داعش کا فتنہ: وہ عمل جو اپنے ظہور کے ابتدائی دنوں میں بہت سے لوگوں کو امید دلاتا تھا، کہ شاید امت کی ظلمت بھری اور تاریک راتیں صبحِ روشن کی طرف بڑھ رہی ہیں اور کھویا ہوا وقار و عظمت واپس لوٹ آئے گی۔ لیکن، سب کے تصور کے برخلاف، جو داعش اپنے ساتھ لائی وہ کچھ اور ہی تھا۔
جی ہاں! داعش نہ صرف یہ کہ امت کا درد کم نہ کر سکی، بلکہ خود ایک عظیم درد میں تبدہ؛ ہو گئی اور امت کے زخمی جسم کو مزید چور کر دیا۔ حقیقتاً، اس گروہ کا انجام کیا ہوا؟ کیا وہ اپنے مقصد تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکے؟ کیا انہوں نے امت مسلمہ کو وہ آفات اور مصیبتوں سے نجات دلائی جس سے وہ نبرد آزما تھی؟ یا آخر کار ان کے ابتدائی نعروں کے علاوہ کچھ اور سامنے آیا؟
داعش نے شروع میں خلافت کے قیام اور امت مسلمہ نجات کے نعرے کے ساتھ اپنے وجود کا اعلان کیا، لیکن آخری برسوں میں وہ اسلام مخالف انٹیلی جنس قوتوں کا بہترین ذریعہ بن کر ان ہی کی طرف سے تجویز کردہ راہ پر چل پڑی۔
اگر ہم داعش کے نتائج کو اسلام کے دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل کے حوالے سے دیکھیں، تو یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنے تمام مقاصد کو بہترین طریقے سے عملی جامع پہنانے میں کامیاب ہوئے، بے گناہ مسلمانوں کے قتل سے لے کر مسلم ممالک کی تباہی تک، جہادی گروپوں کے خلاف جنگوں، پورے امت کو کافر قرار دینے، ربانی علماء کا قتل، امت کے نوجوانوں کی قربانی، اور کئی دیگر تباہیاں جو انہوں نے لائیں۔
لیکن اگر ہم ان کے نعرے اور مقصد کو دیکھیں جو انہوں نے آغاز کے دنوں میں بلند کی تھے، تو ہمیں کہنا چاہیے کہ ناکامی اور زوال کے سوا اس تحریک کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ بہت جلد ہی ان کی ساری عظمت اور طاقت صفر ہو گئی اور وہ تمام علاقے جو ان کے قبضے میں تھے، ایک ایک کر کے ان سے چھن گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کون سی وجوہات تھیں کہ داعش، حالانکہ خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتی تھی اور زمین پر حکومت کا نعرہ بلند کرتی تھی، توقعات سے کہیں زیادہ جلدی اپنی بنیادوں پر منہدم ہو گئی اور ان کے تمام خواب خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے؟
حالانکہ داعش مالی اور انسانی وسائل کے لحاظ سے کافی مضبوط تھی اور اس کی طاقت دیگر بہت سی جماعتوں سے زیادہ نظر آتی تھی، پھر بھی یہ خصوصیات اسے زوال سے نہیں بچا سکیں اور اس کے بقا کی ضمانت نہیں دے سکیں۔
اس تحریری سلسلے میں ہم کوشش کریں گے کہ حقائق کی بنیاد پر داعش کی ناکامی اور انٹیلی جنس طاقتوں کے ہاتھوں اس کی تبدیلی کی کچھ اہم وجوہات کو اجاگر کریں اور اس پر چند بنیادی نکات پیش کریں۔




















































