان شہریوں کو سرِعام پھانسی دی گئی، کابل کے کئی بازاروں کو آگ لگا دی گئی اور پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا۔

اس تمام صورتِ حال میں بے بس ہو جانے والے امیر محمد یعقوب خان انگریزوں کی نظر میں بھی مشکوک بن چکے تھے۔ انگریزوں نے انہیں تخت سے معزول کر کے ہندوستان جلاوطن کر دیا۔ اب کابل پر براہِ راست برطانوی فوج کا قبضہ تھا، لیکن افغان قوم کو بندوق کے زور پر زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا تھا۔ غازیوں اور ملا مشکِ عالم جیسے مذہبی رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

افغان قبائل نے کابل کے اطراف میں انگریز فوج کی سپلائی لائنیں کاٹ دیں اور انہیں قلعہ بالا حصار میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا۔ جولائی 1880 میں ‘جنگِ میوند’ (Battle of Maiwand) کے مقام پر غازی ایوب خان کی قیادت میں افغانوں نے برطانوی فوج کے ایک بہت بڑے دستے کو بدترین اور تاریخی شکست دی، جس میں ‘ملالئی میوند’ نامی افغان خاتون کی شجاعت نے افغان فوج میں روح پھونک دی تھی۔ اس شکست نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ وہ افغانستان پر براہِ راست حکومت کبھی نہیں کر سکتے۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

قدیم اور جدید خوارج کے مابین فرق
خوارج العصر

قدیم اور جدید خوارج کے مابین فرق

نومبر 27, 2024
افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں
تبصرے و تحریرات

افغان عوام کے عزم کے خلاف ناکام کوششیں

جولائی 4, 2026
ہمارا دشمن ہم سے کیا چھین رہا ہے؟
تبصرے و تحریرات

ہمارا دشمن ہم سے کیا چھین رہا ہے؟

مئی 4, 2026
داعشی جنگجوؤں کا محرک
خوارج العصر

داعشی جنگجوؤں کا محرک

اگست 29, 2024
داعش؛ خوارج کی دوبارہ واپسی! تیسری قسط
تبصرے و تحریرات

داعش؛ خوارج کی دوبارہ واپسی! تیسری قسط

ستمبر 16, 2025
سچی پیروی کا نرالا انداز
تبصرے و تحریرات

سچی پیروی کا نرالا انداز

مئی 26, 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • ابطالِ امت
  • اداریہ
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • تبصرے اور تحریرات
  • خبریں
  • صفحہ اول
  • علماء
  • لائبریری
المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • خبریں
    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
  • ابطالِ امت
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔