داعش کے قوانین؛ تلواروں اور قتل و غارت کی شریعت:
وہ قانونی نظام جو داعش نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں نافذ کیا تھا، دینی مفاہیم کی تحریف اور عوام کو مکمل طور پر کچلنے کے لیے ایک خوفناک مثال تھا۔ یہ قوانین جنہیں ’’اسلامی شریعت‘‘ کے نام پر پیش کیا جاتا تھا، درحقیقت دینی متون کی سطحی تعبیرات اور منظم تشدد کا ایک گمراہ کن امتزاج تھے، جن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہ تھا۔
داعش کا عدالتی نظام تین ستونوں پر کھڑا تھا: حدود کے احکام کی انتہا پسندانہ تفسیر، ان جرائم کی وسعت میں اضافہ جن کی سزائیں سخت تھیں، اور ملزم کے ہر قسم کے دفاعی حق کی کلی نفی۔ یہ دہشت کا نظام عدل کے قیام کے لیے نہیں بلکہ عوام میں رعب و وحشت پھیلانے کے لیے بنایا گیا تھا، اور معمولی سے معمولی مخالفت کو بھی نہایت سنگین سزاؤں سے کچل دیا جاتا تھا۔
داعش کی انتہا پسند صحرائی عدالتیں، جو اکثر عوامی مقامات پر لگائی جاتیں، اس گروہ کی طاقت کا ایک لرزہ خیز مظاہرہ تھیں۔ خودساختہ قاضی، جو اکثر ناتجربہ کار مگر متعصب افراد ہوتے، نہایت کم وقت میں فیصلے سناتے اور فوراً سزائیں نافذ کی جاتیں۔ معمولی چوری کے الزام میں مجرموں کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے، عورتوں کو ’’ناشائستہ رویے‘‘ کے الزام میں مجمع عام میں کوڑے مارے جاتے، اور داعش کی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی مخالفت کا انجام سزائے موت ہوتا۔
یہ قرونِ وسطیٰ کی سزائیں جو عوامی جگہوں پر دی جاتیں، محض دہشت اور خوف کی فضا قائم کرنے کے لیے تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ داعش کے رہنما خود ان سخت قوانین پر بالکل عمل نہ کرتے اور خفیہ طور پر ہر طرح کے جرائم میں ملوث رہتے۔
داعش کے تمام ظالمانہ قوانین میں سب سے وحشتناک ضوابط عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کے بارے میں تھے۔ عورتوں کو دوسرے درجے کے مخلوق تک گرا دیا گیا تھا، جنہیں اپنی زندگی میں کسی قسم کا اختیار حاصل نہ تھا۔ حجاب کے جبری قوانین اتنے سختی سے نافذ کیے گئے کہ عورتیں اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکنے کی بھی جرأت نہ کرتیں۔ داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ کم عمر لڑکیوں کی جبری شادیاں، یزیدی اور عیسائی عورتوں کی جنسی غلامی، اور عورتوں کے لیے تعلیم و روزگار پر مکمل پابندی، ان غیر انسانی قوانین کا ایک حصہ تھا۔
مذہبی اقلیتوں کو یا تو بھاری ٹیکس دینے پر مجبور کیا جاتا یا انہیں مکمل طور پر اپنے شہروں اور دیہاتوں سے نکال دیا جاتا۔ یہ نسل پرستانہ اور عورت دشمن پالیسیاں داعش کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتی تھیں کہ یہ ایک متعصب اور تشدد پر مبنی گروہ تھا۔ اگرچہ اس کی حکومت کو مذہبی رنگ دیا گیا تھا، مگر عملی طور پر یہ مکمل طور پر ایک انتہا پسند اور پرتشدد نظام تھا جس کا اسلامی اخلاقیات سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اس گروہ کے وسیع خفیہ اور سکیورٹی نیٹ ورکس عوام کی ہر حرکت اور رہائش گاہ کی نگرانی کرتے اور ذرا سے انحراف پر سخت سزائیں دیتے۔ اس دہشت گرد نظام میں عدل، رحمت اور انصاف جیسے تصورات کی کوئی جگہ نہ تھی، صرف جبر اور تشدد ہی غالب تھا۔
داعش کے قوانین معاشرے کی تنظیم کے لیے نہیں بلکہ ہر ممکنہ مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ یہی قانونی نظام بالآخر داعش کے زوال کے بڑے اسباب میں سے ایک بنا، کیونکہ اس نے عوام کی نفرت بڑھائی اور زیر تسلط آبادیوں کو اس گروہ کے خلاف مزاحمت پر مجبور کر دیا۔




















































