فتحِ قسطنطنیہ سے پہلے سلطان محمد فاتح نے اپنے لشکریوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے انعامات تقسیم کیے اور شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔ فتح کا جشن تین دن تک جاری رہا؛ شہر خوشیوں، آرائش اور شوق سے جنت کا منظر پیش کر رہا تھا۔ سلطان خود سپاہیوں کو کھانا تقسیم کر رہا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’قوم کا بہترین سردار وہ ہے جو ان کا خادم ہو۔‘‘
ان خوشیوں کے درمیان سلطان کے روحانی استاد اور پیر، شیخ آق شمس الدین، جو ایک با وقار، متقی اور عاجز عالم تھے، کھڑے ہوئے اور لشکر کو پُرعزم لہجے میں خطاب فرمایا:
اے اسلام کے سپاہیو! جان لو اور یاد رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں فرمایا ہے: ’’لتفتحن القسطنطینیة على ید رجل، فلنعم الأمیر أمیرها، ولنعم الجیش ذلك الجیش‘‘
ترجمہ: قسطنطنیہ ضرور تمہارے ہاتھوں فتح ہوگا؛ کیا ہی بہترین امیر ہو گا اس کا امیر، اور کیا ہی بہترین ہوگا وہ لشکر!
اللہ کی رضا تلاش کرو، مالِ غنیمت کو فضول خرچی سے بچاؤ اور اسے شہر کے باشندوں کی خوشحالی پر صرف کرو۔ اپنے سلطان کی اطاعت کرو اور اس سے محبت رکھو۔
پھر شیخ نے سلطان کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
اے سلطان! تو نے تمام عثمانیوں کے سروں کو بلند کر دیا ہے، اللہ کرے تو ہمیشہ اس کی راہ کا مجاہد رہے۔
اس کے بعد زور سے تکبیر بلند کی۔
اسی وقت شیخ شمس الدین کو الہام کے ذریعے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزارِ مبارک کی جگہ معلوم ہوگئی، جو قسطنطنیہ کے دروازے کے قریب تھا۔ وہی پہلے شخص تھے جنہوں نے آیا صوفیا میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ شیخ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سلطان محمد فاتح اتنی عظیم کامیابیوں کے باعث تکبر کا شکار نہ ہو جائے۔
سلطان کو اپنے پیر سے بے پناہ محبت اور احترام تھا۔ فتح کے بعد اُس نے لوگوں سے کہا:
’’میری خوشی صرف اس قلعے کی فتح کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ میری اصل خوشی یہ ہے کہ میرے دورِ سلطنت میں ایسا عظمت والا شخص موجود ہے جیسا میرا پیر اور استاد، شیخ آق شمس الدین رحمہ اللہ۔‘‘
ایک موقع پر سلطان نے اپنے وزیر محمود پاشا سے کہا:
’’شمس الدین کے لیے میرا احترام غیر اختیاری ہے؛ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں تو میرے دل میں ان کا رعب اور دبدبہ بیٹھ جاتا ہے۔‘‘
کتاب البدر الطالع کے مصنف لکھتے ہیں:
’’فتح کے ایک دن بعد سلطان شیخ کے خیمے میں گیا۔ شیخ لیٹے ہوئے تھے اور سلطان کے آنے پر کھڑے نہ ہوئے۔ سلطان نے ان کا ہاتھ بوسہ دیا اور عاجزی سے کہا: ’’میں چاہتا ہوں آپ سے تنہائی میں بات کروں۔‘‘ شیخ نے انکار کر دیا۔ سلطان نے بار بار اصرار کیا مگر جواب وہی رہا۔
سلطان کچھ مایوس ہو کر بولا: ’’ایک عام ترک کے آنے پر آپ اسے خلوت دیتے ہیں، لیکن میں اتنا اصرار کرتا ہوں تو بھی مجھے اجازت نہیں دیتے؟‘‘
شیخ نے کمال بصیرت سے فرمایا:’’جب تم خلوت کی لذت چکھ لو گے تو سلطنت اور حکومت تمہاری نگاہوں میں بے قیمت ہو جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حکومتی معاملات بگڑ جائیں گے اور اللہ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔ ہماری اصطلاح میں خلوت کا مطلب ہے ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنا۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی سلطنت کے معاملات کو ان کے اصل مقام پر انجام دو۔‘‘
انہوں نے سلطان کو بہت نصیحتیں کیں۔ سلطان نے نذرانے کے طور پر ایک ہزار دینار پیش کیے مگر شیخ نے قبول نہ کیے۔ جب سلطان خیمے سے باہر نکلا تو اپنے ساتھی سے پوچھا: ’’کیا وجہ ہے کہ شیخ میرے آنے پر کھڑے نہ ہوئے؟‘‘
ساتھی مسکرا کر بولا: ’’شاید انہیں آپ میں خود پسندی کا ایک ہلکا سا اثر محسوس ہوا ہو، کیونکہ اتنی بڑی فتح کے بعد یہ کیفیت بادشاہ میں فطری طور پر آ جاتی ہے۔ شیخ نے چاہا کہ آپ کے نفس کے غرور کو توڑ دیں اور آپ کو خود پسندی کی غفلت سے بیدار کریں۔‘‘




















































