مغرب کا ایک اور مقصد داعش کے ذریعے اسلامی فکر کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کے درمیان اسے ناپسندیدہ بنانا تھا۔ چونکہ مسلمان نوجوان سامراجیت، جمہوریت اور سیکولرازم کے نظاموں سے سخت اکتا چکے تھے اور فکری طور پر اب یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان طاغوتی نظاموں کے سائے میں زندگی گزاریں، اس لیے مسلمانوں کی اکثریت اسلامی فکر کی طرف مائل ہو چکی تھی۔
اس کی ایک اچھی مثال مصر میں اخوان المسلمین کا ووٹوں کے ذریعے اقتدار میں آنا تھا۔ اسی طرح ترکی جیسے ایک سیکولر ملک میں بھی اسلامی فکر ایک بار پھر نوجوانوں کے درمیان تیزی سے فروغ پا رہی تھی۔ داعش کے اعمال اور اقدامات نے اس فکر کی نشوونما کو شدید طور پر سست کر دیا اور اسے ایسی صورتِ حال تک پہنچا دیا کہ اسلام پسندوں کے زیادہ تر دعوے کو کمزور کر دیا اور سیکولر عناصر کو اسلامی فکر کے خلاف بہت سا خام مواد فراہم کر دیا۔
داعش کے ظہور کے ساتھ عالمِ اسلام میں پیدا ہونے والے خطرناک نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ اسلام کے بعض اہم مفاہیم کے نام لوگوں کے ذہنوں میں ظلم، وحشت اور انتہا پسندی کے ساتھ جڑ گئے۔ داعش نے اسلام، جہاد، قتال، خلافت اور شریعت جیسی دینی اصطلاحات کو اپنی تشہیر میں بہت زیادہ استعمال کیا اور ان کے نام پر ایسے اقدامات کیے جو اسلام کے اخلاقی اور شرعی اصولوں سے واضح طور پر متصادم تھے۔
داعش کا سب سے بڑا پراپیگنڈہ اثر یہ تھا کہ اس نے اسلام کی سیاسی اور اجتماعی فکر کے بارے میں لوگوں کے درمیان شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا۔ جب ایک تنظیم ’’اسلامی ریاست‘‘، ’’خلافت‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کے نام لیتی ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں کو قتل کرتی ہے، قیدیوں کو وحشیانہ انداز میں پھانسی دیتی ہے، انسانوں کو آگ میں جلاتی ہے، عبادت گاہوں اور تاریخی آثار کو تباہ کرتی ہے اور اپنے مخالفین کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کرتی ہے، تو یہ فطری ہے کہ نادان اور کم علم لوگ ان اقدامات اور اسلام کی اصل تعلیمات کے درمیان فرق نہ کر سکیں۔
جب داعش نے جہاد اور اسلامی فکر کے نام پر بے گناہ لوگوں کے قتل اور وحشیانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا تو اس نے جہاد اور اسلامی فکر کے اصل مفہوم اور داعش کے اقدامات کے درمیان لوگوں کے ذہنوں میں دانستہ الجھن پیدا کر دی۔ وہ تصور جس کے اسلام کے شرعی نظام میں اپنے شرائط، حدود اور اخلاقی اصول ہیں، داعش کی تشہیر میں بے لگام تشدد کی تصویر کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔
عالمِ اسلام کے نوجوانوں نے جب داعش کا رویہ اور اس کے اقدامات دیکھے تو ان کی اکثریت نے یہی سمجھا کہ یہی اسلامی نظام ہے، جس میں قتل، ظلم اور بربریت کے سوا کچھ نہیں۔ داعش نے اپنے پورے دور میں ایک دن کے لیے بھی عفو و ترحم کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی مسلمانوں کی آبادکاری اور ترقی کی بات کی۔ داعش کی تمام تشہیر اور عملی کارروائیاں صرف ظلم اور سخت الفاظ پر مبنی تھیں۔
اسی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت کے نوجوانوں نے اسلامی فکر سے منہ موڑ لیا۔ داعش کے اقدامات نے مسلمانوں کو ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار کر دیا کہ اسلام پسند اور اسلامی فکر مغرب کے سامنے قصور وار ہیں، اور اگر مغرب اسلامی فکر اور اسلام پسندوں کو کچلتا ہے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ یہ فکر پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ چنانچہ مغرب نے کھل کر تمام اسلام پسندوں کے خلاف اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔




















































