دوم: داعش کے بارے میں عالمِ اسلام اور بعض معروف علمائے دین اور سیاست دانوں کی آراء
الف: ایران
1- ایران کے صدر حسن روحانی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا:
"داعش امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور امریکہ ہی کی پیداوار ہے۔”
تاریخ: 2014/9/24
2- ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا:
"داعش خطے میں عدم استحکام کی پیداوار ہے، جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وجود میں لایا۔”
تاریخ: 2015/10/6
انہوں نے یہ بات اپنی متعدد دیگر تقاریر میں بھی کہی ہے۔
3- آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا:
"داعش کو اسرائیل اور امریکہ نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے بنایا ہے۔”
تاریخ: 2014/ستمبر/21
4- ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کہتے ہیں:
"داعش کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں۔”
تاریخ: 2014/ستمبر
ب: شام
1- اقوامِ متحدہ میں شام کے نمائندے بشار الجعفری نے کہا کہ داعش امریکہ کی انٹیلی جنس، اس کے اتحادیوں اور دیگر عناصر کی پیداوار ہے۔
تاریخ: 2014/9/24
2- شام کے سابق صدر بشار الاسد نے کہا:
"داعش امریکہ کی پالیسیوں کی پیداوار ہے۔”
تاریخ: 2015/نومبر/19
ج: عراق
1- عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے 2014/جون/15 کو ذرائع ابلاغ میں کہا کہ موصل کا سقوط ایک بین الاقوامی سازش تھا۔
2- عراق کے مرجع اعلیٰ آیت اللہ علی السیستانی نے کہا:
"عراق میں عدم استحکام اور داعش کا وجود امریکہ اور مغربی ممالک کے ذریعے عمل میں آیا۔”
3- نجف کے معروف خطیب شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے کہا:
"عراق میں داعش کی ترقی کو امریکہ کی حمایت نے فروغ دیا۔”
تاریخ: 2014/6/25
د: افغانستان
امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنے ایک اعلامیے میں داعش کو امریکہ کی ایک انٹیلی جنس سازش قرار دیا، جسے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
ہ: داعش کے بارے میں عالمِ اسلام کے علماء، جہادی تحریکوں اور معروف سیاسی شخصیات کی آراء
1- معروف عالم یوسف القرضاوی کہتے ہیں:
"داعش کو بھڑکانے والی چیز دین نہیں، بلکہ مغرب کی داعش کی حمایت اور پشت پناہی ہے۔”
تاریخ: 2015/3/15
ماخذ: الجزیرہ کی سرکاری رپورٹ۔
2- سعودی عرب کے معروف عالم شیخ صالح الفوزان کہتے ہیں:
"داعش کو وہ سیاسی حالات فروغ دیتے ہیں، جو بیرونی مداخلتوں نے پیدا کیے ہیں۔”
تاریخ: 2014/12/8
ماخذ: سعودی خبر رساں ایجنسی۔
3- تونسی عالم اور مفکر راشد الغنوشی کہتے ہیں:
"مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسیوں نے داعش کے لیے راستہ ہموار کیا۔”
4- مراکش کے عالم شیخ عبداللہ بوطالب کہتے ہیں:
"داعش سیاسی انتشار کی پیداوار ہے، جسے امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے ہوا دی۔”
5- ترک عالم فتح اللہ گولن کہتے ہیں:
"داعش امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔”
6- جبہۃ النصرہ کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش امریکہ کی انٹیلی جنس کی پیداوار ہے۔”
7- الشباب صومالیہ کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش کی توسیع امریکہ کی اسٹریٹیجک مداخلت سے جڑی ہوئی ہے۔”
8- جماعت اسلامی کشمیر کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش امریکہ کی اسٹریٹیجک غلطیوں کا نتیجہ ہے۔”
9- تحریک طالبان پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش امریکہ کا ایک سیاسی آلہ ہے، تاکہ خطے کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔”
10- حرکت الانصار اسلام عراق کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش گروہ مغربی طاقتوں کی جانب سے وجود میں لایا گیا ہے۔”
11- حماس فلسطین کے اعلامیے میں کہا گیا:
"داعش ایک انتہا پسند اور گمراہ گروہ ہے، جس کا اسلام کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں، اور اسے اسرائیل اور امریکہ نے وجود میں لایا ہے۔”




















































