سلطان محمد فاتح کا انتقال اور مشرق و مغرب پر اس کے اثرات
ربیع الاول 886ھ (1481ء) میں سلطان قسطنطنیہ سے ایشیائے کوچک (اناطولیہ) کی جانب روانہ ہوئے، جہاں ایک اور عظیم لشکر جنگ کے لیے تیار کھڑا تھا۔ سلطان ابھی استنبول سے زیادہ دور نہیں نکلے تھے کہ ان کی طبیعت ناساز ہو گئی، لیکن جہاد سے بے پناہ محبت کی وجہ سے انہوں نے بیماری کی کوئی پروا نہ کی اور سفر جاری رکھا۔ انہوں نے خود لشکر کی قیادت سنبھالی۔ ان کا اصول یہ تھا کہ بیماری کی حالت میں بھی جنگی امور کی نگرانی کرتے رہتے تھے اور میدانِ جنگ کی سختیوں میں اللہ تعالیٰ انہیں بیماریوں اور تکالیف سے شفا عطا فرماتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ بیماری شدت اختیار کر گئی۔ اسلدار پہنچتے ہی وہ سفر کی مشقت سے نڈھال ہو کر گر پڑے۔ اطباء آئے، مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو چکا تھا اور کوئی علاج کارگر ثابت نہ ہو سکا۔
سلطان محمد فاتح اپنے لشکر کے ساتھ سفر ہی کی حالت میں، جمعرات کے روز، 5 ربیع الاول 886ھ، بمطابق 3 مئی 1481ء، اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر باون برس تھی اور وہ تیس سال سے زائد عرصے تک سلطنتِ عثمانیہ کی قیادت کرتے رہے۔
جب ان کی وفات کی خبر مشرق و مغرب میں پھیلی تو ایک درد ناک منظر سامنے آیا، جو عالمِ اسلام کے لیے ایک بہت بڑا نقصان تھا۔ عیسائیوں کے گھروں میں خوشیاں منائی گئیں اور گلیوں میں شکرانے کی عبادات شروع ہو گئیں کہ وہ ایسے ہیبت ناک دشمن سے نجات پا چکے تھے۔ سلطنتِ عثمانیہ کی فوجیں جنوبی اٹلی تک پہنچ چکی تھیں اور پورے اٹلی کو فتح کرنے کے قریب تھیں، لیکن سلطان کی وفات کی خبر نے پورے لشکر کے حوصلے پست کر دیے۔ مجبورا عثمانیوں نے نیپلز کے بادشاہ سے مذاکرات کیے تاکہ اپنی جان و مال کو محفوظ رکھتے ہوئے امن کے ساتھ واپس لوٹ سکیں۔ بظاہر مذاکرات کامیاب رہے، لیکن عیسائیوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور عثمانی فوج کے باقی ماندہ سپاہیوں کو قیدی بنا کر زنجیروں میں جکڑ دیا۔
جب سلطان کی وفات کی خبر روم پہنچی تو پوپ بے حد خوش ہوا اور اس نے گرجا گھروں کو کھولنے کا حکم دے دیا۔ تمام گرجا گھروں میں سجدۂ شکر ادا کیا گیا، گلیوں اور شاہراہوں کو سجایا گیا، تقریبات منعقد ہوئیں اور توپوں کی سلامی دے کر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ تین دن تک روم میں جشن منائے جاتے رہے۔ سلطان کی وفات کے ساتھ ہی عیسائی ایک ایسے عظیم خطرے سے بچ گئے جو ہمیشہ ان کے سروں پر ننگی تلوار کی طرح منڈلاتا رہتا تھا۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ سلطان اپنے لشکر کو کس سمت لے جانا چاہتے تھے۔ اس بارے میں لوگوں کی مختلف آراء تھیں۔ بعض کا خیال تھا کہ ان کا ارادہ جزیرۂ رودس کو فتح کرنے کا تھا، جسے ان کے سپہ سالار مسیح پاشا فتح نہ کر سکے تھے۔ جبکہ بعض کے نزدیک ان کا منصوبہ جنوبی اٹلی میں مزید پیش قدمی کا تھا، جہاں اسلامی افواج اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کر رہی تھیں، تاکہ اس کے بعد شمالی اٹلی، فرانس اور اسپین کو بھی فتح کیا جا سکے۔ یہ ایسا راز تھا جو سلطان کے سینے میں ہی دفن ہو گیا اور آج تک کوئی اس کی حقیقت جان نہ سکا۔




















































