5- دوستی اور دشمنی میں اعتدال
ایک اور اہم شعبہ جس میں اسلام نے اعتدال اور میانہ روی پر زور دیا ہے، وہ محبت اور نفرت، دوستی اور دشمنی کا میدان ہے۔ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ کبھی کسی سے دوستی اور محبت میں حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور افراط کا شکار ہو جاتا ہے، اور کبھی کسی سے دشمنی اور نفرت میں اعتدال کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ حالانکہ مقدس دینِ اسلام نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ دونوں صورتوں میں انصاف اور میانہ روی کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحبِب حَبيبَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا.»
(ترمذی، باب ما جاء في الاقتصاد في الحب والبغض، حدیث: 1997)
ترجمہ: "اپنے دوست سے اعتدال کے ساتھ محبت کرو، ممکن ہے کہ ایک دن وہ تمہارا دشمن بن جائے، اور اپنے دشمن سے بھی اعتدال کے ساتھ دشمنی رکھو، ممکن ہے کہ ایک دن وہ تمہارا دوست بن جائے۔”
یہ نبوی ہدایت واضح کرتی ہے کہ انسان کے جذبات اور احساسات اسے عدل و انصاف اور عقل و دانش کی راہ سے منحرف نہ کریں، کیونکہ ممکن ہے آج جو شخص محبت اور احترام کا مستحق ہو، مستقبل میں ایسا طرزِ عمل اختیار کرے کہ یہ تعلق بدل جائے، اور اسی طرح جس شخص سے آج اختلاف یا دشمنی ہو، بعید نہیں کہ وہ کل ایک مخلص اور قریبی دوست بن جائے۔
اسی طرح قرآنِ مجید بھی مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾
(المائدہ: 8)
ترجمہ: "کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کو چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
اس اصول کی بنیاد پر مسلمان نہ تو دوستی و محبت میں اس قدر غلو کرتا ہے کہ افراد کی تقدیس شروع کر دے، اور نہ ہی دشمنی و نفرت میں ظلم، بہتان، توہین اور زیادتی کو اپنا شعار بناتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانی تعلقات انصاف، حکمت اور اعتدال کی بنیاد پر استوار ہوں، تاکہ معاشرہ انتہاپسندی، اندھی عصبیت اور بے جا تنازعات سے محفوظ رہے۔
اسی لیے اسلام میں دوستی اور دشمنی خواہشاتِ نفس اور وقتی جذبات کے تابع نہیں، بلکہ عدل، اخلاق اور رضائے الٰہی کے دائرے میں منظم ہوتی ہیں، اور یہی اسلام کے اعتدال اور میانہ روی کے نمایاں مظاہر میں سے ایک ہے۔
افسوس کہ بعض ایسے گروہ، جو خود کو اسلام کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں، اپنی دشمنی میں اس قدر انتہا پسندی کا شکار ہو چکے ہیں کہ اسلام کی تمام تعلیمات اور ہدایات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔
وہ اپنے دشمنوں کی عورتوں، بچوں اور امان پانے والے افراد کو نہایت سفاکانہ اور گھناؤنے انداز میں قتل کرتے ہیں اور اپنے ان جرائم پر فخر بھی کرتے ہیں، حالانکہ ایسے تمام اعمال رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ اس نوعیت کی خلاف ورزیوں کی سینکڑوں دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔




















































