داعش؛ وہ گروہ جو انسانیت کے خلاف اور مذہبی نظریات سے تیار کیا گیا، ایک ایسی تحریک ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی چیز سے دریغ نہیں کرتی۔ یہ گروہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیے ہر چیز کو پامال کر دیتا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کی مختصر سی تاریخ میں دیکھا کہ ان کے لیے کوئی چیز قابلِ قدر نہیں اور خفیہ ایجنڈوں تک پہنچنے کے لیے کوئی چیز ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
مذہبی مقدسات پر حملے کا نظریہ اور خاص طور پر دیندار لوگوں کے اقدار پر یلغار، بہت کم وقت میں اس گروہ کی عالمی شہرت کا ایک بڑا سبب بنی۔ دیندار لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک دیگر نظریات اور عقائد کے مقابلے میں زیادہ سخت تھا، گویا وہ دین کا چہرہ مسخ کرنے اور لادینیت اور خدا انکاری کے گڑھ میں اپنی جگہ بنانے آئے تھے۔
داعش نے اپنی مختصر تحریک اور عمر میں اسلام کے خلاف کھلے اور چھپے حملے کیے، جن سے وہ اسلام کے پاک دامن کو بدنام کرنا اور اس مقدس دین کی عظمت کے لیے اپنی جان قربان کرنے والوں کو اس سے دور کرنا چاہتے تھے۔ داعش نے دہشت گردی اور وحشت پھیلا کر معاشرے کے لیے سیکولر عقائد تک رسائی کی راہ ہموار کی۔
جن علاقوں میں اس تاریک اور منحوس سایہ کی حکمرانی تھی، وہاں کے لوگ معاشرتی قیادت سے دور کر دیے گئے تھے۔ ایک بہت ہی قلیل تعداد لوگوں نے، بغیر کسی خاص قابلیت کے،عوام پر اپنی بالادستی قائم کر کے اور اپنی خود ساختہ طاقت کا بے قاعدہ اور غیر قانونی تسلط ہاتھ میں لے لیا۔
اس نظریے میں گویا سب غلام پیدا ہوئے تھے تاکہ وہ ان کے تاریک عقائد پر یقین رکھیں اور بغیر کسی اعتراض کے سب کچھ درست سمجھیں اور کسی بھی چیز پر شکایت یا ناراضی کا اظہار نہ کریں۔
کبھی کبھار اس بالادستی کا عقیدہ اس گروہ کے نظریے میں اتنا گہرا سایہ ڈالتا تھا کہ زمین پر موجود تمام انسان، جو ان کے نقطہ نظر سے مختلف شکلوں میں پہچانے جاتے تھے، انہیں اسلامی دائرے سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور وہ خود کو زمین پر واحد مسلمان سمجھتے تھے۔
داعش کے یہ حملے اور یلغار جو اسلام اور اسلامی عقائد کے خلاف کیے گئے، انہوں نے کسی حد تک غیر مسلموں کے ذہنوں میں اس پاکیزہ اور آمیزش سے پاک دین کی تعلیمات کے بارے میں رائے کو تبدیل کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اور حقانی علماء، اسلامی مفکرین اور مجاہدین کی آگاہی سے یہ رویہ عالمی سطح پر بے نقاب ہوا اور ختم ہو گیا۔
جب وہ اپنی طاقت اور تنظیم کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار تھے اور اپنے جنگی سازوسامان پر فخر کرتے تھے، فرعون کی طرح خدائی کا دعویٰ کرتے تھے، اسی دوران جانباز اسلامی مجاہدین نے دنیا میں ان کے بنائے ہوئے عقائد اور نظریات کو ختم کر دیا۔
فکری مجاہدین اور مبارزین اس میدان میں اتنا فعال تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے وہ تمام نظریات اور حملے جو داعش نے اسلام اور اس کے قیمتی عقائد کے خلاف کیے تھے، مکمل طور پر ختم ہو گئے اور حقیقت دنیا والوں کے سامنے عیاں ہو گئی۔




















































