داعش کا مستقبل؛ کیا واقعی داعش ختم ہو چکی ہے؟
عراق اور شام میں داعش کی ظاہری حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی اس نام نہاد خلافت کا تصور بھی ڈھیر ہوا۔ یعنی اس کا ظاہری ڈھانچہ اور اقتصادی وسائل تباہ ہوئے، اور اب ’’داعش‘‘ نامی کوئی گروہ اس قابل نہیں رہا کہ کسی مخصوص علاقے میں کھلے عام قتل و غارت، لوٹ مار اور دہشت گردی جاری رکھي؛ کیونکہ اس کا جھوٹا نقاب اتر چکا ہے اور اس کی اصل بھیانک صورت سب پر عیاں ہو گئی ہے۔
لیکن اس کے بعد اس گروہ کی خفیہ اور زیرِ زمین زندگی شروع ہوئی۔ آج داعش کسی اعلان شدہ ریاست کی حیثیت سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی خفیہ سیلوں کی صورت میں موجود ہے۔ اگرچہ اس گروہ کا آخری گڑھ ۲۰۱۹ء میں شام کے باغوز میں زمین بوس ہوا، لیکن ان کی تشدد پر مبنی خطرناک سوچ اب بھی تاریکیوں اور پوشیدہ جگہوں میں نمو پا رہی ہے، جس نے ان کے خلاف جدوجہد کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ اب حملے کے لیے کوئی مرکزی ہدف باقی نہیں رہا۔
یہ کہنا ضروری ہے کہ داعشی خوارج کی فکری باقیات ان کی عسکری باقیات سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ گروہ کامیاب رہا ہے کہ مجازی دنیا کے ذریعے اپنا زہریلا پیغام دنیا بھر کے ناراض اور بیزار نوجوانوں تک پہنچائے۔ وہ پروپیگنڈا ویڈیوز جو ایک زمانے میں عالمی سطح پر مشہور تھیں، اب چھوٹے پلیٹ فارمز اور خفیہ پیغامات کے ذریعے پھیلائی جاتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی جغرافیائی اقتدار سے ہٹاکر ’’مجازی انتہاپسندی‘‘ پر منتقل کرلی ہے۔ اب انہیں شہروں پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ مغرب میں تنہا اور مائل نوجوانوں کو متاثر کرکے حملوں پر اُکساتے ہیں۔ اس طرح، ان کے خلاف جدوجہد ایک نہایت پیچیدہ چیلنج بن گئی ہے۔
ایک بڑی تشویش کی بات شام اور عراق کے وہ مہاجر کیمپ ہیں جہاں داعش سے وابستہ ہزاروں خواتین اور بچے رکھے گئے ہیں۔ یہ کیمپ، جیسے کہ شام میں ’’الہول‘‘، انتہاپسند نظریات کی تبلیغ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایسے بچے جو اس ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں، دراصل خوارج کی اُس نئی نسل کی شکل اختیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں مختلف ملکوں کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اکثر مغربی ممالک نے اپنے ان شہریوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے جو داعش میں شامل ہوئے تھے، اور یہی بے اعتنائی مستقبل میں ایک بڑے سکیورٹی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں آج بھی وہی حالات موجود ہیں جنہوں نے کبھی داعش کو جنم دیا تھا: غربت، ناانصافی، کمزور حکومتیں اور سماجی عدل کی کمی۔ جب تک یہ عوامل برقرار رہیں گے، اس نوعیت کے گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کا راستہ کھلا رہے گا۔ تجربہ بتا چکا ہے کہ صرف تشدد اور طاقت کے ذریعے انتہاپسندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اس کی فکری اور سماجی جڑوں کا علاج ناگزیر ہے۔
داعش کے مستقبل کا نقشہ دو طرح سے کھینچا جا سکتا ہے: یا تو یہ ایک ذیلی گروہ کی شکل میں کبھی کبھار اچانک حملے کرے گا، یا پھر کسی مناسب موقع پر ایک تحریک کی حیثیت سے دوبارہ ابھر سکتا ہے۔ لیکن بلا تردد کہا جاسکتا ہے کہ داعش بطور ایک نظریہ اب بھی زندہ ہے۔ یہ ایک ’’عصری انحراف‘‘ ہے جو موجودہ دنیا کے بحرانوں سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ اس گروہ کی مکمل شکست کے لیے ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جو نہ صرف انتہاپسندی کا مقابلہ کرے بلکہ ان سماجی بیماریوں کا علاج بھی کرے جنہوں نے اس کے لیے زمین ہموار کی ہے۔




















































